Wednesday, 10 August 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Sumaira Anwar/
  4. Depression Se Khud Ko Bachayen

Depression Se Khud Ko Bachayen

پرُسکون دستک آپ کی منتظر ہے۔ زندگی ایک طرف نشیب و فراز کی الجھتی ناؤ ہے، تو دوسری طرف کشمکش میں اڑتی پتنگ کی طرح ہے۔ جو کسی پل بھی اپنا رخ موڑ سکتی ہے۔ ہمارے ذہن کی تبدیلی اس ناؤ کو متوازن سمت میں بہا بھی سکتی ہے، ا ور کسی رکاوٹ میں پھنس کر اسے مزیدپریشان بھی کر سکتی ہے۔ جب ہم عملی زندگی میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

تو اس میں کبھی کام یابی تو کبھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کام یابی اور ناکامی کے اپنے اپنے مثبت اور منفی پہلو ہیں۔ کبھی کبھار کام یابی بھی مشکلات پیدا کر دیتی ہے۔ اس مرحلے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہ جانے کتنی دنیا فتح کر لی ہے۔ اس طرح یہ منفی سوچ بھی کام یابی کی منزل پر لے جا کر ناکامی کی سیڑھی پر واپس لے آتی ہے۔ اس کے بعد اس ناکامی کو ہمارا دل و دماغ مثبت انداز سے قبول نہیں کر پاتا اور اس طرح ذہنی تناؤ بڑھتا چلا جاتا ہے۔

اور جب اس تناؤ کی شدت پہلے سے اضافہ ہوتا دکھائی دے، تو سمجھ لیں کہ آپ ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ آج کے دور میں ڈپریشن کسی موزی مرض سے کم نہیں ہے۔ اس دماغی تناؤ میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں، جن کی تعداد روز بہ روز بڑھتی ہی چلی جار ہی ہے۔ کسی نے اس معاملے میں آپ پر توجہ نہیں دینی آپ نے خود اپنا خیال رکھنا ہے نہ بہن، نہ دیورانی نہ ہی جٹھانی نے آپ کے ڈپریشن کو ختم کرنا ہے۔

بلکہ آپ نے خود ہی اس مسئلے کا حل نکالنا ہے، کیوں کہ یہ ڈپریشن ایک نفسیاتی بیماری ہے، اور ایک مشکل نوعیت کا اعصابی تناؤ ہے۔ اس ڈپریشن کا جائزہ لینے کے لیے سب سے پہلے گھر سے بات شروع کرتے ہیں۔ گھر کا ماحول اس میں رہنے والے افراد بھی ذہنی دباؤ کی وجہ ہو سکتے ہیں۔ شادی شدہ خواتین جب ماحول کو آسانی سے سمجھ نہ پائیں اور اپنی سوچ کو متوازن نہ رکھ سکیں تب وہ ذہنی تناؤ میں مبتلا ہوتی ہیں۔

شوہر سے آئے روز کی چپلقشیں اور لڑائی جھگڑے، ذہنی ہم آہنگی میں ناکامی کی وجہ سے ہوتے ہیں یا خود کو تبدیل نہ کرنے کا نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں۔ ذہنی دباؤ جب اعصاب پر حاوی ہو جائے تو غوروفکر اور رویوں کو مثبت انداز سے دیکھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ ساس اور سسر کی روک ٹوک اور جوائنٹ فیملی سسٹم میں خواہشات کی تکمیل ممکن نہیں ہوتی تو دل کے ارمان ادھورے رہ جانے کی وجہ سے ذہنی تسکین میں کمی رہ جاتی ہے۔

اور اسی وجہ سے احساس کمتری اور احساس برتری جیسے جذبات جنم لیتے ہیں۔ زندگی کو اچھے انداز سے جینے کی امنگ دم توڑنے لگتی ہے، اورسب کچھ بے معنی سا لگتا ہے۔ اس حالت میں مایوسی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، اور زندگی میں خالی پن محسوس ہونے لگتا ہے۔ بظاہر تو آنکھیں نیند سے بوجھل دکھائی دیتی ہیں، لیکن درحقیقت وہ سکون کی نیند سے محروم ہوتی ہیں، پھر اس مسئلے کا حل نیند کی گولیاں سے نکالا جاتا ہے۔

