Monday, 19 August 2019
Home / Ayaz Amir / Jaisay Kolhu Mein Sarson

Jaisay Kolhu Mein Sarson

شریف کولھو میں جا چکے ہیں اوروہیں پھنسے ہیں۔ لاکھ ہاتھ پیر ماریں، ویڈیو ز خریدیں اوردکھائیں لیکن جہاں پھنسے ہیں وہاں سے اُن کی جان چھوٹنی نہیں۔ کھاتے آج کے نہیں ہیں بہت پرانے ہیں۔ یہ قدرت کی گرفت ہی سمجھنی چاہیے کہ کھاتے اب کھل رہے ہیں اور شریفوں کے پاس کوئی جواب نہیں۔  

ایک زمانہ تھا جب پریس کانفرنسیں چل جاتی تھیں۔ ایک طرف شریف تھے اوردوسری طرف پیپلزپارٹی اورشریفوں کے ساتھ طاقتور حلقے کھڑے ہوتے کیونکہ طاقتور حلقوں کی بھی اُن وقتوں میں رقابت پیپلزپارٹی سے تھی۔ حساب چکانے کاعمل پیپلزپارٹی سے ہورہاتھا اورشریف طاقتور حلقوں کے آلہ کار تھے۔ اُنہیں استعمال کیاجارہاتھا اوروہ بخوشی استعمال ہورہے تھے۔ طاقتور حلقوں کے کام بھی آرہے تھے اوراپنی قسمت بھی سنوار رہے تھے۔ فیکٹری پہ فیکٹری لگ رہی تھی اوراِدھر اُدھر سے پیسے آرہے تھے۔ کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ پوچھتے تو طاقتور حلقے، لیکن وہ شریفوں کی پشت پہ کھڑے تھے۔ پانچوں گھی میں کیا، شریفوں کی دس کی دس گھی میں تھیں۔  

آج صورتحال یکسر مختلف ہے۔ ایک شریف ہیں اورگو اِن کی تجوریاں اب بھی قائم ہیں اِن کی پشت پہ وہ نہیں کھڑے جو اُنہیں سہارے دیا کرتے تھے۔ بلکہ سہارا دینے والوں کو اب وہ ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ اسی لیے شریفوں کی کچھ نہیں چل رہی۔ ہر ترکیب بے سود اورہر حربہ ناکام۔ وہ جوان کے معاون ہوتے تھے اوران کے لئے آسانیاں پیدا کرتے تھے اب ان کے خلاف فیصلے صادر کررہے ہیں۔ موسموں نے کیا بدلنا ہے، جب آسمان کی رنگت ہی بدل جائے تو انسانوں کے ساتھ یہی کچھ ہوتاہے۔  

جج ارشد ملک کے خلاف کیا کیا الزامات نہ دھر دئیے گئے، لیکن آخری نتیجے میں اس وار سے ہوا کیا؟جج صاحب کے دامن پہ چھینٹیں پڑیں لیکن ان کا فیصلہ تو تبدیل نہ ہوا۔ اسی فیصلے کے نتیجے میں میاں نوازشریف پابندِ سلاسل ہیں اوروہاں سے ان کی جان چھوٹ نہیں رہی۔ لاہور پہ کتنے سال بلا شرکت ِغیرے بادشاہت کی اورآج اُسی لاہور کی جیل میں بند ہیں اور چھڑانے والا کوئی نہیں۔  

دورانِ اقتدار شریفوں نے لڑائیاں غلط لڑیں۔ اُن چھتوں میں ہاتھ ڈالے جہاں ڈالنا حماقت تھی۔ وہ بھی بلاوجہ، بغیر سوچے سمجھے۔ ان مشیران کے کہنے پہ جو آج کہیں نظر نہیں آتے۔ کہاں ہیں وہ میڈیاسیل والے؟کہاں ہیں وہ ڈھنڈورچی جو ٹی وی کیمروں کے سامنے آتے اورہٹنے کانام نہ لیتے؟ وقت وہ بھی تھا جب عرب شہزادے کام آئے۔ آج کیونکہ زمانہ بدل چکاہے اُن کی ترجیحات اورہیں۔ شریفوں کیلئے اب ان کے پاس ٹائم نہیں۔  

