Akabir Ke Chiragh Bujhte Ja Rahe Hain
اکابر کے چراغ بجھتے جا رہے ہیں

سرپرستِ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ، مولانا فضل الرحیم صاحب رحمہ اللہ کے انتقال کی خبر نے دینی و علمی حلقوں کو سوگوار کر دیا ہے۔ یہ سانحہ محض ایک فرد کی وفات نہیں، بلکہ علم، وقار، تربیت اور روایت کے ایک پورے باب کے بند ہو جانے کا اعلان ہے۔ ایسی بزرگ شخصیات کے رخصت ہو جانے سے جو خلا پیدا ہوتا ہے، وہ صدیوں پر محیط اثرات رکھتا ہے۔
مولانا فضل الرحیم صاحبؒ کی پوری زندگی علمِ دین کی خدمت، تدریس، دعوت، اصلاحِ امت اور طلبہ کی فکری و اخلاقی تربیت کے لیے وقف رہی۔ وہ ان خوش نصیب اہلِ علم میں سے تھے جنہوں نے اکابر کا زمانہ دیکھا، ان کی صحبت پائی اور انہی کی تربیت میں علمی و فکری بلوغت حاصل کی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی شخصیت میں اعتدال، وقار، بصیرت اور روایت کی مضبوط جھلک نمایاں تھی۔ ان کا اندازِ تخاطب نہایت دل نشین تھا، سامعین دل سے انہیں سنتے اور چاہتے کہ یہ سلسلہ یونہی قائم رہے۔ دینی و علمی حلقوں میں آپ ایک معتبر مرجع، صاحبِ رائے اور صاحبِ فراست عالم کے طور پر جانے جاتے تھے۔
اصل المیہ یہ نہیں کہ ایک بزرگ ہم سے جدا ہوگیا، کیونکہ جانا تو سب نے ہے، بلکہ اصل تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ایسے بزرگ یکے بعد دیگرے رخصت ہوتے جا رہے ہیں اور زمانہ اہلِ علم سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ وہ شخصیات جو براہ راست اکابر کی فیض یافتہ تھیں، جنہوں نے علم کو محض کتابی ورثہ نہیں، بلکہ ایک عملی امانت سمجھ کر آگے منتقل کیا، آہستہ آہستہ ہم سے جدا ہو رہی ہیں۔ معاشرہ ان ہستیوں سے محروم ہوتا جا رہا ہے جو فکر کی درست سمت متعین کرنے، اعتدال سکھانے اور فتنوں کے اس دور میں امت کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ گزشتہ چند برسوں پر نگاہ ڈالیں تو دل بے اختیار افسردہ ہو جاتا ہے۔ بڑی بڑی دینی و اصلاحی شخصیات یکے بعد دیگرے پردۂ خفا میں جا چکی ہیں۔
احادیثِ نبویہﷺ کے مطابق علم یوں نہیں اٹھایا جاتا کہ لوگوں کے سینوں سے کھینچ لیا جائے، بلکہ علماء کو اٹھا کر علم کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ آج ہم اس حدیث کا عملی منظر اپنے زمانے میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اہلِ علم کے اٹھ جانے کے اثرات معاشرتی تربیت، فکری توازن اور دینی بصیرت کی کمی کی صورت میں نمایاں ہو رہے ہیں۔ اکابر علمائے کرام کی زندگیاں ہمارے لیے ایک خاموش مگر گہرا پیغام چھوڑ گئی ہیں کہ علم صرف نصاب پڑھا دینے کا نام نہیں، بلکہ کردار سازی، فکر کی تہذیب اور امت کی اجتماعی رہنمائی کا نام ہے۔ ان کی وفات ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ اگر اکابر کی روایت، ان کی بصیرت اور ان کا توازن نئی نسل تک منتقل نہ ہو سکا تو یہ خلا واقعی کبھی پُر نہیں ہو سکے گا۔
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا فضل الرحیم صاحب رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اکابرین کی علمی و روحانی برکات سے ہمیں بحیثیتِ مجموعی محروم نہ فرمائے۔ ساتھ ہی ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم اکابر کے چھوڑے ہوئے علمی، اخلاقی اور فکری ورثے کی حفاظت کر سکیں۔ یہی ان کے لیے بہترین خراجِ عقیدت ہے۔