جس سے آپ کی اعصابی حالت مزید تناؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ مالی مسائل بھی ہیں، بچوں کے بڑھتے اخراجات اور کم آمدنی میں گزارا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ خواتین ان مسائل کا حل تلاش کرنے کی بجائے، اپنے آپ کو مشکلات میں ڈال لیتی ہیں، اور دماغ کو مختلف سوچوں میں الجھا لیتی ہیں۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ کوئی اچھا اور بہتر ہل نکل سکتا ہو، لیکن اس مسئلے پر سوچ بچارتو نہیں کر سکتیں۔

البتہ ان مسائل کے نتائج کا اعلان خود سے کر لینا ذہنی تناؤ ہی ہے۔ گھر کا سخت ماحول، بے جا پابندیاں اور والدین کی آپس میں نااتفاقیاں بچوں کے لیے بھی ڈپریشن کا باعث بنتی ہیں۔ شوہر کی بیوی پر بے جا تنقید اور بیوی کا شوہر پر بلاوجہ کا طنز بھی ماحول کی ناخوشگوایت کی وجہ بنتا ہے۔ جو ایک مقام پر جا کر فیریقین کو ڈپریشن کا شکار کرلیتی ہے۔

بچیاں اپنی ماؤں کے زیادہ قریب ہوتی ہیں، وہ انھیں جلتا کڑھتا اور سر پکڑے دیکھتی ہیں تو وہ بھی اس حساسیت کی طرف مائل ہو جاتی ہیں، اور گھنٹوں سوچتی رہتی ہیں۔ وہ اپنے دل ودماغ پر بوجھ محسوس کرنا شروع کر دیتی ہیں، اور پھر آخر ڈپریشن کی رسی کی طرف کھنچتی ہی چلی جاتی ہیں۔ اکثر خواتین اور لڑکیاں یہ کہتی دکھائی دیتی ہیں کہ بس وہی روزانہ کی روٹین ہے، کوئی چینج نہیں ہے، سب کچھ ویسا ہی چل رہا ہے۔جیسا پہلے تھا۔

ایک جیسی روٹین بھی زندگی میں اداسی بھر دیتی ہے، یہ بھی پریشانی کی ایک وجہ ہو سکتی ہے، تو کیوں نہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں سے ذہنی دباؤ کو شکست دی جائے۔ اگر روزمرہ کے کاموں سے فرصت ملے اگر نہیں ملتی تو زبردستی نکالیں اور سوچیں کہ آپ نے کبھی چند لمحات اپنے لیے نکالے ہیں، اپنے آپ کو سنوارنے یا کچھ ایسا کرنے میں وقت صَرف کیا ہے۔ جس کی خواہش آپ کے دل میں چھپی ہوئی ہے۔

اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے کسی خاص وقت کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ اپنے کمرے کی کھڑکی سے سورج کی کرنیوں کو محسوس کریں، اور اپنے ذہن کو پرسکون رکھتے ہوئے یہ خیال کریں کہ مجھے اجالا خود ہی تلاش کرنا ہے۔ اس کی چمک کو اپنے دماغ پر حاوی ہونے دیں۔ رات کا کھانا ڈائننگ ٹیبل پر کھانے کی بجائے چھت پر کھائیں اورچاند کی نرم نرم روشنی کے سائے میں اپنے دماغ کی ترو تازگی کا اندازہ لگائیں۔

تب آپ کو محسوس ہوگا کہ ذہنی تناؤ میں کسی حد تک کمی ہو رہی ہے۔ ناشتے کی تیاری کے لیے باورچی خانے میں جانے سے پہلے ایک نظر آئینے پر ضرور ڈالیں۔ بالوں کا اسٹائل تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، روازنہ سے ہٹ کر کوئی منفرد اسٹائل بنالیں۔ لپ اسٹک بھی کسی اور شیڈ کی استعمال کرلیں۔ گلدان میں لگے تازہ پھول اپنے بالوں کے ساتھ ساتھ کانوں میں بھی سجا سکتی ہیں۔

اس خوب صورت تبدیلی کو نہ صرف آپ خود محسوس کریں گی بل کہ گھر کے دیگر افراد بھی خوشی محسوس کریں۔ اس کے ساتھ ذہنی تکلیف بھی بھولنے کی کوشش کریں، اور ان لمحات سے لطف اندوز ہوں، اگر آپ اس میں کامیاب ہو گئیں، تو سمجھیں کہ ڈپیریشن بہت جلد آپ کا پیچھا چھوڑ دے گا۔ یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ زیادہ تر خواتین خود ساختہ پریشانیاں پال لیتی ہیں۔

