Thursday, 20 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Nudrat e Khayal, Polio Workers Aur Garmi

Nudrat e Khayal, Polio Workers Aur Garmi

ندرت خیال، پولیو ورکرز اور گرمی

یہ ندرت خیال سپلٹ اے سی کی مرہون منت ہے۔ فیلڈ ورک میں جب ہوتا ہوں تو پسینہ آنکھوں میں گرتا ہے۔ آنکھیں جلن کے مارے سُرخ ہو جاتیں ہیں۔ آفس پہنچ کر چہرہ دھونے لگوں تو یوں لگتا جیسے چرس والے سگریٹ پھونکے ہیں۔ سرخ آنکھیں نظر آتیں۔ اے سی میں دماغ ٹھنڈا ہو تو پھر لگتا کہ انسان ہوں۔

پولیو سٹاف کی ہمت ہے جو سارا دن باہر کام کرتے رہتے بالخصوص فی میل سٹاف جو گلی گلی گھر گھر جاتی ہیں۔ میں صبح آٹھ سے گیارہ تک محض تین گھنٹے فیلڈ ورک میں رہا اور اس دوران پیدل چلتے جو جو نظر آتا رہا پیتا گیا۔ چاٹی کی لسی، ستو کا شربت، فالسے کا شربت، املی آلوبخارے کا شربت، بادام کا شربت، گنے کا رس اور آخر میں ٹھنڈا یخ دودھ چڑھا چکا ہوں۔ اب پیٹ مٹکا بن گیا ہے چلتے ہوئے اندر پانی چھلکتا محسوس ہوتا ہے۔ ابھی آفس آ کر جیسے ہی کرسی پر بیٹھا اور مٹکا اوپر کو چڑھ آیا۔ پانی کا مزاج ہے کہ وہ اپنے اخراج کا راستہ ڈھونڈتا ہے۔ اس لیے ایک گھنٹے میں سارے مشروبات باری باری چار بار جسم سے خارج ہو چکے ہیں۔

تپتی گرمیوں میں پولیو مہم کے سلسلے میں گلی گلی پھرنا پولیو ورکرز کی ہی ہمت ہے۔ اکثر گلیوں میں چلتے لیڈیز پولیو ورکرز کو گھریلو خواتین پانی وغیرہ پلانے کی پیشکش کرتی ہیں۔ ان لیڈی ہیلتھ ورکرز کا چونکہ اپنے علاقے سے واسطہ بسلسلہ حفاظتی ٹیکہ جات، خاندانی منصوبہ بندی وغیرہ وغیرہ رہتا ہے لہذا ان کی ہر گھر سے شناسائی ہوتی ہے۔

پسینہ بہہ بہہ کر آنکھوں میں گرتا رہتا ہے۔ ہماری آنکھیں پسینے کی جلن سے لال سرخ ہو جاتی ہیں۔ اکثر اوقات بلکہ ان گنت بار میں ایسے ہی کئی گھروں کا مہمان بنا ہوں۔ ہوتا یوں ہے کہ میں گھر کے اندر جانے سے انکار کروں تو پولیو ورکرز بھی انکار کر دیتی ہیں اور یوں مجھے ان کی خاطر بھی اجنبی گھروں کی مہمان نوازی قبول کرنا پڑ جاتی ہے۔

ایک بار اندرون راولپنڈی کی تنگ و تاریک گلیوں میں کام کر رہا تھا۔ گلیوں میں چلتے جگہ جگہ سے، ہر گھر سے انواع و اقسام کے کھانوں کی خوشبو اٹھ رہی ہوتی ہے۔ کہیں کسی سبزی کے پکنے کی خوشبو ہے تو کہیں پریشر ککر کی سیٹی کی آواز مگر صاحبو جو مہک دال مسور کو لگے تڑکے سے اٹھتی ہے وہ تو افواہ کی مانند دور تک پھیلتی جاتی ہے۔

ایک گھر کے کچن میں مسور کی دال کو تڑکا لگا تو ایکدم یوں محسوس ہوا جیسے شوگر لو ہوگئی ہو۔ ایسی کاٹ کھانے والی بھوک لگ گئی۔ یہ ساری پشتون کمیونٹی کی بستی تھی۔ میرے ساتھ پولیو ورکر بھی پشتون لڑکی تھی۔ اس کا نام مریم تھا۔ میں نے اسے کہا کہ یہ مسور کی دال نے جان لے لی۔ اس نے آگے سے ہنستے ہوئے کہا کہ پاس ہی میرا گھر ہے اور امی نے اتفاقی طور پر مسور کی دال ہی بنائی ہے۔ ان سے میسج پر بات ہو رہی تھی۔ آپ چلیں پھر مسور کی دال اور چاول کھاتے ہیں۔ یہ سن کر میں نے نیم دلی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ نہیں نہیں یہ تو یونہی مزاق کر رہا تھا۔ مگر وہ سیریس تھی تو میں نے بھی حامی بھر لی۔

