Thursday, 18 April 2024
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Aasim Irshad/
  4. Jeet Ka Formula

Jeet Ka Formula

جیت کا فارمولہ

اس نے زندگی میں تین بڑی مشکلات کا سامنا کیا جس میں پہلی یہ کہ وہ کبھی ہائی اسکول نہیں گیا وہ بہت کم پڑھا لکھا تھا اس نے زمین پر گرے اخبارات کے صفحات اکھٹے کر کے پڑھنا سیکھا، لیکن ایک وقت ایسا آیا کہ امریکہ کی آدھی یونیورسٹیوں میں اس کی تحاریر اس لیے پڑھی جاتی تھیں کہ وہ اعلیٰ تحریر کے مثالی نمونے تھے، 15 سال کی عمر میں وہ اتنا بیمار ہوا کہ ڈاکٹروں کو لگا شاید یہ اب زندہ نہ رہ سکے انہوں نے اسے ٹیکساس بھیج دیا جہاں جا کر اس کی حالت سنبھل گئی اس نے وہاں پر بھیڑوں کی دیکھ بھال کا کام شروع کر دیا وہ صبح سے شام تک بھیڑوں کو چراتا ان کے لیے پانی کا انتظام کرتا وہاں سے اسے تھوڑا بہت معاوضہ ملتا جس سے اس نے شادی کر لی شادی کے بعد اس کے ہاں ایک بیٹے اور بیٹی کی پیدائش ہوئی، وہ اسی رانچ میں نوکری کرتا رہا، اور آج جب سیاح موٹروں میں بیٹھ کر کئی میل کا سفر طے کر کے وہ رانچ دیکھنے آتے ہیں تو قریب پہنچ کر وہ موٹروں سے اتر کر اپنے جوتے اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیتے ہیں اور اس جگہ ادب و احترام سے پیدل چکر لگاتے ہیں جہاں کبھی او ہنری بھیڑیں چراتا تھا، اور ہنری کی تیسری بد قسمتی یہ تھی کہ اسے جیل جانا پڑا، ہیوسٹن میں اس نے ایک بینک میں خزانچی کی ملازمت کر لی وہاں کے گلہ بان اور کاؤ بوائے بینک آتے اپنی مرضی سے پیسے اٹھاتے اور رسید بنا کر چلے جاتے جس میں کچھ غبن بھی کر جاتے تھے ایک دن بینک کا محاسب وہاں آیا اس نے حساب کیا ایک روپیہ کم نکلا اس نے ہنری کو بلایا اور پوچھا ہنری نے لاعلمی کا اظہار کیا محاسب نے ہنری کو پولیس کے حوالے کردیا عدالت میں کیس چلا ہنری کو تین سال کی سزا ہو گئی اس وقت تو ہنری کے لیے یہ بہت برا وقت تھا لیکن بعد میں یہی وقت ہنری کی مقبولیت کا سبب بنا۔

ہنری جیل گیا تو بیوی بچے اکیلے رہ گئے ہنری نے جیل میں کہانیاں لکھنا شروع کر دیں جس کا اسے تھوڑا بہت معاوضہ مل جاتا ہنری نے ان سالوں میں کئی کہانیاں اور بہترین افسانے تحریر کیے جن کی بدولت آج بھی ہنری کا نام زندہ ہے اور ہم آج بھی او ہنری کے افسانے پڑھتے ہیں اس کے افسانوں میں ایک الگ چاشنی تھی لوگ پڑھنے بیٹھتے تھے تو اسے پڑھتے چلے جاتے تھے وہ جیل سے رہا ہوا تو اتنا مقبول تھا کئی یونیورسٹیوں نے اسے اپنے پاس بلایا کہ وہ بچوں کو لکھنے کی اہمیت بتائے اور لکھنے کی تربیت دے، جس جیل میں ہنری قید تھا آج بھی اس جیل میں لکھنے کے شوقین اتنے قیدی ہیں کہ جیل حکام کو جیل کے اسکول میں افسانہ نویسی کا مفت کورس شروع کروانا پڑا جس سے کئی قیدیوں نے اپنا نام پیدا کیا۔

ہنری کی زندگی کے یہ تین اہم واقعات تھے جن کو پڑھ کر کوئی بھی عام شخص ہمت ہار بیٹھے لیکن او ہنری نے جد وجہد جاری رکھی اور تاریخ میں امر ہو گیا، میں نے ہنری کی زندگی کو پڑھا اور تجزیہ کیا کہ ہم اتنے کامیاب کیوں نہیں ہوتے تو اس کی چند بڑی وجوہات سامنے آئیں جن میں پہلے نمبر پر ہماری سوچ ہے، لاطینی کہاوت ہے کہ "اگر تم اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہو تو سب سے پہلے تمہیں اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا" اور ہم پرہماری منفی سوچ اتنی زیادہ حاوی ہے کہ ہم اس میں مثبت بات کر ہی نہیں پا رہے، کہتے ہیں کہ بڑی سوچ کا مالک بڑے کام کرتا ہے جب ہم اپنی سوچ ہی چھوٹی رکھیں گے جب کسی گاؤں کے لوگ یہ سوچیں گے ہم گاؤں کے لوگ بڑے سادہ لوح ہیں شہر کے لوگ ہمارے ساتھ فراڈ کریں گے اس لیے ہم گاؤں میں رہتے ہوئے مونگ پھلی کی ریڑھی لگا لیں گے ہمارا گزارہ ہو جائے گا تو ہم کیسے بڑا کام کر سکتے ہیں جب ہم اپنے ہی لوگوں پر اعتبار نہیں کر پا رہے تو ہم کیسے دنیا کے سامنے خود کو پیش کریں گے ہماری سوچ ہی منفی ہے تو ہم اچھا کام کر ہی نہیں سکتے دنیا میں آج تک جو بھی کام ہوا وہ سوچ سے ہوا ہے، آخر کسی نے سوچا ہو گا نا کہ بلب ہونا چاہیے آج دیکھیں ہر جگہ بلب روشن ہیں ہر چیز سوچ سے شروع ہوتی ہے ہم آج اپنی سوچ کو تبدیل کرنا شروع کر دیں ہم اپنی زندگی بدل لیں گے، اپنی سوچ کو مثبت اور بڑی رکھیں کبھی منفی نہ سوچیں اللہ نے ہر انسان کو کسی مقصد کے لیے بنایا ہے اور ہمیں اپنا مقصد جاننا ہے، ہماری ناکامی کی دوسری وجہ خود اعتمادی کی شدید کمی ہے ہمیں اپنا علم ہی نہیں ہوتا کہ ہم کیا ہیں اور کیا کچھ کر سکتے ہیں۔

