Friday, 21 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Saira Kanwal
  4. Sahib e Iqtidar Kuch To Ehsaas Karen

Sahib e Iqtidar Kuch To Ehsaas Karen

صاحب اقتدار کچھ تو احساس کریں

پٹرول کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ہی پورے ملک میں مہنگائی کا جیسے طوفان آگیا ہے۔ اشیاء خوردونوش پہلے ہی عام عوام کو دیکھ کر دور بھاگ جاتی تھیں۔ عوام ہانپتے بھاگتے ان کو پکڑ کر گھر لاتے تھے۔ اب تو عوام میں بھاگنے کی سکت بھی نہیں رہی۔ اور اشیاء خوردونوش دور سے منہ چڑھا کر عوام کی بے بسی پر قہقہے لگا رہی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اس تیزی سے اضافہ ہوا ہے عام بندہ اپنے ہوش ہی کھو بیٹھا ہے۔

نگران حکومت کے پاس اس مہنگائی کی حقیقی اور ٹھوس وجوہات موجود ہیں۔ چلیں ایک لمحے کو مان لیا جائے کہ یہ گند عمران خان کی حکومت کا پھیلایا ہوا ہے۔ جس میں اتحادی حکومت اپنا حصہ ڈال کر رفو چکر ہوگئی۔ مگر نگران حکومت مرے ہوئے کو سو درے تو نا مارے۔ پینٹ کوٹ پہن کر ٹائیاں لگا کر جس شاندار کابینہ کی، جن یو ٹیوبر صحافیوں نے مدح سرائی کی تھی۔ وہ ہی کچھ خیال کر لیں۔ اپنے بنگلوں کی تزئین و آرائش پر عوام کا پیسہ نا لگائیں۔ یا پھر سیدھی بات کریں کہ الیکشنز جلد نا ہو پائیں گے۔ اس لئے ہم زیادہ عرصہ قیام کریں گے۔

میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ ہمارے ملک میں ووٹ ڈالنے کا تناسب آبادی سے کیوں نہیں میچ کرتا؟

اب احساس ہوتا ہے کہ عوام اپنی نفرت کا اظہار سیاستدانوں کو ووٹ نا ڈال کر کرتے ہے۔ آخر یہ الیکشنز کیوں ہوتے ہیں؟ وزیراعظم اور وزراء کرتے کیا ہیں؟ جتنا خرچہ پارلیمنٹ کے اجلاس پر ہوتا ہے۔ اور وہاں بے مقصد جو تقریریں ہوتی ہیں یا جو نام نہاد قوانین پاس ہوتے ہیں۔ عام عوام کو اس سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟

خوشامدیوں میں گھرے یہ وزراء ان کو شرم نہیں آتی؟ عام آدمی کی حالت نظر نہیں آتی؟ اپنے لیڈران کے حسن کی تعریف کرنے والے، ان کی خوشامد میں سبقت لے جانے والے، یہ کیسے لوگ ہیں؟ عام آدمی مرنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ کسی کو پرواہ نہیں۔ کب تک یہ کرکٹ میچ کی آڑ میں عوام کو بیوقوف بناتے رہیں گے؟

مجھے کسی ایک پاکستانی سیاستدان کا بتا دیں۔ جس کی روز مرہ کی زندگی پر مہنگائی نے کوئی اثر ڈالا ہو۔ انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فرق صرف عام آدمی کو پڑتا ہے۔ اور عام آدمی کی پرواہ کس کو ہے؟

میڈیا بھی اس ظلم میں برابر کا شریک ہے۔ اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے کے لئے سیاستدانوں کو اپنے پروگرام میں بلاتے ہیں۔ لڑائی کے تماشے لگاتے ہیں۔ کیوں کہ اصل موضوعات پر لا حاصل بحث کرکے بور ہو چکے ہیں۔ اب تفریح کا کچھ اور سامان چائیے۔

آخر کب تک ہم عوام ان باتوں سے دل بہلائیں۔ وہ آرہا ہے، یہ جا رہا ہے۔۔ کیا ان باتوں سے پیٹ بھرتے ہیں؟ بجلی کے بل ادا ہو جاتے ہیں؟ راشن سستا ہو جاتاہے؟

حدیث ہےکہ، غربت سے پناہ مانگو، یہ انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے۔۔

یاد رکھیں، جب غربت آتی ہے تو اخلاق، تربیت، سوچ، مذہبی اقدار سب کچھ چپکے سے گھر کے دروازے سے نکل جاتا ہے۔ بھوک انسان کو مردار تک کھلا دیتی ہے۔ پھر ایک ہجوم پیدا ہوتا ہے۔ اور جڑانوالہ جیسے واقعے رونما ہوتے ہیں۔ کیوں کہ لوگوں کو اپنی فرسٹریشن نکالنے کے لیے آسان ہدف کی ضرورت ہوتی ہے۔

اشرافیہ اور صاحب اقتدار ہوش کے ناخن لے لیں۔ پہلے ہی جیل میں مٹن قورمے اڑاتا ہوا شخص عوام کو لنگر خانوں پر لگا کر ان کی عزت نفس ختم کر چکا ہے۔ اب آپ لوگ اپنے پرانے سیاسی ہتھکنڈے عوام پر آزمانا چھوڑ دیں۔

شہباز شریف جتنی توجہ سے پاکستانی کرکٹ ٹیم پر ٹوئٹ کر رہے تھے، کاش اتنی توجہ سے عوام کے مسائل بھی حل کیے ہوتے۔ نواز شریف جو ساس پر جگت مار رہے تھے۔ کاش انھیں پتا ہوتا عوام کو اب ہنسی بھی نہیں آتی۔ بلاول اور آصف زرداری مل کر جو ڈرامے کر رہے ہیں۔ کاش انھیں پتا ہو، کہ عوام کو آپ کے اس طرز سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں۔

جماعت اسلامی کے مہنگائی مارچ ڈراموں کو عوام سمجھ چکی ہے۔ ایم کیو ایم اپنے اگلے حصے کے لیے جو کوشش کر رہی ہے وہ بھی عوام کو نظر آرہا ہے۔ اور سب سے بڑی بےشرم جماعت تحریک انصاف کی تو بات ہی نا کریں۔ جو ملک کو اس حال میں پہنچا کر جیل میں بیٹھے مفت کی روٹیاں توڑ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے پیڈ کارکنان ہمیں بتا رہے ہیں کہ مریم نواز شریف کتنی خوبصورت ہیں؟ بلاول کا انداز بھٹو سے کتنا ملتا ہے؟ سراج الحق کتنا سادہ بندہ ہے۔

ہمارے ایک مشہور یو ٹیوبر صحافی تقریباََ اپنے ہر وی لاگ میں کہتے ہیں کہ میاں جدوں آئے گا تے لگ پتا جائے گا۔۔ جی عوام کو سب کا اچھی طرح پتا لگ گیا ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو عوام کی تکلیفوں کا کب پتا چلے گا؟

Check Also

Tareekh

By Mubashir Ali Zaidi