مریم کے گھر پہنچا۔ پشتون تو مہمان نواز ہوتے ہی ہیں مگر ان کی دال میں بھی کم از کم ایک کلو ٹماٹر تو پڑتے ہیں۔ وہ ٹماٹروں میں ڈوبی ڈال تھی۔ ٹماٹر دال کی سطح آب پر تیر رہے تھے۔ تھوڑی سی کھا کر باہر نکلا تو کام کرتے پھر ایک گلی سے آلو قیمے کی مہک آنے لگی۔ میں نے اسے کہا کہ یہاں اس گھر میں آلو قیمہ پک رہا ہے۔ اس نے جواب دیا "سر آپ کل سے اپنے ساتھ شاپر لے کر نکلیں، لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر گھر سے راشن پانی لا دیں گی، ان سب کی ایک ایک خاتون سے سلام دعا ہوتی ہے"۔ مریم کی اس بے تکلفی کو میں نے اس لئے ہنسی میں اڑا دیا کہ تازہ تازہ اس کا نمک کھایا ہے وگرنہ تورنت جواب عنایت کرتا۔

میں جھگیوں میں بھی بیٹھا ہوں، ٹوٹے پھوٹے گھروں میں بھی، اپر مڈل کلاس گھروں میں بھی اور ڈیفنس یا پوش علاقے کے گھروں میں بھی جانا ہوا ہے۔ ہمارے لوگ عمومی طور پر مہمان نواز ہیں۔ غریب ہیں مگر دل امیروں والے ہوتے ہیں۔ پانی کا مطلب سادہ پانی نہیں ہوا کرتا۔ جام شیریں یا کوئی شربت، کبھی لسی، کبھی دودھ والا شربت، کبھی ٹینگ یا پیکٹ جوس یا ٹھنڈا سوڈا وغیرہ۔ جس کی جو توفیق ہو۔

گاؤں میں کام کرتے اکثر لوگ لسی پلاتے ہیں۔ اکثر اوقات ایسے ایسے قصے دیکھنے سننے کو ملتے ہیں کہ کبھی سوچوں تو خیال آتا ہے ہر گھر ایک کہانی ہے۔ کئی کہانیاں میرے پاس ہیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز خاتون خانہ یا گھر کی خواتین کے ساتھ آپسی زنانہ گپ شپ میں لگ جاتی ہیں۔ ان کو بھی پندرہ بیس منٹ پنکھے کی ہوا اور ٹھنڈے مشروب کے ساتھ تازہ دم ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ میں چونکہ ان میں واحد مرد ہوتا ہوں (اگر گھر پر کوئی مرد نہ ہو تو) مجھے بہت شرم آتی رہتی ہے کہ میں یہاں کیوں ہوں مگر جیسا کہ بتایا اگر میں انکار کر دوں تو عملہ بھی انکار کر دیتا ہے۔

میں چپ چاپ نظریں جھکائے بیٹھا رہتا ہوں یا کیمرے کی سکرین پر تصاویر دیکھتا رہتا ہوں۔ ان گھروں میں قطرے پینے والے بچے اکثر اوقات بہت شرارتی نکل آتے ہیں۔ وہ کبھی آ کر کیمروں کو انگلی لگانے لگتے ہیں کبھی چکنائی والے ہاتھ لینز پر پھیر جاتے ہیں۔ ان بچوں سے اپنے کیمروں کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔

دیہی آبادی وہ چاہے ملک کے کسی صوبے کی ہو وہاں کے بچوں کا طور طریقہ زبان کے فرق کے ساتھ باقی ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ اگر گھر پختونوں کا ہو تو ان کے بچے انتہائی کیوٹ ہوتے ہیں۔ وہ آنکھوں سے شرارتیں کرتے رہتے ہیں۔ قریب نہیں آتے۔ سندھی بچے آپ کے قریب آ کر آپ کی ہر شے الٹ پلٹ کر دیکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں بشمول آپ کی ناک کے۔ بلوچ بچے بھی دور دور سے دیکھتے رہتے ہیں۔ اور اپنے پنجابی بچے۔ آفرین آفرین۔ یہ تو آپ کے ہاتھ سے آپ کا مشروب یا جوس چھین کر بھی پی جانا چاہتے ہیں۔

