Thursday, 20 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Saqib
  4. Post Doctorate On Find You Why (1)

Post Doctorate On Find You Why (1)

پوسٹ ڈاکٹریٹ آن فائنڈ یور وائی (1)

پچھلے مہینے عید کی چھٹیوں کے دوران اپنے دوست اور مینٹور سید عرفان احمد سے ملاقات ہوئی۔ مشہور لائف کوچ پروفیسر عبدالمتین بھی ہمراہ تھے۔ عرفان بھائی 30 کتابوں کے مصنف ہیں۔ اپنی ذات میں ایک ادارہ ایک نایاب انسان۔

کتابوں کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی کہ نظر بک شیلف پر پڑی ہوئی سائمن سینک (Simon Sinek) کی مشہور کتاب فائنڈ یور وائی Find Your Why پر پڑی۔ عرفان بھائی نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ پاکستان میں ایک ڈاکٹر عبداللہ عابد نامی شخص نے اس کتاب پر پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ہوئی ہے۔

جی ہاں دوستو! پاکستان میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں عرفان بھائی سے نمبر لے کر ڈاکٹر عبداللہ سے رابطہ کیا۔ سادہ سے درویش صفت آدمی پی ایچ ڈی سکالر اور وژن کا اندازہ تو پہلے ہی ہوگیا تھا۔

ڈاکٹر عبداللہ سوات یونیورسٹی میں سوشیالوجی کا مضمون پڑھاتے ہیں اور جیسے ہم نے ڈسکس کیا کہ لوگوں کو ان کی زندگی کا مقصد بتانا انہیں آگاہ کرنا کہ اللہ تعالی نے انہیں کسی خاص صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے یہ ان کی سپیشلٹی ہے۔

محترم دوستو کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے اندر وہ خاص صلاحیت کون سی ہے۔ مختلف شعبوں میں سالوں سے کام کرنے کے بعد بھی کیا آپ نے اپنے سکل سیٹ کو پہچانا؟ کیا آپ کام کرتے ہوئے انرجی میں ہوتے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ اپنے وائی کو پہچانیں۔

اگر آپ کا جواب یس میں ہے تو یہ کالم آپ کے لیے ہے تو توجہ کے ساتھ آپ نے اس کو اختتام تک پڑھنا ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ عابد کا تعلق چارسدہ شہر سے ہے۔ عرفان بھائی کی طرح ڈاکٹر صاحب بھی اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ سخت کوش، ویژنری اور دینے کی صفت رکھنے والے۔

اس کو دیکھا تو مصور سے

میرا ربط بڑھا

میں نے اس شخص میں قدرت کے نظارے دیکھے

ڈاکٹر عبداللہ نے اپنے والد صاحب کو سخت محنت کرتے ہوئے دیکھا ان کے والد صاحب نے مزدوری کی، تمباکو کی بھٹی میں کام کیا اور پھر ایگریکلچر کے محکمے میں کلرک بھرتی ہوئے۔

کہتے ہیں ثاقب بھائی میں نے محنت کرنے کا سبق اپنے والد صاحب سے سیکھا اپنی والدہ کے بارے میں بتایا کہ وہ کفایت شعار تھیں۔ محدود آمدنی میں سے بھی باقاعدگی سے بچت کرتی تھی۔ اس کے ساتھ رشتہ داروں سے حسن سلوک اور سخاوت ان کی پہچان تھی۔

ڈاکٹر صاحب نے محنت کو اوڑنا بچھونا بنایا۔ پرائمری کے بعد ہائی سکول میں داخلہ ہوا جو ان کے گھر سے تین کلومیٹر دور تھا۔ ہر روز پیدل آتے اور جاتے اور راستے میں سبق یاد کرتے ہوئے جاتے تھے۔