ہمیں خود پر اعتماد نہیں ہوتا کہ میں یہ کر سکتا ہوں جب تک انسان خود کو یہ باور نہیں کرواتا کہ میں یہ کر سکتا ہوں تب تک وہ ہارتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ میں کر سکتا ہوں وہ کر جاتا ہے، خود اعتمادی کب انسان میں آتی ہے جب وہ یہ چار چیزوں پر عمل کرتا ہے، سب سے پہلے انسان کا اللہ پر یقین کہ اب تک جو ہوا اور جو قیامت کی صبح تک ہوگا وہ اللہ رب العزت کی ذات سے ہو گا جسے اللہ پر بے حد یقین ہوتا ہے اسے کسی کا ڈر یا خوف نہیں ہوتا اسے پتا ہوتا ہے کہ میرا محافظ اللہ ہے مجھے کچھ ہو ہی نہیں سکتا اس سے اعتماد بے حد بڑھتا ہے، دوسری بات علم حاصل کرنا ہے وہ نصابی ہو یا غیر نصابی علم حاصل کریں آپ کے پاس جتنا علم ہو گا آپ میں اتنا زیادہ اعتماد ہو گا آپ جب بات کریں گے تو آپ کو پتا ہو گا میرے پاس اس موضوع پر بے پناہ علم ہے تو آپ مکمل اعتماد سے بات کریں گے آپ جتنا خود اعتماد ہوں گے آپ کام بھی اتنا ہی بہترین کریں گے۔

تیسری بات یہ کہ ہم جتنا خود کو سمجھیں گے اتنا ہی اعتماد آئے گا جو انسان سچا اور کردار کا اچھا ہو گا وہ اتنا ہی پر اعتماد ہو گا ڈر اس کو ہوتا ہے جو جھوٹا ہوتا ہے یا جس کے دل میں چور ہوتا ہے، اپنا کردار بہترین بنائیں جب آپ اپنے بارے میں پر اعتماد ہوں گے تو کسی کے کچھ کہنے سے آپ کو برا نہیں لگے گا، سقراط کو کسی نے گالی دی سقراط مسکرانے لگا کسی نے کہا کہ وہ تمہیں گالی دے رہا ہے تم مسکرا رہے ہو کیا وجہ ہے؟ سقراط نے کہا میں جانتا ہوں یہ غلط کہہ رہا ہے میں ایسا نہیں ہوں، جسے اپنا پتا ہوتا ہے اسے خود پر قابو ہوتا ہے اسے پتا ہوتا ہے کہ کسی کے برا کہنے سے میں برا نہیں بن جاؤں گا، چوتھی اور آخری بات یہ کہ چھوٹے چھوٹے امتحانات رکھیں انہیں پاس کریں چھوٹی چھوٹی کامیابیاں حاصل کریں جب ہم کسی امتحان میں پاس ہو جاتے ہیں تو ہم میں بہت زیادہ اعتماد آجاتا ہے ہم اگلے امتحان کو بہتر طریقے سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور پھر انسان بہتر سے بہترین کرتا چلا جاتا ہے اور ایک دن خود بہترین بن جاتا ہے۔

یاد رکھیں کہ سب سے پہلے ہمیں اپنی سوچ کو قابو میں رکھنا ہے اس کے بعد اپنے گول کی طرف نگاہ رکھنی ہے ہماری سوچ بڑی ہو گی ہماری منزل کی جانب پلاننگ اچھی ہو گی ہمیں اللہ پر بے پناہ یقین ہوگا ہماری تیاری اچھی ہو گی اور ہمیں خود پر اعتماد ہو گا تو میں یقین سے کہتا ہوں کسی بھی میدان میں جیت ہماری ہو گی بس یہ باتیں ذہن میں رکھیں اور آج سے ہی عمل شروع کر دیں دنیا بہت وسیع ہے آپ اپنی فیلڈ میں طبع آزمائی کریں آپ جیت جائیں گے لیکن اگر آج آپ لوگوں کے ڈر سے یا ناکامی کے خوف سے بیٹھ گئے تو پھر آپ کا ٹیلنٹ ضائع ہوجائے گا لوگ آپ پر ہنسیں گے اور آپ خود پر روئیں گے، لیکن رکیں ابھی وقت ہے صرف سوچنے کی دیر ہے پھر اڑان بھریں اور آسمان کو دیکھیں اور فتح کرتے جائیں آپ جیت جائیں گے آپ کو دنیا کی کوئی طاقت ناکام نہیں کرسکتی بس سوچ بڑی رکھیں اور منزل کا تعین کرتے ہوئے عقاب کی نظر ڈال کر دوڑنا شروع کر دیں جیت آپ کی منتظر ہے۔

Check Also

Ye Middle Class Muhabbat Karne Wale

By Azhar Hussain Azmi