وہ دن گئے جب بیکار قسم کے تجزیے ہوتے تھے کہ طاقتور حلقوں کا نوازشریف سے اگر مسئلہ ہے تو شہبازشریف سے کچھ معاملہ ہو سکتاہے۔ ایسے زیرک تجزیہ نگاروں سے کوئی پوچھے کہ معاملہ کرنے کے پیچھے کوئی وجہ ہوتی ہے۔ شہباز شریف کے پاس ہے کیا کہ کوئی اُن سے سمجھوتہ کرتا اوران کیلئے آسانیاں پیدا ہوتیں؟کون ساکام طاقتور حلقوں کا رُکا ہواہے یانہیں چل رہا جسے شہبازشریف نے آکے چلاناہے؟اب جب شہباز شریف کے گرد شکنجے سخت کیے جارہے ہیں تو ایسے تمام فضول کے تجزیے دم توڑ چکے ہیں۔ شہبازشریف کوئی زیادہ سیانے بن رہے تھے کہ اُن سے کبھی کچھ پوچھا نہیں جائے گا۔ اب ان کے کھاتے کھولے جارہے ہیں اوران کا مزاج خراب ہورہاہے۔ نیب حکام کے ساتھ دھمکیوں پہ اُتر آئے ہیں، لیکن اس کا فائدہ کیا؟کون ان سے مرعوب ہوگا۔  

شریف بنیادی مسئلہ اب تک سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اُن کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ سندھ میں پیپلزپارٹی ناگزیر ہے اُس کا کوئی متبادل پیدا نہیں ہوا۔ پنجاب میں ایسی صورتحال نہیں۔ پنجاب میں شریفوں کا حلقہ ٔاثر ہے لیکن ان کے بغیر بھی پنجاب چلتا رہے گا اورپی ٹی آئی نے بھی اپنا جو مقام بنایا ہے اس میں پنجاب کا بھی حصہ ہے۔ یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ طاقتور حلقوں کا حلقہ پنجاب ہی ہے۔ کل سیاسی اُفق پہ شریف چھائے ہوئے تھے۔ آج اُن کا سورج ڈھل چکاہے تو پنجاب میں کون سا صف ِ ماتم بچھ گیاہے؟ذوالفقار علی بھٹو کو زُعم تھا کہ انہیں کچھ ہوا تو ملک میں زبردست قسم کا آئینی بحران آجائے گا۔ اس قسم کے اشارے اُنہوں نے اپنی سپریم کورٹ پیشی میں دئیے جب وہ چار روز اپنے دفاع میں بولتے رہے۔ اگلے انہیں تختہ دار تک لے گئے اورکوئی آئینی بحران پیدا نہ ہوا۔ جنرل ضیا الحق کیلئے آئین بھی کیا معنی رکھتاتھا؟ان کا مشہور قول ہے کہ آئین چند صفحات کی دستاویز ہے اوروہ جب چاہیں اُسے پھاڑ سکتے ہیں۔ بھٹو بہرحال بڑا لیڈرتھا۔ اس کے مقابلے میں شریف زادے کیا ہیں۔ بھٹو نے چلو کسی آئینی بحران کی بات توکی۔ شریف زادے کیا کہہ سکتے ہیں؟ وہ کس بحران کا ذکر کرسکتے ہیں؟مال وزر کے علاوہ ان کے پاس کیا ہے؟ 

موجودہ حکمرانی کا بندوبست سب شریک کھاتوں کے فائدے میں ہے۔ دونوں اطراف یکسوئی پائی جاتی ہے۔ طاقتور حلقے حکومت سے خوش ہیں اورعمران خان کیلئے بھی اس سے زیادہ بہتر بندوبست نہیں ہوسکتا۔ ایک دوسرے کیلئے معاون ثابت ہورہے ہیں روڑے نہیں اٹکا رہے۔ طاقتور حلقے پانامہ پیپرز سکینڈل سے کہیں پہلے نون لیگیوں کو ذہنی طورپہ مستر د کرچکے تھے۔ ان کی ماردھاڑ کی وجہ سے عسکری اداروں میں ان کے خلاف جذبات اُبھر چکے تھے۔ ماردھاڑ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ یہی پاکستان کا مسئلہ ہے کہ ایسی کارروائیوں میں تمام حدیں پھلانگ دی گئیں۔  