گھر واپسی پر شام کو گھاس کاٹنے کی ذمہ داری بھی ان کے پاس تھی۔

گھاس کاٹتے ہوئے بھی اپنے اسباق کو رٹا مارتے رہتے۔ اسلامیہ کالج پشاور میں داخلے کا مرحلہ آتاہے ان کی نانی نے گھر میں ایک بچھرا پالا ہوا تھا اس کو بیچ کر ان کی کالج کی فیس ادا کی جاتی ہے۔ بتاتے ہیں کہ ایک مقامی مسجد میں ہے بطور نائب موذن کام کرتے رہے۔

مسجد کے ساتھ ہی ایک کوارٹر تھا جہاں مردوں کو لے کر جانے والا کھاٹ پڑا ہوتا تھا ایف ایس سی کے دوران دو سال اسی کھاٹ پر سوتے رہے۔

ان کے والد صاحب کہتے تھے آپ ترقی کرکے دکھاؤ پیسوں کا بندوبست میں کروں گا۔

سوشل ورک میں پی ایچ ڈی کی اور اس کے بعد جامعۃ الرشید کراچی سے عالم کا کورس کیا۔ گویا دین اور دنیاوی مہارت کا حسین امتزاج۔

2008 میں جامعۃ الرشید سے فارغ ہونے کے بعد 2009 میں کوہاٹ یونیورسٹی سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور آج 2024 تک ہزاروں لوگوں کی زندگیاں تبدیل کی صرف سوات میں 300 مفتیان کرام آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔

واپس اپنے ٹاپک پرآتے ہیں اور زندگی میں وائی کیوں اور کیسے نکالا جائے اس پر بات کرتے ہیں۔

کہتے ہیں ثاقب بھائی زندگی میں کوئی واضح مقصد نہ ہونا انسان کے ناخوش ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

بہت سے لوگ بے مقصد زندگی جی رہے ہوتے ہیں ان کی زندگی میں کوئی گول نہیں ہوتا کوئی مقصد نہیں ہوتا مقصد کے بغیر زندگی ادھوری رہتی ہے گمنام رہتی ہے انسان جی تو رہا ہوتا ہے لیکن مطمئن نہیں ہوتا اندر سے ہمیشہ کچھ کمی سی رہتی ہے جیسے کسی چیز کی تلاش ہو۔

مقصد انسان کی زندگی کو فوکس دیتا ہے کمپوز رکھتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی توجہ ایک منزل کی طرف رہتی ہے جو اسے کبھی گمراہ نہیں ہونے دیتی کبھی بے چین نہیں ہونے دیتی اور انسان خوبصورتی سے اپنی ذہنی و جسمانی صحت کے ساتھ منظر کی طرف چلتا رہتا ہے۔

لاعلمی اور سادگی کی وجہ سے انسان کسی ایسے کام میں اپنی زندگی کھپا دیتا ہے جو سرے سے اس کی خوشیوں سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتا۔

سادگی میں جان دے بیٹھے ہزاروں کوہ کن
آدمی پوچھے تو ایسی سادگی بھی جرم ہے

انسان کی لا علمی کو مولانا رومی نے بڑی خوبصورتی سے اپنی مثنوی میں بیان کیا۔

ایک دفعہ چند آدمی ہندوستان سے ایک ہاتھی کسی دوسرے ملک میں لے گئے۔ اس علاقے کے لوگوں نے ہاتھی نہیں دیکھا ہوا تھا ان آدمیوں نے ہاتھی کو ایک تاریک کمرے میں باندھ دیا۔ لوگوں کو جب ہاتھی کے متعلق پتہ چلا تو وہ جوق در جوق اس مکان کی طرف جانے لگے تاریک کمرہ اور ہاتھی بھی سیاہ فام۔ دیکھنے والوں کا ہجوم تھا لیکن ہاتھی دیکھنے کا شوق اندھیرے میں غالب آیا جب آنکھوں سے کچھ نہ دکھائی دیتا تو ہاتھوں سے ٹٹول کر قیاس کرنے لگے جس شخص کے ہاتھ میں جو حصہ ہوتا وہ عقل سے اس پر دلیل اور قیاس کرتا۔

