Tuesday, 20 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Inhen Hamesha Ke Liye Rehayi Mil Gayi

Inhen Hamesha Ke Liye Rehayi Mil Gayi

انہیں ہمیشہ کے لیے رہائی مل گئی

حیات و موت کے درمیان فاصلہ کتنا مختصر ہے، اس کا اندازہ مجھے اُس وقت ہوا جب فیس بک اسکرول کرتے ہوئے اچانک ملک کے معروف خطاط اور ڈیزائنر ارشد خرم صاحب کی ایک پوسٹ نظر سے گزری۔ انہوں نے اپنا ڈیزائن کردہ ایک خوب صورت ٹائٹل شیئر کیا تھا اور لکھا تھا کہ کتاب یا میگزین کے ٹائٹل کے لیے ان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ابھی اس پوسٹ کو لائک ہی کیا تھا کہ اگلی ہی خبر ان کی وفات کی آ گئی۔ شدید جھٹکا لگا، بے حد رنج ہوا اور لمحہ بھر کو یوں محسوس ہوا جیسے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ہو۔ اِنّا للہ و اِنّا الیہ راجعون۔

ارشد خرم صاحب ایک معروف ڈیزائنر اور پاکستان میں جدید خطاطی کے موجدین میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے روایتی خوش نویسی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا اور ایسے اچھوتے خطوط تخلیق کیے جو کثیرالاشاعت میگزینوں، اخبارات اور رسائل کی زینت بنتے رہے۔ ان کے قلم سے نکلی ہوئی سرخیاں اور ٹائٹلز اپنی انفرادیت کے باعث دور سے پہچان لیے جاتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنے فن کو جِلا بخشی، بلکہ متعدد شاگرد بھی تیار کیے۔

روزنامہ اسلام کے ساتھ وہ شاید دو دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے تک وابستہ رہے۔ میری ان سے رفاقت کے دن روزنامہ اسلام کراچی سے وابستہ ہیں۔ وہاں میرے سات آٹھ برس گزرے۔ میگزین اور اسلامی صفحات کی تیاری کی خاصی ذمہ داریاں مجھ پر تھیں، جبکہ ان صفحات کی سرخیاں ارشد خرم صاحب لکھا کرتے تھے۔ ان کے ساتھ گزری ہوئی وہ طویل نشستیں، گفتگو اور گپ شپ آج بھی ذہن کے پردے پر نقش ہیں۔

وہ کئی دہائیوں سے صحافت سے وابستہ تھے اور اسلامی صحافت کے ارتقائی سفر کے عینی شاہد تھے۔ وہ ہمیں اُن دنوں کے قصے سنایا کرتے جب کمپیوٹر کا نام و نشان تک نہ تھا اور پورے پورے اخبارات قلم سے لکھے جاتے تھے۔ ہفت روزہ ضربِ مومن، روزنامہ اسلام اور بچوں کا اسلام اور خواتین کا اسلام جیسے جرائد ان کی آنکھوں کے سامنے پروان چڑھے، بلکہ وہ اس سے بھی پہلے صحافت کے میدان میں سرگرم ہو چکے تھے۔

ارشد خرم صاحب کی محبتیں میرے کالم کے عنوان "سرِ نہاں " اور اس کے لوگو پر تحریر کیے گئے میرے نام عابد محمود عزام کی صورت میں نمایاں ہیں۔ میری کتاب کے سرورق پر لکھا عنوان "سرِ نہاں" اور میرا نام بھی ارشد خرم صاحب کے قلم کے مرہونِ منت ہیں۔

میں 2016ء میں کراچی سے لاہور منتقل ہوگیا، اس کے بعد ارشد خرم صاحب سے ملاقات نہ ہو سکی۔ وہ بھی کچھ سال پہلے کراچی سے ملتان منتقل ہو گئے تھے۔ البتہ وقتاً فوقتاً ان سے بات چیت ہو جاتی تھی۔ وہ فیس بک پر میری تحریروں پر رائے دیتے، کبھی حوصلہ بڑھاتے اور کبھی شکوہ بھی کر لیتے۔ جب میں نے روزنامہ اسلام کے پرانے ساتھیوں چچا عبدالواحد اور چچا فضل الرحمن کی وفات پر تحریر لکھی تو ارشد خرم صاحب نے ایک عجیب سی فرمائش کی۔ انہوں نے مجھے میسج کیا: "اچھا لکھا ہے، میرے مرنے پر بھی کچھ لکھو گے؟ پتہ نہیں مجھے اچھا لکھو گے یا برا؟" میں نے ہنستے ہوئے بات ٹالنا چاہی کہ موت کا وقت تو اللہ ہی جانتا ہے، کیا پتہ کون کب دنیا سے رخصت ہو جائے، مگر وہ بضد رہے کہ میں جواب دوں۔ میں نے کہا: "آپ اچھے انسان ہیں، جو بھی آپ کے بارے میں لکھے گا، اچھا ہی لکھے گا۔ " آج جب میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو ان کا وہ اصرار یاد کرکے دل بھر آیا ہے۔

ملتان میں قیام کے بعد ان کی باتوں میں ایک عجیب سی اداسی اور تنہائی جھلکنے لگی تھی۔ شاید قریبی دوستوں کی جدائی نے انہیں اندر سے توڑ دیا تھا۔ وہ فیس بک پر اپنے پرانے دوستوں کو اکثر یاد کرتے رہتے تھے۔ ابھی چند دن پہلے ہی انہوں نے اپنی تصویر کے ساتھ لکھا تھا: "قیدِ بامشقت کے 65 سال مکمل ہو گئے، کتنی سزا باقی ہے، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ "

آج قدرت نے انہیں اس قیدِ بامشقت سے ہمیشہ کے لیے رہائی عطا کر دی۔ ان کی سزا ختم ہوئی اور وہ اپنے خالقِ حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔ ارشد خرم صاحب کا فن اب ہماری کتابوں، رسالوں اور یادوں میں زندہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

Check Also

Kya 1979 Mein Iran Ke Islami Inqilab Ke Peeche France Ka Hath Tha?

By Syed Jawad Hussain Rizvi