Wednesday, 14 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Deeni Madaris Mein Mazhabi Siyasat Ka Zeher

Deeni Madaris Mein Mazhabi Siyasat Ka Zeher

دینی مدارس میں مذہبی سیاست کا زہر

معاملہ محض جامعۃ الرشید یا کسی ایک دینی ادارے تک محدود نہیں، اصل مسئلہ اس مجموعی رویے کا ہے جس کے تحت دینی مراکز، مدارس اور علمی اداروں کو سیاسی مفادات، ذاتی تعصبات اور نفرت کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف سطحی، تنگ نظر اور متعصبانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ اس تلخ حقیقت کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ دین و شریعت سے محبت کے بلند بانگ دعوے رفتہ رفتہ کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جامعۃ الرشید ہو یا کوئی اور دینی ادارہ، کوئی بھی انسانی ادارہ خامیوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ اختلافِ رائے، تنقید اور اصلاح کسی بھی زندہ معاشرے کی علامت ہوتے ہیں، مگر تنقید کے بھی آداب ہوتے ہیں۔ اخلاق سے عاری زبان میں کی جانے والی الزام تراشی نہ تنقید کہلا سکتی ہے اور نہ اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہ طرزِ عمل دراصل اخلاقی دیوالیہ پن، فکری بانجھ پن اور ذہنی بوکھلاہٹ کا اظہار ہے۔

مولانا فضل الرحمان ایک سینئر، تجربہ کار اور بڑے بزرگ مذہبی سیاسی رہنما ہیں۔ انہیں اپنے منصب، عمر اور تجربے کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ قیادت کا مقام یہ تقاضا کرتا ہے کہ رہنما کا طرزِ عمل کارکنوں سے بلند تر ہو، نہ یہ کہ وہی سطحی زبان، وہی جگتیں اور وہی لب و لہجہ اختیار کیا جائے جو عام کارکنوں کی پہچان بن چکا ہو۔ اگر واقعی دینی اداروں اور مذہبی شخصیات سے خلوص پر مبنی محبت ہو تو اختلاف کے باوجود ہر اس ادارے اور ہر اس شخصیت کا احترام ملحوظ رکھا جاتا جو کسی نہ کسی درجے میں دین کی خدمت انجام دے رہی ہے، مگر عملی صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہ تاثر دن بدن مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام اور اس کی قیادت کے نزدیک علماء اور دینی اداروں کا احترام مشروط ہے۔ جب تک کوئی عالم یا ادارہ ان کی سیاسی لائن پر چلتا رہے، قابلِ تعظیم ہے، مگر جونہی اختلاف کی جرأت کرے، اس کی علمی حیثیت، اخلاقی وقار حتیٰ کہ دستار بھی محفوظ نہیں رہتی۔ ماضی میں بھی متعدد مواقع پر اختلاف رکھنے والے جید اور معتبر علماء کو علمی محاذ کے بجائے اخلاقی محاذ پر نشانہ بنایا گیا، جو ایک نہایت افسوس ناک روایت ہے۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ جو جماعت دہائیوں سے مذہب کے نام پر سیاست کرتے ہوئے ایک ہی خاندان کے مفادات کے گرد گھومتی رہی، وہ اس طویل عرصے میں دینی فکرکے فروغ کے لیے عملی سطح پر کیا قابلِ ذکر خدمات انجام دے سکی؟ صرف مذہب کے نام پر نعرے بازی تو ان کی ذمہ داری نہیں۔ نہ کوئی مضبوط عصری تعلیمی ادارہ قائم ہو سکا، نہ کوئی معیاری اخبار یا فکری رسالہ، نہ کوئی سنجیدہ تھنک ٹینک، کالج یا یونیورسٹی وجود میں آ سکی۔ اس کے باوجود دوسروں کی علمی و تعلیمی کاوشوں پر طنز، بہتان اور کردار کشی کا رویہ اختیار کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ جب کوئی دینی ادارہ ملک بھر کے مدارس کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک آئینی اور قانونی ذمہ داری ادا کرتا ہے تو اسے "ڈمی"، "کوٹھا"، "خواجہ سرا" اور دیگر نازیبا القابات سے نوازنا محض بدتہذیبی نہیں، بلکہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اختلاف اب علمی دائرے سے نکل کر ذاتی عناد اور سیاسی مفاد کی نچلی سطح تک جا پہنچا ہے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان میں اگر کسی دینی ادارے نے سنجیدہ اور منظم کوشش کے ذریعے الغزالی یونیورسٹی جیسے معیاری تعلیمی منصوبے کی بنیاد رکھی، تاکہ طلبہ کو باوقار دینی ماحول میں جدید اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آ سکیں تو اسے ایک علمی پیش رفت کے طور پر سراہا جانا چاہیے تھا، مگر بدقسمتی سے اس اقدام کو حسد، الزام تراشی اور ذاتی مفادات کی عینک سے دیکھا گیا۔ ایسی کوششوں کو بدنام کرنا دراصل دینی تعلیم کی ترقی اور ہزاروں طلبہ کے مستقبل کے خلاف کھلی سازش کے مترادف ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جمعیت علمائے اسلام اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کی بنیاد پر بعض علماء اور دینی اداروں پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہی ہے، حالانکہ اس جماعت کا اسٹیبلشمنٹ سے تعلق کوئی نیا نہیں۔ مختلف ادوار میں یہی جماعت نہ صرف معاون رہی، بلکہ بعض مواقع پر بی ٹیم کا کردار بھی ادا کرتی رہی اور یہ معاونت تاحال جاری ہے، لیکن کارکنوں کو اسٹیبلشمنٹ مخالفت کے نعروں سے جذباتی کیا جاتا ہے۔

مدارس کے طلبہ کا سیاست میں حصہ لینا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں، مگر جمعیت علمائے اسلام کی وفاقی سطح پر اجارہ داری نے مدارس کے ماحول میں فکری وسعت کے بجائے تعصب، نفرت اور الزام تراشی کو فروغ دیا ہے۔ اختلاف رکھنے والے علماء اور اداروں کی دستار کارکنوں کی بدزبانی سے محفوظ نہیں رہی۔ اس رویے نے علمی فضا کو متاثر کیا، تربیتی توازن بگاڑا اور طلبہ کے وہ اخلاقی مواقع محدود کر دیے جو کبھی دینی مدارس کا امتیاز سمجھے جاتے تھے۔ تقاریبِ ختمِ بخاری جیسی روحانی و علمی محافل، جہاں کبھی کردار سازی، فکری پختگی اور عملی زندگی کے اصول سکھائے جاتے تھے، آج سیاسی نعروں اور نفرت انگیز جملوں کی نذر ہوتی جا رہی ہیں۔ ان مقدس محافل میں جگتیں لگانا اور طلبہ کے اذہان میں علماء کے خلاف نفرت بھرنا نہ صرف تعلیمی بددیانتی ہے، بلکہ ایک عظیم دینی امانت میں کھلی خیانت بھی ہے۔ اگر دینی اداروں کا وقار، علماء کا احترام اور طلبہ کا مستقبل واقعی عزیز ہے تو اس طرزِ فکر اور رویے کا سنجیدگی سے محاسبہ ناگزیر ہے، ورنہ یہ زوال کسی ایک جماعت تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پورے دینی و علمی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

Check Also

Karachi Airport Par Abbottabad Ka Nadeem

By Rauf Klasra