Thursday, 02 December 2021
  1.  Home/
  2. Asif Mehmood/
  3. Malala Se Hum Aik Baat To Seekh Satke Hain

Malala Se Hum Aik Baat To Seekh Satke Hain

ملالہ کے بارے میں آپ کے جو بھی خیالات ہوں، آپ شوق سے ان کا ظہار کیجیے لیکن ہم ملالہ سے کم ا زکم اس بات پر تو اتفاق کر سکتے ہیں کہ شادی سادگی سے بھی ہو سکتی ہے؟ ملالہ اس وقت اپنی شہرت کے عروج پر ہے۔ وہ چاہتی تو اس کی شادی کی تقریب ایک بین الاقوامی میلے کی شکل اختیار کر سکتی تھی۔ مالی طور پر بھی وہ اس بات پر قدرت رکھتی تھی کہ ایسی تقریب کا اہتمام کر لے اور شہرت کے اعتبار سے بھی اسے یہ مقام حاصل تھا کہ دنیا کی اہم شخصیات کو وہ مدعو کرتی تو مہمانوں کی قطاریں لگ جاتیں۔ لیکن اس نے سادگی سے شادی کی اور وقار کے ساتھ ا س کا ابلاغ کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سماجی رویے میں اہم اہل وطن کے لیے سیکھنے کو کچھ موجود ہے جو شادی کرنے لگتے ہیں تو قرض لے کر اور زمینیں بیچ کر وہ اودھم مچاتے ہیں، ابلیس بھی دیکھ کر سوچنے لگ جائے کہ " باقی نہیں اب میری ضرورت تہہ افلاک"۔

شادی ایجاب و قبول کا نام ہے جو پر وقار طریقے سے انتہائی سادگی سے بھی ہو سکتی ہے۔ اس سے جڑی دیگر تقاریب اسراف اور رقص ابلیس کے سوا کچھ نہیں۔ خوشی کا موقع ہے اور اس کی مناسبت سے مسرت کا اظہار ضرور ہونا چاہیے لیکن ہمارے ہاں یہ مسرت ایک ایسی اذیت بن چکی ہے کہ شادی کے بعد اکثرگھرانوں کو اس آفٹر شاکس سے نکلنے کے لیے سالوں درکار ہوتے ہیں۔ ملالہ یوسف ز ئی نے اپنے طرز عمل سے اس بے ہودگی کی نفی کی ہے۔ یہ سماجی رویہ اس قابل ہے کہ اس کی تحسین کی جائے۔

ہمارے معاشرے میں جو سماجی برائیاں ایک عذاب بن چکی ہیں، ان میں شادی سے جڑی فضول رسمیں اور بے ہودہ تقاضے سر فہرست ہیں۔ پورے معاشرے کی جو معاشی حالت ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ لیکن اس کے باوجود دکھاوا ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ ایجاب و قبول کی ایک نشست کے ساتھ درجنوں رسموں کا آزار کھڑا کر دیا گیا ہے۔ آسودہ حال ہی نہیں سفید پوش بھی ان رسموں کے قیدی بن کر رہ گئے ہیں۔ دکھاوے کی اس لعنت تلے حقیقی خوشیاں دم توڑ چکی ہیں۔

جہیز ایک لعنت بن چکی ہے۔ اس پر سوا یہ کہ لازم ہے اب دیہاتوں میں بھی شادی کی تقریب کسی شادی ہال ہی میں ہو۔ شادی ہال بھی اعلی ہو ورنہ ناک کٹ جائے گی۔ ڈشیں بھی درجنوں ہونی چاہیں ورنہ لوگ کیا کہیں گے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ لاکھ دو لاکھ کامیک اپ ہو ورنہ خاندان میں باتیں ہوں گی۔ چند گھنٹوں کے لیے پہننے والا دلہن کا لباس بھی اوسطا دو تین لاکھ میں بنتا ہے اور جن کی سالانہ آمدن بھی دو لاکھ نہیں ہوتی وہ بھی اس لباس کو لازم قرار دیے ہوئے ہیں۔ اب بھلے قرض کا بوجھ چڑھے یا جائیداد بک جائے رسموں کی لعنت ضرور پوری کرنی ہے۔ ورنہ وہی ڈر کہ لوگ کیا کہیں گے؟

لالچ اور ہوس اتنی ہے کہ اعلی عہدوں پر بیٹھے لوگ ریٹائر ہونے لگیں تو اس سے دو چار ماہ پہلے بچوں کی شادی ضرور " کھڑکا " دیتے ہیں۔ حالانکہ چند ماہ کے بعد ریٹائر منٹ لے کر وہ آرام سے بچوں کی خوشی منا سکتے ہیں۔ لیکن وہ ان چند مہینوں کا انتظار نہیں کرتے کیونکہ انہیں خوب علم ہوتا ہے یہ ساری شان و شوکت اور آن بان عہدے کے ساتھ ہے۔ عہدہ نہ رہا تو کس نے شادی میں آنا ہے اور کوئی بھاری تحائف کیوں دے گا؟ چنانچہ شادی خانہ آبادی ہوتی ہے اور تھوک کے حساب سے مہمان بلائے جاتے ہیں۔ سلامیاں لی جاتی ہیں اور تحفے وصول کیے جاتے ہیں۔ لطف کی بات یہ کہ ساری واردات قانونی ہوتی ہے اور اس قانونی واردات میں جو کچھ ہتھیایا جاتا ہے، وہ بھی قانون کے عین مطابق ہوتا ہے۔

