Thursday, 30 June 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Shaheen Kamal/
  4. Shah Dole Ke Chuhe (2)

Shah Dole Ke Chuhe (2)

مزار کے کارندے بچپن میں ان معصوم بچوں کے سر پر آہنی خود کس دیتے ہیں، جس سے سر کی نشونما رک جاتی ہے اور دماغ develop نہیں ہو پاتا۔ بچے کا جسم تو عمر کے مطابق بڑھتا ہے مگر دماغ کی نشونما رک جاتی ہے۔ اس وقت دس ہزار سے زیادہ بچے شاہ دولے کے چوہے کے روپ میں ملک بھر میں سپلائی کیے گۓ ہیں۔ ان سے بھیک منگوائی جاتی ہے اور کمزور عقیدے کے لوگ ان کو بابرکت اور مستجاب الدعا سمجھتے ہیں۔

1960 میں حکومت نے یہ مزار سرکاری تحویل میں لیکر ایسے بچوں کے لینے پر پابندی لگا دی تھی مگر آج بھی یہ کاروبار جاری و ساری ہے۔ یہ سب کچھ پڑھ کر تو میرا دماغ چکرا گیا۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی، میں نے سمجھا کہ یہ رسرچ میری طبیعت پر اثر انداز ہو گئ ہے۔ ڈاکٹر کو دکھایا تو اس نے دوسری خبر دی۔ اس خوش خبری کو سنتے ہی مجھ پر شادی مرگ طاری ہو گئی۔ برسوں بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل کیا تھا اور ہماری آرزو ثمر بار ہونے والی تھی۔

ہم دونوں بہت خوش تھے مگر نہ جانے کیوں مجھے خوشی کے ساتھ ساتھ ایک انجانہ سا خوف بھی تھا۔ تائی کو خبر ملی تو فون پر انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا مگر ان کے آخری جملے نے میری جان نکال دی، کہنے لگیں "دیکھا شاہ دولے کی کرامت"۔ میں راتوں کو پھر سے سوتے میں ڈرنے لگی، اکثر چیخ مار کے اٹھ جاتی اور جسم کی کپکپاہٹ دور نہ ہوتی۔ میری طبیعت بہت خراب رہنے لگی اور وزن بجائے بڑھنے کے گرنے لگا تھا۔ یقعوب پریشان ہو کر مجھے کراچی لے آئے۔

سیالکوٹ سے ساس بھی آ گئیں اور دونوں ماؤں نے مل کر میری خوب خاطر داریاں اور دلداری کی۔ میں بہل گئی اور صحت بحال ہونے لگی۔ تائی نے واپس جاتے ہوئے تاکید کی کہ ساتویں مہینے سے پہلے سیالکوٹ آ جاؤں کہ زچگی وہی ہو گی۔ میرا دل بالکل نہیں تھا مگر میں نے نہ ہاں کی اور نہ ہی نا۔ بےبے بھی تائی کی ہمنوا تھیں کہ تائی کے گھر کی پہلی خوشی ہے سو ان کا مان رکھو۔ میں نے بےبے سے وعدہ لیا کہ وہ بھی ڈیلوری کے قریب آ جائیں گی۔

بےبے کے اقرار پر میں سیالکوٹ آ گئی۔ سب کچھ ٹھیک رہا، بےبے بھی وقت پر پہنچ گئیں اور میں خیر و عافیت سے اس مرحلے سے پار لگ گئی۔ اللہ تعالیٰ نے بیٹا دیا۔ حسبِ حیثیت خوشیاں بھی منائی گئ۔ جانے کیوں مجھے بچے کا سر چھوٹا لگتا تھا اور اسے دیکھ کر ساس بھی کچھ گم سم سی ہو گئ تھیں۔ بےبے کو فوراََ کراچی واپس جانا پڑا کہ ابا کا دکان جاتے ہوئے معمولی سا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔

میں نے کراچی میں اپنے بھائی سے کہ کر چائیلڈ اسپیشلسٹ سے وقت لینے کا کہا۔ یعقوب اس ماہ کے آخر میں مجھے لینے آنے والے تھے۔ ہمیں کراچی میں پانچ دن رکتے ہوئے شارجہ جانا تھا۔ حسنات کی چھٹی سے پہلے نمرہ بھی لاہور سے آ گئی تھی اپنے بھتیجے کی خوشی میں شرکت کے لیے۔ حسنات کوئی دس دن کا تھا، اس دن ناشتے کے بعد تائی جی نے مجھے دودھ پینے کے لیے دیا اور کہنے لگی کہ تم آرام کرو وہ حسنات کو دوسرے کمرے میں لے جا رہی ہیں اور مالش کے بعد اس کو نہلا کر میرے پاس لے آئیں گی۔

میں دودھ پی کر لیٹ گئی، عجب مدہوشی سی طاری ہو رہی تھی۔ مجھے نہیں پتہ کہ کتنی دیر گزری پھر میری آنکھیں نمرہ کے جھنجھوڑنے پر کھلی۔ وہ چیخ چیخ کر کچھ کہ رہی تھی اور میں بالکل بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ کیا کہ رہی ہے؟ جب وہ مسلسل حسنات حسنات چیختی رہی تو مجھے گویا بجلی کا جھٹکا لگا۔ میں ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ نمرہ کہ رہی تھی بھابھی امی حسنات کو لیکر شاہ دولے کے مزار گئ ہیں، آپ اٹھیے اور انہیں روکیں۔

میں ننگے سر اور ننگے پیر باہر کی جانب دوڑی۔ سمرہ نے لپک کر مجھ پر چادر ڈال دی اور مجھے پرس پکڑا دیا۔ خوش قسمتی سے مجھے فوراََ رکشا مل گیا اور میں نے اس کو بس اڈے چلنے کا کہا۔ میرے دل میں پنکھے لگ گئے اور میں رکشے والے کی منت ترلے کر رہی تھی کہ بھائی رکشہ تیز چلاؤ۔ رکشے والا بیچارا بھی میری حالت سے گھبرا گیا تھا۔ میری بس ایک ہی دعا تھی کہ ابھی بس روانہ نہ ہوئی ہو اور وہ شاید قبولیت کی گھڑی تھی۔

میں جیسے ہی بس ٹرمنل پر پہنچی میں نے دیوانہ وار بسوں کو دیکھنا شروع کر دیا۔ مجھے تائی کی سرمئی چادر کی جھلک، قطار میں لگی تیسری بس میں نظر آ گئ۔ میں بس میں چڑھی اور جھپٹ کر حسنات کو ان کی گود سے لے لیا۔ تائی نے مزاحمت نہیں کی بس حق دق مجھے دیکھتی رہیں۔ اتنے میں بس ٹرمنل میں پتہ نہیں کیسے تایا اور یوسف بھی آ گئے۔ تایا نے کہا "دھیئے گھر چل۔ " میں روتی جاؤں اور ایک ضد کہ نہیں مجھے کراچی جانا ہے۔

اس اثناء میں ہمارے اطراف لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔ تایا نے مجھ سے کہا کہ ٹھیک ہے چلو ہوائی اڈے چلتے ہیں۔ میں خود تم کو کراچی چھوڑ کر آؤں گا۔ یوسف نے ہم دونوں کو ایئرپورٹ اتار دیا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی تایا نے نمرہ کو کال کر کے میرا ضروری سامان، چپل اور خاص کر پاسپورٹ تیار رکھنے اور یوسف کے ہاتھوں ائیرپورٹ بھیجنے کی تاکید کی۔ تایا کا چہرہ ضبط کی کوشش میں بالکل سرخ ہو رہا تھا۔

ائیرپورٹ پر تایا ٹکٹ وغیرہ خرید کر فارغ ہوئے اور مجھے بتایا کہ تین گھنٹے کے بعد فلائٹ ہے۔ پھر تایا نے ہاتھ جوڑ کے مجھ سے معافی مانگی۔ میں کیا جواب دیتی سر جھکائے روتی رہی۔ یوسف گھر سے میرا سامان بھی لے آیا اور ہم لوگوں کے لیے چائے اور سینڈوچ بھی، کھا کر کچھ دم میں دم آیا۔ جب جہاز نے سیالکوٹ کا رن وے چھوڑا تو پہلی بار میں نے اطمنان کا سانس لیا۔ گھر پہنچ کر میں نے کسی سے کچھ نہیں کہا مگر میرا حلیہ اور بے وقت کی آمد نے بےبے کو حیران و پریشان کر دیا تھا۔