ایک ہی بات پر اپنی رو میں سوچتی رہتی ہیں۔ اس سے خود ہی نتائج اخذ کر لیتی ہیں۔ جس کی وجہ وہ ذہنی دباؤ میں مبتلا ہو تی چلی جاتی ہیں۔ جو غلطی یا کوتاہی ہو گئی ہے۔ اس پر بار بار کڑھنے کی بجائے مزید غلطیوں سے بچیں اور اس کوتاہی کو بھولنے کی کوشش کرکے آگے کی طرف بڑھیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ گھر میں کوئی خاص موقع ہو تب ہی آپ کیک، بریانی یاکڑھائی گوشت بنائیں بل کہ روٹین سے ہٹ کر بھی کچھ نہ کچھ مزے دار سا بنا لیں۔

اور اس سے لطف اٹھائیں۔ پہلے ہلکے رنگ پہنتی ہیں، تو کسی گہرے رنگ کو پہن کر دیکھیں اور خود کو یقین دلائیں کہ آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ اور کسی طرح کا دباؤ آپ کے ذہن پر سوار نہیں ہے۔ لڑکیاں اپنے خوابوں کی دنیا بنا لیتی ہیں۔ اور اسی میں رہنا پسند کرتی ہیں، وہ حقیقت کا سامنا کرنے سے گھبراتی ہیں، اور جب ان کا آئیڈیل انھیں نہ مل سکے تو مسلسل سوچنا انھیں ڈپریشن میں لے جاتا ہے۔

اس مرحلے میں مائیں ان پر خصوصی توجہ دیں اور انھیں بالکل نظر انداز نہ کریں۔ یہ مت سوچیں کہ کچھ دن بعد خود ہی ٹھیک ہو جائے گی بلکہ ان سے باتیں کریں اور زندگی کی حقیقت کا سامنا کرائیں اور سمجھائیں کہ زندگی کسی ایک پر ختم ہو جانے کا نام نہیں ہے، نہ ہی دل ٹوٹتا ہے اور نہ ہی دماغ کام کرنا چھوڑتا ہے۔ لیکن کسی بات کودماغ پر سوار کرنا اور دل پر شدید صدمہ لینا ہی ذہنی تناؤ ہے۔

اگر بروقت اپنی بچیوں کو وقت دیا جائے اور انھیں سنبھالا جائے، تو وہ اس مرض سے بہت جلد نکل سکتی ہیں کیوں کہ اگر زیادہ عرصے کے لیے ڈپریشن رہے تو وہ صلاحیتوں کو منجمد کر دیتا ہے، اور سوچنے سمجھنے کی اہلیت بھی ختم کر دیتا ہے۔ زندگی کے یہ سارے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ لیکن ان پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اپنی سرگرمیوں کو منفرد انداز سے کرنے کی کوشش کریں۔

ملازمت پیشہ خواتین گھر اور جاب کے درمیان توازن قائم نہیں رکھ سکتیں، تو وہ خود کو ڈپریشن کے حوالے کر دیتی ہیں۔ ہم آپ کو اس قسم کے ڈپریشن سے بچنے کا ایک طریقہ بتاتے ہیں۔ جب آپ جاب سے واپس آئیں تو دفتر کی کوئی بات ذہن میں نہ لائیں اور جب دفتر ہوں تو گھر کے جھگڑوں اور پریشانی کے متعلق بالکل نہ سوچیں۔

صبح یا شام کے اوقات میں بچوں اور شوہر کے ساتھ چہل قدمی کے لیے ضرور نکلیں اور کھلی فضا میں کچھ وقت گزاریں۔ اپنے بیڈ روم کی چادر اور پردے تبدیل کریں۔ دفتر سے واپسی پر بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ خریدیں اور انھیں ایک خوب صورت سر پرائز دیں۔ جسے دیکھ کر وہ کِھل اٹھیں۔ ساس، سسر حیات ہیں، تو ان کے پاس چند لمحے بیٹھیں اور ان سے اپنی پریشانی بانٹیں اس طرح ان کے دل میں آپ کی جگہ مزید بڑھ جائے گی۔

شام کی چائے کے ساتھ سموسے یا کباب تل لیں۔ کوئی شوخ رنگ پہنیں اور ہاتھوں میں چوڑیوں کی جگہ بریسلٹ پہن کر دیکھیں تو آپ خود کو کتنا منفرد محسوس کریں گی۔

Check Also

Rehai De Bhi Ab Iss Ehad Karbala Se Mujhe

By Orya Maqbool Jan