Wednesday, 10 August 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Zaigham Qadeer/
  4. CSS

CSS

ہر سال لاکھوں بچے میڈیکل، انجینئرنگ کالج میں داخلے اور سی ایس ایس، پی ایم ایس میں بار بار ناکام ہونے کے باوجود اس لاحاصل کی خواہش میں اپنی زندگی کے سنہری سال ضائع کر دیتے ہیں۔ کیوں؟

کیونکہ ان کو سکھایا جاتا ہے کہ بار بار کوشش کرنا کامیابی کی ضمانت ہے۔ اور جب ان کو بار بار کوشش کے باوجود کامیابی نہیں ملتی تو یہ بیچارے ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ متشدد ہو جاتے ہیں یا پھر چڑچڑے ہو کر معاشرے میں ہر ترقی یافتہ شخص سے نفرت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جبکہ، بار بار ناکامی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی کوشش میں کمی ہے۔ بلکہ اس مطلب یہ ہے کہ یہ لائف گول آپ کے لئے بنا ہی نہیں۔

ان کو سب سے بڑی مثال جو دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ تھامس ایڈیسن نے اتنے ہزار تجربے کئے مگر وہ نا کام رہا لیکن اس نے کوشش کرنا نا ترک کی اور آخر کار بلب ایجاد کیا۔ یا، نپولین بوناپارٹ غار میں تھک ہار کر بیٹھ گیا تھا پھر اس نے چیونٹی کو دیکھا وہ بار بار گر کر اٹھ رہی تھی، اور وہ کامیاب ہوئی اور اس کو دیکھ کر بوناپارٹ بھی کامیاب ہوا۔

مگر جو بتایا نہیں جاتا وہ یہ ہے کہ، تھامس ایڈیسن کی زندگی کا مقصد بلب ایجاد کرنا کبھی نہیں تھا۔ جس دوران وہ بلب بنانے کی کوششوں میں تھا۔ اس دوران اس نے 1092 دیگر نئی چیزیں بنائیں اور ان کو اپنے نام کرایا۔ ایک ایسا شخص جو کہ ہمہ جہت تھا۔ اس کو ہم یک جہت دکھا کر اپنے بچوں کو ایک لاحاصل کی تمنا میں چھوڑ دیتے ہیں۔

بونا پارٹ ایک جنگجو تھا۔ اس کے پاس ایک ہی آپشن تھی یا مر جائے یا زندہ رہنے کے لئے لڑے۔ اور اس نے لڑنا پسند کیا۔ مگر نا ہی زندگی ایک جنگ ہے اور نا ہی CSS/MDCAT ایک میدان جنگ، جس کو کلئیر کرنا کسی بھی بچے کے لئے بہت ضروری ہے۔ ان میں ہر کوئی ناکام ہوتا ہے۔ بلکہ بڑے بڑے بائیولوجسٹ جنہوں نے نوبل انعام جیتے وہ میڈیکل ڈاکٹر نہیں تھے۔ بلکہ ایک نارمل طالب علم تھے۔ مگر آج پوری میڈیکل ڈاکٹرز کی پریکٹس انکے تجربوں کی مرہون ہے۔

اس لئے اپنے بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ ایک لائف گول کے نا ملنے پہ اسی کے پیچھے پڑ جانا نری حماقت ہے۔ خاص کر اس کے جو آپ کو بچپن میں بتایا گیا۔ زندگی بہت وسیع ہے۔ یہاں آگے وہی جاتا ہے، جو اپنے پلان بدلنا جانتا ہے۔ نہیں یقین تو سٹیو جابز سے لیکر مارک زکر برگ تک کو دیکھیں ان سب کی زندگی کا گول ہاورڈ یا سٹین فورڈ سے ڈگری لینا تھا ناکام ہوئے مگر گول بدل کر دنیا بدل رہے ہیں۔

ایلون مسک کا لائف گول فزکس میں آگے جانا تھا۔ مگر اس نے پے پال کو بنایا، پے پال جتنی کامیاب کوئی ویب سائٹ نہیں تھی۔ مگر اس نے اس کو بیچا اور ٹیسلا کو بنایا ٹیسلا کے بعد اس نے اسپیس ایکس کو بنایا۔ اگر وہ ایک ہی گول کے پیچھے رہتا کہ اس نے فزسسٹ بننا ہے، سائنسدان بننا ہے، تو آج وہ دنیا کا کھرب پتی شخص نا ہوتا۔ آپ جیک ماء کو دیکھ لیں اسکی زندگی کا مقصد ایک نوکری پانا تھا۔ جو اس کی روزی روٹی چلا سکے۔

ہر انٹرویو میں ناکام ہونے کے بعد علی بابا بنائی مطلب لائف گول بدل کر، اور آج امازون کے بعد سب سے بڑی کمپنی یہی ہے اور وہ دنیا کا امیر ترین شخص ہے۔ لیکن پیسہ سب کچھ نہیں۔ عموما یہاں CSS، MDCAT وغیرہ کرنے کا مقصد پیسہ کمانا ہے۔ جو کہ ایک سراب سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ پیسہ دوسرے شعبوں میں ان سے حد درجہ زیادہ ہے۔

اور ان میں مواقعے بھی مگر معلومات کی کمی کی وجہ سے والدین انکی طرف نہیں دیکھ پاتے اوپر سے بچوں کو کچھ نیا سوچنے کا سکھایا ہی نہیں جاتا۔ سو اپنے بچوں کو اس سراب سے نکالیں اور اگر آپ اس میں پھنسے ہیں تو خود کو نکالیں۔ زندگی کا مقصد بدلنا ایک نارمل بات ہے۔ بار بار ناکامی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی کوشش میں کمی ہے۔ بلکہ اس مطلب یہ ہے کہ یہ لائف گول آپ کے لئے بنا ہی نہیں۔ سو اس کو بدلنا ایک عقلمندانہ فیصلہ ہے۔

Check Also

Hamara Qatil Kon?

By Asif Mehmood