Doctor Molana Fazal Ur Rehman
ڈاکٹر مولانا فضل الرحمٰن

مولانا فضل الرحمٰن کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری ملنا یقیناً ایک اعزاز ہے۔ دنیا بھر میں جامعات علمی، فکری، مذہبی، سماجی اور سیاسی خدمات انجام دینے والی شخصیات کو اعزازی ڈگریوں سے نوازتی ہیں اور علماء سمیت مختلف شعبوں کی بے شمار معتبر شخصیات اس اعزاز سے سرفراز ہو چکی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن سے سیاسی اختلاف کسی کو بھی ہو سکتا ہے اور اختلاف اپنی جگہ ایک فطری اور جائز امر ہے، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مولانا اپنے طویل دینی و سیاسی سفر، وسیع پارلیمانی تجربے اور مذہبی سیاست میں منفرد مقام کے باعث اس کیٹیگری اور میرٹ پر پورا اترتے ہیں۔ وہ ایک منجھے ہوئے اور تجربہ کار سیاست دان ہیں۔
البتہ اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان کو سنجیدگی، احتیاط اور فکری ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بدقسمتی سے جمعیت کے کچھ کارکنان مولانا کے لیے اعزازی ڈگری کی آڑ میں حسبِ روایت دیگر علماء کے خلاف بداخلاقی، الزام تراشی اور بدتہذیبی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جو کسی طور درست نہیں۔ بعض کارکنان یہ بیانیہ پیش کررہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی بات ماننے کے بجائے اپنی آزاد سوچ اور نظریے کے تحت سیاست کی، جبکہ دیگر علماء ہر دور میں ہر طاقت کو سلام کرتے رہے۔ گویا ہمیشہ اپنے ایک نظریے پر قائم رہنے کی وجہ سے انہیں اعزاز ملا۔ یہ دعویٰ نہ صرف یک طرفہ ہے، بلکہ فکری بددیانتی کا بھی مظہر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو بھی مختلف ادوار میں اسٹیبلشمنٹ نے پسند کیا، ضرورت پڑنے پر استعمال کیا اور مولانا خود بھی اس سیاسی عمل کا حصہ رہے۔ اس حقیقت سے انکار محض اپنے کارکنان کو خوش فہمی میں مبتلا رکھنے کے مترادف ہے۔ مزید یہ کہ مولانا فضل الرحمٰن کو یہ اعزازی ڈگری اس بنیاد پر نہیں دی گئی کہ وہ آج کل اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، بلکہ اعزازی ڈگریاں جامعات کی جانب سے مجموعی خدمات کے اعتراف میں دی جاتی ہیں۔ گورنر سندھ کے ہاتھوں سرسید یونیورسٹی سے مولانا فضل الرحمٰن کو ملنے والی اعزازی پی ایچ ڈی کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے گویا یہ کسی مخصوص نظریاتی گروہ کی فتح ہو، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جامعات اعزازات شخصیات کی مجموعی علمی، سماجی اور فکری خدمات کے اعتراف میں دیتی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جن ہاتھوں نے آج مولانا فضل الرحمٰن کو اعزاز دیا ہے، انہی ہاتھوں نے ماضی میں ان اکابر علماء کی تعظیم و توقیر بھی کی ہے جن پر آج جمعیت علمائے اسلام کے بعض کارکنان تنقید کر رہے ہیں۔
یہ مفروضہ بھی سراسر غلط ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو عزت مل رہی ہے اور وہ علماء جنہوں نے اسلامی اور دینی فکرکے فروغ کے لیے جامعات قائم کیں اور خاموشی سے دین کی خدمت کی، انہیں عزت نصیب نہیں ہوئی۔ عزت کسی ڈگری یا اعزاز کی محتاج نہیں۔ عزت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ بے شمار علماء آج بھی خاموشی کے ساتھ دین کی خدمت کر رہے ہیں، اسلامی تعلیمات کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی خدمات کسی سیاسی شور شرابے کی محتاج نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان تعصب، جذباتیت اور گروہی تنگ نظری سے باہر نکلیں اور یہ سمجھیں کہ مولانا فضل الرحمٰن کا دفاع دوسرے علماء کی تحقیر کے بغیر بھی ممکن ہے۔ دینی قیادت کا وقار بدزبانی، الزام تراشی اور نفرت سے نہیں، بلکہ حلم، برداشت، اخلاق اور فکری دیانت سے قائم رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مذہبی و سیاسی کارکنان کو عقل، توازن اور انصاف کی توفیق عطا فرمائے۔