ایسے ہی اک بار ایک گھر میں بیٹھا تھا۔ یہ شیخوپورہ کے نواح میں ایک گاؤں تھا۔ ایک پانچ چھ سالہ بچہ باہر سے بھاگتا بیٹھک میں آیا۔ مجھے دیکھ کر اس نے بریک لگائی اور اپنی دادی سے بولا " اے پائی کون اے؟"۔ دادی نے جواب دیا " قطرے پلان والا"۔ بچے نے مجھے گھور کے دیکھا۔ میں نے اسے گھور کے دیکھا۔ اس نے لمبا سا کرتہ پہن رکھا تھا شلوار غائب تھی۔ ہاتھ میلے کچیلے شاید مٹی سے کھیلتا رہا تھا۔ اس کی لُکس سے مجھے الارم ہوگیا کہ بخاری یہ اتھرہ بچہ ہے اس سے بچ کر رہنا۔

اچانک بچے نے گھورنا بند کیا اور میری جانب پیش قدمی شروع کی۔ میں نے فوری طور پر اپنے دونوں کیمرے اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لئے۔ بچہ قریب آیا اور بولا " اے کی اے؟"

"کیمرا"۔ میں نے اس کو سخت منہ بنا کر جواب دیا کہ شاید یہ ڈر کر ذرا فاصلہ اختیار کرے۔ اس نے صاحبو توقع کے عین مطابق کیمرے کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ میں نے فوراً اس کا بازو پکڑا اور بولا " نہیں کرو"۔ اس نے بازو زور سے چھڑوایا اور میرے شربت کے گلاس میں تھوک پھینک کر بولا "پی لے ہُن"۔

اس کی دادی نے یہ منظر دیکھا تو اٹھ کر اسے ایک جھانپڑ رسید کر دیا اور کوستے ہوئے اسے کمرے سے باہر نکال لے گئی۔ لیڈی ورکرز پہلے تو ہنسیں پھر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ہم باہر نکل آئے۔ صاحبو کچھ دیر بعد وہی بچہ اس گلی میں پھرتا نظر آیا تو میں پھر الرٹ ہوگیا۔ وہ مجھے دیکھ کر راہ بدل گیا۔ ہم اپنے کام میں مشغول ہو گئے۔

اتنے میں یکدم وہ کہیں پیچھے سے نمودار ہوا اور کاندھے سے لٹکے میرے کیمرے کے لینز پر اپنے کیچڑ بھرے ہاتھ مل کر بھاگا اور دور جا کر اس نے اپنی قمیض اٹھا دی۔ گلی سے ایک بندہ گزر رہا تھا۔ اس نے دیکھا تو بچے کو بازو سے پکڑ کر پھر ایک جھانپڑ رسید کیا اور بچہ روتا بلکتا رہا۔ ہم وہاں سے دوسری گلی کو مڑ گئے۔ بچے کو اور کیا کہا جا سکتا تھا؟

مجھے لگا کہ اب خطرہ ٹل گیا ہے۔ مگر بھائیو بچہ انتقام پر اُتر چکا تھا۔ میں اس کا اینیمی نمبر ون بن چکا تھا۔ میری بدولت اسے دو بار تھپڑ پڑ چکے تھے اب اس کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا۔ یکایک بیس پچیس منٹ بعد وہ پھر کہیں سے نکلا۔ مجھے بس لیڈی ہیلتھ ورکر کی چیخ ہی سنائی دی " سر جی بچ کے"۔ میں نے گھبرا کے مڑ کر دیکھا تو بچے نے ہاتھ میں آدھی اینٹ اٹھائی ہوئی تھی اور میرا نشانہ لینا چاہ رہا تھا۔ مجھے اور تو کچھ نہ سوجھا۔ میں نے دوڑ لگا دی۔ اتنے میں قریب ہی واقع محلے کی دکان والا دکان سے باہر نکلا اور بچہ اسے دیکھ کر اس سے ڈر کر واپس بھاگ گیا۔

وہ واپس بھاگا تو میری جان میں جان آئی۔ میں نے دکان والے بھائی کا شکریہ ادا کیا۔ جواب میں دکان والے نے میری بہادری کی داد دی اور ہنس دیا۔ اس واقعہ کے اگلے سال ہی مجھے خبر ملی کہ اسی گاؤں سے ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے لہذا مجھے اسی گاؤں جانا پڑے گا تاکہ متاثرہ فیملی اور متاثرہ بچے کی تصاویر کے ساتھ رپورٹ بنا سکوں کہ ایسا کیوں ہوا۔ آیا کوئی ڈوز مِس ہوئی یا گندا پانی پینا اس کا سبب بنا۔ میں نے جب یہ سنا تو مقامی سٹاف کو کال کرتے کہا "میں آ رہا ہوں مگر خدا کا واسطہ اس نوری نت بچے کو باندھ کر رکھئیے گا"۔

Check Also

Blood Activism, Samaji Khidmat Ka Dil

By Asif Ali Yaqubi