وہی پرانا سوال ہے کہ انسا ن کو کتنا پیسہ چاہیے۔ زرداری نے کم مال بنایا؟ لیکن حرص ہے کہ پوری نہیں ہوتی۔ یہی حال شریفوں کا ہے۔ کہیں تو بس کر جائیں لیکن نہیں، ہاتھ پیر مارتے ہی رہنا ہے۔ ایسی روش عقل کے زمرے میں نہیں آتی۔ یہ تو پاگل پن کی باتیں ہیں،  بالکل ایسے ہی جیسا کہ فلپائن کی ایمیلڈامارکوس (Imelda Marcos)تھیں، جنہیں اچھے جوتوں کا شوق تھا اورپتا نہیں اُن کے پاس کتنے ہزار جوتے تھے۔ ملائیشیاکے نجیب رزاق کی بیوی کو بھی لے لیجیے۔ قیمتی ہینڈ بیگ رکھنے کا شوق تھا تو سینکڑوں ہینڈ بیگ اُن کے وارڈروب میں تھے۔ نجیب رزاق نے انگلستان کے اعلیٰ کالجوں سے تعلیم حاصل کی۔ انگریزی خوبصورت بولتے تھے، لیکن بات جب ماردھاڑ پہ ختم ہو تو ایسی تعلیم اورایسی انگریزی کا فائدہ کیا؟آج ذلیل وخوار ہیں۔ زرداری کی حالت یہ ہے کہ بغیر سہارے چل نہیں سکتے۔ اوردولت کو چھوڑئیے، سندھ میں ان کی سترہ شوگرملیں ہیں۔ کیا یہ شوگرملیں ان کی ٹانگوں میں توانائی ڈال سکتی ہیں؟

بات کلچر اورخمیر کی ہے۔ ہر انسان کی آرزو ہوتی ہے کہ ٹھاٹ باٹ سے رہے، اُس کے پاس دولت ہو، شہرت ہو اورلوگ اُسے عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔ یہ بنیادی انسانی خواہش ہے۔ لیکن ٹھاٹ باٹ کا یہ مطلب تو نہیں ہو ناچاہیے کہ دن رات ایک ہی کام، پیسہ بنانے، میں لگے رہیں۔ سرگنگا رام کی نشانیوں سے لاہور بھرا پڑا ہے۔ مال پہ کتنی ہی عمارات ہیں جو اُنہوں نے بطور سرکاری انجینئر بنائیں۔ زمانہ بدل جائے گا اُن کانام رہے گا۔ ان حکمرانوں نے لاہور پہ کتنے سال بادشاہت کی۔ ان کی ایک نشانی ہی کوئی بتا دے جسے دیکھ کے آئندہ نسلیں انہیں یاد کریں۔ میٹرو بس پہ ناز کرتے تھے، لیکن اُسے دیکھ کر آج وحشت ہوتی ہے۔ لاہور کے مسائل کیا ہیں اورانہوں نے پنجاب کی دولت کن چیزوں پہ برباد کی۔ یہی کیفیت اورنج لائن ٹرین کو دیکھ کے ہوتی ہے۔ سرے سے اس پراجیکٹ کی نہ تُک نہ ضرورت تھی، لیکن پیسہ برباد ہونا تھا ہوگیا۔

قدرت کی گرفت تو محاورہ ہے۔ قدرت انسان کی بے وقوفیوں سے بے نیاز ہے۔ پھر بھی کسی چیز کی گرفت میں تو شریف آچکے ہیں۔ انہوں نے کبھی سوچا نہ ہوگا کہ اُن کے ساتھ ایسا ہوگا۔ جنرل مشرف نے انہیں اقتدار سے ہٹایا تو یہ جمہوریت کے چیمپیئن بن گئے۔ اب تو کہانی مختلف ہے، اب کس بلا کے چیمپیئن بنیں گے؟ایسا قطعاََ نہیں کہ موجودہ حکمرانی مثالی ہے یا ہر مسئلے کا حل اس کے پاس ہے۔ لیکن یہ نہیں کہ وقت کی دھار پرانی مار دھاڑ کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ بدقسمت ہماراملک رہاہے، لیکن اتنا بدقسمت بھی نہیں۔

About Ayaz Amir

Ayaz Amir is a prominent Pakistani journalist, columnist and a senior politician . He was previously elected a Member of National Assembly representing Chakwal in 2008 as a candidate of Pakistan Muslim League (Nawaz), he resigned from the party on 19 April 2013 after he was refused a ticket for the National Assembly for the 2013 general elections.