ملالہ بھی یہ سب کچھ کر سکتی تھی۔ کئی ہفتے اس کی شادی کی تقاریب مختلف رسموں کے عنوان سے جاری رہ سکتی تھیں۔ مہمانوں مدعو کیے جاتے تو لشکر جرار پہنچ چکا ہوتا۔ پاکستانی اشرافیہ میں سے شاید ہی کوئی ہو جسے دعوت ملتی اور وہ سعادت سمجھ کر شریک نہ ہوتا۔ مہمان پہنچتے تو تحائف کا انبار ساتھ ہوتا۔ ملالہ نے مگر ایسا کچھ نہیں کیا۔ نکاح کے لیے بھی کسی ایسے" مشہور زمانہ" مبلغ کو بلایا جا سکتا تھا جو دولت مندوں کے نکاح پڑھانے میں خوب مہارت رکھتا ہو، تا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آ ئے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ سادہ سی ایک تقریب ہوئی اور گمنام سے ایک مولوی صاحب نے نکاح پڑھا دیا۔

ہمارے معاشرے میں شادی سے جڑی غیر ضروری رسمیں کسی آزار سے کم نہیں۔ ان کا تعلق خوشی سے نہیں نمودونمائش سے ہے اور سماجی جبر سے ہے۔ ایک ز مانہ تھا ون ڈش کی پابندی تھی۔ لوگوں نے پابندی کی آڑ میں سکھ کا سانس لیا اور سفید پوشی کا بھرم یہ کہہ کر رکھ لیا جاتا تھا کہ کیا کریں ایک سے زیادہ ڈش کی اجازت نہیں ہے۔ ہماری سماجی جہالت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس زمانے میں بھی کچھ " معززین، دلہن والوں کو جا کر بتاتے تھے کہ" دیکھیں اب ہماری رشتہ داری ہو رہی ہے تو ہمیں آپ کے مسائل کا احساس ہے اور ہم انہیں حل کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے تھانے کا ایس ایچ او اپنا واقف ہے، اس سے بات ہو گئی ہے اب آپ ون ڈش کی بجائے سات آٹھ ڈشیں تیار کر لیں، پولیس کچھ نہیں کہے گی"۔ کہنے کو ون ڈش کا قانون اب بھی موجود ہے۔ لیکن اس پر عمل نہیں ہو رہا۔ شادی کی تقاریب میں اعلی عہدوں پر بیٹھے لوگ بھی جاتے ہیں لیکن کسی نے کبھی تردد نہیں کیا کہ یہ قانون پامال کیوں ہو رہا ہے۔

مہنگائی بھی یقینا بہت ہو گی لیکن اپنے دشمن ہم خود ہیں۔ ہم نے ایک دوسرے کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ لوگ شعور کی بجائے اوجھریاں اٹھائے پھرتے ہیں اور سچ یہ ہے کہ اس معاشرے کی کسی نے تربیت ہی نہیں کی۔ لوگ دوسروں کا منہ لال دیکھتے ہیں تو چپیڑیں مار مار اپنا منہ بھی لال کرلیتے ہیں۔ دولت کے بے ہودہ اظہار نمائش کو وجہ فضیلت سمجھ لیا گیا ہے۔ مجھے اس بات کی آج تک سمجھ نہیں آئی کہ جب ہم سب ایک دوسرے کی معاشی حیثیت سے آگاہ ہوتے ہیں تو پھر یہ فضول اخراجات کر کے ہم کس کو متاثر کرنا چاہتے ہیں؟ اس سے جڑا ایک سوال یہ بھی ہے کہ نمودونمائش سے یہ سماج متاثر ہوتا ہی کیوں ہے؟ جواب وہی ہے کہ کسی نے معاشرے کی تربیت ہی نہیں کی۔

کچھ لوگ ٹرینڈ سیٹر ہوتے ہیں۔ جو مشہور ہوں، صاحبان اقتدار ہوں یا اہم عہدوں پر فائز ہوں انہیں دیکھ کر ٹرینڈ سیٹ ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ان سب نے مرعوبیت ا ور اسراف کے ٹرینڈ سیٹ کیے ہیں۔ ملالہ نے مگر اپنے طر ز عمل سے بتایا ہے کہ شادی کا بندھن سادگی سے بھی بندھا جا سکتا ہے۔ اسے نمودو نمائش کے آزار اور تحائف کی ہوس کے بغیر بھی نبھایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سماجی پہلو ہے جو اس شادی میں سب سے اہم ہے۔ افسوس کہ یہی پہلو نظر انداز ہوا ہے۔