1.  Home/
  2. Blog/
  3. Ibn e Fazil/
  4. Cholistan Ke Liye Do Boondein

Cholistan Ke Liye Do Boondein

میں جب بھی کسی دنیوی معاملہ پر ربّ رحیم سے مدد کے لیے دعا کرنے کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہوں کہیں سے کوئی صدا آتی ہے۔

ہم تو تمہاری استدعا سنیں گے بھی اور ضروری احکامات بھی جاری ہوں گے۔ مگر

کیا دعا سے پہلے تم نے خود اپنی مدد کرلی؟

میں رک جاتا ہوں۔ اٹھتے ہاتھ نیچے کرلیتا ہوں۔

مذکورہ کام کے لیے اپنی منصوبہ بندی سے لےکر عملی کاوش تک سب کا جائزہ لیتا ہوں، دیکھتا ہوں کہ کیا تمام دستیاب وسائل بروقت بروئےکار لائے جا چکے، مختلف امور درست لوگوں کے ذمہ لگائے جا چکے، کام کی رفتار اور دیگر مسائل کا جائزہ لینے کے لیے نظام وضع ہے، غفلت، بددیانتی اور سہل پسندی کہاں کہاں کیا کیا مسائل پیدا کرسکتی ہے اور اس کے تدارک کا طریقہ کیا ہو گا۔ وغیرہ وغیرہ؟

میں پھر سے ہاتھ اٹھاتا ہوں۔

اللہ کریم میری مدد فرما۔

آج میں چولستان کی پیاس کے لیے دعا کرنا چاہتا تھا۔

میرے ہاتھ اٹھے اللہ کریم چولستان کے باسیوں کی پیاس مٹا دے۔

کہیں سے سوال اٹھا۔ کیا تم نے مقدور بھر کوشش کرلی؟

میں نے ہاتھ نیچے کیے۔ سوچنا شروع کیا۔ ہم کیا کیا کرسکتے تھے؟ ہم نے کیا کیا؟ دنیا بھر میں کیا کیا ہورہا ہے؟ میری آنکھوں کے سامنے مختلف مناظر تھے۔ جزیرہ نما دبئی تھا۔ جہاں زمینی پانی کا ایک قطرہ بھی دستیاب نہیں۔ بارش کا چہرہ سالوں بعد دیکھنے کو ملتا۔ مگر لاکھوں نفوس کو روزانہ کروڑوں گیلن پانی سمندری پانی کو مصفی کرکے فراہم کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے جدید علوم کے ماہرین عمودی کاشتکاری Virtical Farming سے ہزاروں روپے فی کلو والی اجناس اگاتے ہیں۔

میرے سامنے اسرائیل کے صحرا تھے نخلستان بنے۔ دنیا کے جدید ترین زرعی نظام سے آراستہ انتہائی مہنگے داموں فروخت ہونے والی نئی اقسام کے پھولوں اور اجناس سے لدے پودوں کی قطا ریں۔

میرے سامنے وطن عزیز کے مختلف علاقے ہیں سیلابی پانی میں ڈوبے۔ اجناس تباہ، جانور تباہ، انسان پراگندہ حال۔ طاقت والے، وسائل والے منصوبہ بندی کی بجائے، ڈیم بنانے کی بجائے امداد کی بھیک دے کر امیج بلڈنگ کرتے ہوئے۔

بھوکے ننگے بچے، بوڑھے امدادی سامان کے ٹرکوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے۔

میرے سامنے لاکھوں آوارہ بچے ہیں سکولوں سے باہر، کسمپرسی کی لازوال داستان کے مکروہ کردار بن کر پرورش پاتے ہوئے۔

میرے سامنے ڈرامہ باز کردار ہیں جھوٹے وعدے لیے لوگوں کو نئے طریقوں سے بیوقوف بناتے ہوئے۔

میرے سامنے انسانی صورت میں ہیٹ پہنے بھیڑیے ہیں جو دھرتی ماں کو بھنبھوڑ رہے ہیں۔ اس کا خون چوس رہے ہیں، زندہ ماں کا گوشت نوچ نوچ کر کھارہے ہیں۔

میرے سامنے یونیورسٹیوں کے پروفیسران ہیں۔ خوش گپیاں کرتے ہوئے۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوئے، جو تحقیق کر سکتے تھے، لوگوں کی راہنمائی کر سکتے تھے کہ زیرِ زمین کڑوے پانی کو کیسے قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے؟ جو یہ سکھا سکتے تھے کم سے کم پانی سے کیسے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں؟

میرے سامنے فائلوں کے ڈھیر ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ پانی کے لیے چھوٹے چھوٹے ڈیموں کے لیے اور ان سے پانی کھیت تک پہنچانے والے کھالے بنانے کے لیے ایشئن بینک سے اربوں کے قرضے لیے گئے جن پر باقاعدگی سے سود بھی دیا جارہا مگر وہ جانے کہاں گئے کس شکم آتشیں کا ایندھن ہوئے؟

میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ دعا کی ہمت ختم ہوجاتی ہے۔ کڑوے حلق سے زور مار کر پانی کی دوبوندیں آنکھوں کے دریچوں سے راستہ بنا لیتی ہیں۔ میں بے بسی سے سوچتا ہوں کہ بس یہی دو بوندیں فی الحال دے سکتا ہوں۔ تھر کے باسیوں کے لیے عطیہ۔

لیکن کوئی پھر سے مداخلت کررہا ہے۔ کہہ رہا ہے یہ غلط ہے تم بے بس نہیں، انسان بے بس نہیں۔ دنیا کا کوئی انسان بھی بے بس نہیں۔ تمہارے ذمہ یہ ہے کہ تم اپنے حصے کا کام پوری دیانتداری اور اور اخلاص سے کرو اپنے دستیاب وسائل کو درست طریقے سے استعمال کرو اور پھر دعا کرو۔

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں

راہ دِکھلائیں کسے راہرو منزل ہی نہیں۔

یاس کا پردہ چھٹ رہا ہے۔ میں پھر سے تازہ دم ہو رہا ہوں۔ پھر سے توانائی بحال ہو رہی ہے۔ اب کی بار ہم سب مل کر انسانوں کی اجتماعی طاقت سے، پورے اخلاص سے ہر شر سے بھڑ جائیں گے اپنے حصے کی خیر بھیڑیوں کے پنجوں سے بھی چھین لائیں گے۔ اٹھو اب کوئی ہمارا حق نہ کھا سکے گا۔ اٹھو ہم اپنی طاقت اور حکمت سے اپنی پیاس ہمیشہ کے لئے ختم کر دیں۔ اپنی محرومیوں کو گہرا دفن کردیں۔

Check Also

Yun Dukano Par Zameeron Ki Farawani Na Thi

By Orya Maqbool Jan