چنانچہ جس شخص کے ہاتھ میں اس کا کان تھا اس نے کہا یہ تو ایک بڑا سا پنکھا معلوم ہوتا ہے اور جس شخص کا ہاتھ اس کی پشت پر تھا اس نے کہا یہ تو مثل تخت ہے اور جس شخص کا ہاتھ اس کے پاؤں اور ٹانگوں کو لگا اس نے ٹٹول کر کہا نہیں آپ لوگ غلط کہتے ہیں یہ تو مثل ستون ہے اور جس کا ہاتھ اس کی سونڈ پر پڑا اس نے کہا تم سب غلط کہتے ہو یا رویہ کہتے ہو کہتے ہو یا رویہ حیوان تو نلوے جیسا ہے۔

غرض ہر شخص کا دعوی تھا ہاتھی ویسا ہی ہے۔ جیسا اس نے ٹٹول کر جانا بوجھا ہے۔

ہر ایک کی ٹٹول الگ تھی کسی نے کہا "الف" ہے اور کسی نے کہا "ب" مگر ہاتھی کی ابجد سے کوئی بھی واقف نہ تھا۔

ہاں اگر ان کے ہاتھوں میں اندھیرا دور کرنے والی شمع روشن ہوتی تو اختلافات ختم ہو جاتے اور پتہ چل جاتا کہ ہاتھی کی شکل و شباہت کیسی ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ کہتے ہیں کہ اپنا وائی (زندگی کا مقصد) نکالنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ سائمن سینک نے اپنی کتاب میں اس کو معلوم کرنے کے تین سٹیپ بتائے ہیں۔

1۔ آپ کی زندگی کا مقصد کسی واقعے کی صورت میں ماضی میں آپ کے ساتھ وقوع پذیر ہو چکا ہوتا ہے۔ آپ کسی سینیئر شخص (کوچ، ٹیچر) کے پاس جائیں جو آپ کا دوست اور رشتہ دار نہ ہو یعنی آپ اس کے لیے اجنبی ہوں اور اپنی لائف سٹوری اس کے ساتھ شیئر کریں۔ آپ کے پاسٹ کے اندر ہی آپ کا وائی چھپا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا کوئی مثال دے کر سمجھائیں آپ نے اپنا وائی کیسے نکالا۔

مسکرا کر جواب دیا کہ میرے بچپن میں ہمارے گاؤں میں بہت سی بیوہ خواتین رہتی تھیں وہ چھوٹا موٹا سودا اور دیگر ضروری اشیاء لانے کے لیے مجھے بھیج دیتی تھیں۔

میں جب ان کے گھر جاتا تو دیکھتا تھا کہ ان کے چہروں پر اداسی ہے لباس بھی غریبانہ اور میلا کچیلا ہے میں واپس آ کر اپنے والدہ سے پوچھتا کہ اس گھر میں باقی خواتین خوش ہیں اچھا لباس پہنتی ہیں تو یہ خاتون کیوں افسردہ ہے۔

میری والدہ جواب دیتی بیٹا جب آپ بڑے ہوں گے تو یہ بات آپ کی سمجھ میں خود بخود آ جائے گی۔

کہتے ہیں جب میں کالج میں تھا تو بیوہ عورتوں کی مدد کرنے کا جذبہ اتنا شدید تھا کہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں شادی بھی ایک بیوہ خاتون سے ہی کروں گا ایسا نہ ہو سکا ان کی شادی ان کی کزن کے ساتھ ہوگئی۔

ڈاکٹر صاحب نے یہاں سے اپنے وائی پہچانا۔ سوشل ورک کی فیلڈ میں آئے اور صرف چار سدہ میں 1050 بیوہ خواتین کو مختلف ٹریننگز دلوا کر باعزت روزگار پر لگا دیا۔

(جاری ہے)

About Muhammad Saqib

Muhammad Saqib is a mental health consultant who has been working in the fields of hypnotherapy, leadership building, mindfulness and emotional intelligence for over ten years. Apart from being a corporate trainer, he is involved in research and compilation and documenting the success stories of Pakistani personalities in the light of Mindscience. Well-known columnist and host Javed Chaudhry is also a part of the trainers team.

Check Also

Chota Gosht

By Javed Ayaz Khan