تایا نے تابندہ کو کہا کہ فون کر کے دوکان سے ابے کو بلا لے۔ ابا کے آنے کے بعد تایا نے دونوں کو ساری روداد سنائی اور دست بستہ معافی بھی مانگی۔ میرے گھر سے نکلتے ہی نمرہ نے تایا جی کو فون کر دیا تھا۔ اس دن تایا جی اور آفتاب زمینوں پر جا رہے تھے اور اللہ کی کرنی کہ ٹائر پنکچر ہو گیا اور اتفاق کہ اسٹپنی بھی پنکچر شدہ تھی اس وجہ سے ان لوگوں کو شہر سے نکلنے میں دیر ہو گئ اور وہ دونوں بروقت بس اڈے پہنچ گئے۔

دوسرے دن صبح صبح تایا جی واپس سیالکوٹ چلے گئے۔ تایا جی نے کہا کے دھیئے میں خود یقعوب سے بات کر لوں گا۔ ہم لوگ حسنات کو لیکر چائیلڈ اسپیشلسٹ کے پاس گئے اور حسنات کے سر کے سائز پر ڈاکٹر نے بھی تشویش کا اظہار کیا اور پوچھا کہ کیا آپ دوران حمل ذہنی دباؤ یا پریشانی کا شکار رہی تھیں؟ میں نے اسے ساری رام کہانی سنا دی۔ وہ حیران تھی اب بھی جہالت کا یہ عالم ہے؟ اب بھی یہ سب کچھ ہوتا ہے؟

اس نے حسنات کے دو تین ٹسٹ لکھے اور مجھے اطمنان دلایا کہ حتمی صورت حال تو ٹسٹ کی رپورٹس آنے کے بعد ہی پتہ چلے گی پر اس کا تجربہ بتاتا ہے کہ خدانخواستہ خطرے کی کوئی بات نہیں اور حسنات کے دماغ کی گروتھ نارمل ہو گی۔ تیسرے دن ہم لوگوں کو شارجہ فلائی کرنا تھا مگر میں نے یعقوب سے کہا کہ پلیز آپ چلے جائیں، میں مکمل اطمنان کے بعد ہی شارجہ آؤں گی۔ ربّ کریم کا احسان کہ حسنات کی تمام رپورٹس ٹھیک تھیں۔

آج حسنات پانچ سال کا ہے اور بالکل نارمل اور صحت مند۔ اس کے بعد میری دو سال کی بیٹی ہے کنزا، اس کا بھی سر نارمل ہے، چھوٹا یا چوہے جیسا نہیں۔ ہم لوگ ہر سال چھٹیوں میں سیالکوٹ جاتے ہیں۔ حسنات اپنی دادی کی آنکھوں کا تارا ہے۔ نمرہ بتاتی ہے کہ اس دن گھر میں بہت طوفان اٹھا تھا، تایا تائی کو ان کے میکے بھیجنے کے درپے تھے اور بڑی مشکلوں سے باجی فرخندہ اور یعقوب نے تایا کو راضی کیا۔

تائی بھی بہت شرمندہ ہیں اور شکر کہ اپنی جہالت سے تائب بھی ہو چکی ہیں۔ میں یہی ظاہر کرتی ہوں کہ سب ٹھیک ہے مگر بخدا سیالکوٹ کا سفر میرے لیے بہت ہی صبر آزما اور اعصاب شکن ہوتا ہے۔ میں حسنات کو لمحے بھر کے لیے بھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی، کیا کروں ماں کا دل ہے وہم جاتا ہی نہیں۔ اللہ ہم لوگوں کا ایمان مضبوط رکھے اور شرک سے بچائے آمین۔

Check Also

Muahida e Ibrahimi Aur Mashriq e Wusta Ka Nato (2)

By Orya Maqbool Jan