Wednesday, 24 July 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asadullah Raisani
  4. Islam Ki Taleemat Aur Jaranwala (2)

Islam Ki Taleemat Aur Jaranwala (2)

اسلام کی تعلیمات اور جڑانوالہ (2)

اس عہد کے گواہوں میں رسول اللہ ﷺ کے چند نامور صحابہؓ بھی شامل تھے۔ ان میں علی بن ابی طالبؓ جنہوں نے عہد نامہ لکھا، ابوبکر بن ابی قحافہؓ، عمر بن الخطابؓ، عثمان بن عفانؓ، عباس بن عبدالمطلبؓ وغیرہ شامل تھے۔

عہدنامے کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک کا نشان ہے۔ یہ عہدنامہ دنیا کی واحد دستاویز ہے جس پر حضور اکرمﷺ کے دست مبارک کا نقش ہے۔ اس عہد میں واضح طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ حضورﷺ نے عیسائیوں کو اپنی رعایا قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عہد شکنی پیغمبر اکرمﷺ کے احکام کی خلاف ورزی اور اللہ تعالی کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے، جیسہ کہ اس عہدنامے میں واضح لکھا ہوا ہے، "معاہدے کی خلاف ورضی کرنے والا خدا اور اس کے حکم کا نافرمان ہوگا، اس حکم کی نافرمانی کرنے والا بادشاہ یا عام آدمی خدا کے قہر کا حقدار ہوگا"۔

سیالکوٹ میں سری لنکن شخص پریانتھا کمارا (Priyantha Kumara) پر تشدد کرنے کا حالیہ واقعہ جس میں اس پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا، اور جڑانوالہ کے عیسائیوں اور ان کی عبادت گاہوں، ان کے پادریوں اور خاندانوں پر اسی طرح کے الزامات کی بنیاد پر حملہ کرنا، مذکورہ عہدنامے کی واضح، سراسر اور شرمناک خلاف ورزیاں ہیں جو سینٹ کیتھرائن کے عیسائیوں اور خود حضرت محمدﷺ کے درمیان طے پائے تھے۔

نبی اکرمﷺ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ "دین میں انتہا پسند نہ بنو"۔ (صحیح بخاری 39) آپ ﷺ نے غیر مسلم شہریوں کو نقصان نہ پہنچانے کا بھی حکم دیا اور اس بات پر زور دیا کہ مضبوط معاشرے کی بنیاد انصاف ہے۔

ایسے ناخوشگوار واقعات کو روکنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کی زندگی سے واضح اصول موجود ہیں۔ آپﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں واضح طور پر کہا کہ "میں اپنے پیچھے دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، قرآن اور اپنی مثال سُنت اور اگر تم ان پر عمل کرو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے"۔ آپﷺ کی زندگی سے ایسی ہی ایک ہدایت یہ ہے کہ آپﷺ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ "اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم"۔ لوگوں نے پوچھا، "یا رسول اللہﷺ! اگر وہ مظلوم ہے تو اس کی مدد کرنا ٹھیک ہے لیکن اگر وہ ظالم ہے تو ہم اس کی مدد کیسے کریں؟" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، "اسے دوسروں پر ظلم کرنے سے روک کر"۔ (صحیح بخاری 2443)

لہٰذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ساتھی مسلمانوں کے ظلم کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ جیسا کہ ملک عدنان نے لنکن شخص پریانتھا کمارا کی جان بچانے کی کوشش کی اور اسے بجا طور پر حکومت پاکستان کی طرف سے "اخلاقی جرات اور بہادری" کے لیے سول ایوارڈ تمغہ شجاعت سے نوازا گیا۔ ہاتھ یا زبان سے کسی برے کام کو روکنا یا کم از کم دل میں برا جاننا بھی ایمان کی نشانی ہے۔

قرآن کریم میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ سابقہ مقدس کتابیں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجیں گئیں ہیں (5: 48 اور 3: 3)، اِن آسمانی کتابوں کا احترام کرنا اور انہیں مقدس تسلیم کرنا اسلام کے بنیادی عقائد کا حصہ ہے۔ (2: 177) لہٰذا جو لوگ منبرِ رسول ﷺ پر بیٹھے ہیں ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ مقدس کتابوں کی تقدس کی پامالی کی کھلے الفاظ میں مذمت کریں تاکہ ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والے مذہبی اسکالرز کو بھی ایسے واقعات پر واضح مؤ قف اختیار کرنا چاہیے۔ ورنہ سویڈن اور فن لینڈ میں قرآن پاک کے جلائے جانے کی مذمت کرنا لیکن انجیلِ مقدس کے جلائےجانے پر چُپی سادھ لینا سراسر دوہراپن ہے۔

مزید یہ کہ اللہ تعالٰی سورۃ البقرہ میں حکم دیتا ہے کہ"دین میں کوئی زبردستی نہیں" (2: 256)۔ اللہ تعالٰی سورۃ النساء آیت نمبر 135,سورۃ الحجرات آیت 9,سورۃ المائدہ آیت 8,سورۃ الانعام آیت 152 اور سورۃ النحل آیت 90 میں بغیر کسی تعصب و طرفداری کے انصاف کرنے کا حکم بھی دیتا ہے۔ ہمارے اداروں بالخصوص عدلیہ کو چاہیے کہ وہ قرآن پاک میں مذکور خدا کے قانون کی پاسداری کریں اور جڑانوالہ کے متاثرین کے لیے جلدازجلد انصاف کو ممکن بنائیں۔ اس طرح کے دیگر کیسز جہاں"توہین رسالت" اور "توہین مذہب" کو ایک چھڑی کے طور پر استعمال کرکے غیر مسلم شہریوں کو نشانا بنایا جاتا ہے، کو بھی ترجیحاتی بنیاد پر حل کرنا چاہیئے۔

انفرادی سطح پر بھی رسول اللہﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا، "جس نے کسی ایسے شخص کو قتل کیا جس کا مسلمانوں سے معاہدہ تھا، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ پائیگا، اگرچہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے سونگھی جاسکتی ہے"۔ (صحیح بخاری 3166) غالباً اس طرح کی کوئی واضح تنبیہ نہیں ہو سکتی ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہی ملک کے عیسائی یا دوسرے غیرمسلم شہریوں کو نقصان پہنچانے کے لیئے دوسروں کو اُکساتے ہیں جب کہ وہ جانتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین پاکستان کے ہر شہری کو بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ آئین غیر مسلموں کو تحفظ کا یقین دلاتا ہے۔

مختصر یہ کہ کسی بھی انسان یا اس کی املاک کو نقصان پہنچانے کے بارے میں قرآن و سنت واضح تنبیہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالٰی کے رسول ﷺنے بھی بارہا مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ غیر مسلم شہریوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور ان سے اختلاف کے باوجود ان کے عقائد کا احترام کریں۔ تاہم، ان پر توہین مذہب کا الزام لگانا اور پھر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر انہیں نقصان پہنچانا کچھ بھی ہو سکتا ہے پر اسلام نہیں۔ قانون کو ہاتھ میں لینے سے افراتفری میں اضافہ ہوتا ہے اس لیئے اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے، " جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک جان کو (قتل سے بچا کر) زندہ رکھا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا"۔ (القرآن 5: 32)

Check Also

Sakoon Ki Talash

By Muhammad Zeashan Butt