Monday, 03 October 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Altaf Ahmad Aamir

Zameer Mutmain Kab Hoga

کیا تم جانتے ہو کہ انسان کب صاف ستھرا اور پاک ہوتا ہے؟ میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا وہ بولے جب انسان کا برتن (بھانڈا) اندر باہر سے صاف ہو تو ورنہ نہیں۔ انسان کے باہر کا برتن (بھانڈا) تو پانچ وقت وضو کرنے سے، پاکیزگی کا خیال رکھنے سے صاف ہوجاتا ہے مگر اندر کا برتن (بھانڈا) اُس وقت تک صاف نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے رب کے سامنے سجدہ نہیں کرتا اور اپنے دل کو شرک، تکبر اور جھوٹ سے پاک نہیں کرتا۔ جب ہم اپنے ہر عمل اور کام میں تکبر کریں یا بات بات پر جھوٹ بولیں تو ہم کس طرح سے صاف ستھرے ہو سکتے ہیں؟ اس لیے اگر ہم اپنے بھانڈے کو اندر باہر سے صاف کر لیں تو باقی برائیاں ویسے ہی ختم ہو جائیں گی۔

ہمارے تکبر کا یہ حال ہوتا ہے کہ ہم اپنی شادی بیاہ کی تقریبات میں اپنے آپ کو دوسروں سے نمایاں کرنے کے لیے کیا کیا نہیں کرتے، ہمارے ملک کے علاوہ کون سا ایسا ملک ہوگا جہاں لوگ شادی بیاہ کی تقریبات پر پیسہ پھینکتے ہیں، یہ تکبر اور جہالت نہیں تو اور کیا ہے، ہم اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنے کے لیے ادھار پیسےلیتے ہیں اور ایسی تقریبات میں فضول رسومات کرکے اپنے آپ کو بڑا محسوس کرتے ہیں، ہمارے دلوں میں کہیں نہ کہیں تکبر تو ہے یعنی اندر کا برتن (بھانڈا) صاف نہیں ہے۔ میں اُن کی باتیں بڑے دھیان سے سُن رہا تھا، اُنہوں نے کہا کہ ہم زندگی فرعون والی گزار کے آخرت موسی والی چاہتے ہیں، یعنی فرعون نے تکبر اپنی استطاعت کے مطابق کیا اور ہم سب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کر رہے ہیں۔

اگر ہم نے دیکھنا ہو کہ ہماری آخرت کی زندگی کیسی ہوگی تو ہم اپنے دنیوی زندگی کے روزمرہ کے معاملات دیکھ لیں تو پتہ چل جائے گا، سب سے بڑا لٹمس پیپر تو انسان کا اپنا ضمیر ہے، اگر رات سوتے وقت آپ کا ضمیر مطمئن ہے کہ آج کے دن آپ نے کسی سے زیادتی نہیں کی، کسی کا دل نہیں دکھایا، اپنے گھر باہر، اپنے دوستوں، رشتہ داروں کے ساتھ خوش اخلاقی اور نرمی سے پیش آئے ہیں تو یقین جانو آپ کو سکون کی نیند آئے گی اور آپ کی آخرت بھی اچھی ہوگی، لیکن اگر ہمیں ہمارا ضمیر ملامت کرتا رہے اور سکون کی نیند تک نہ آئے تو سمجھو برتن (بھانڈا) اندر سے صاف نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کو ہمیشہ آدھا گلاس خالی نظر آتا ہے آدھا بھرا ہوا کبھی دیکھائی نہیں دیتا، ہم کوئی ایسا موقع ضائع نہیں کرتے جس میں دوسروں کی کمزوریوں، ناکامیوں اور برائیوں کو نہ اُچھالتے ہوں، لیکن کسی کی خوبیوں کو بیان نہیں کرتے، جس دن ہم کو یہ سمجھ آگئی کہ ہم نے دوسروں کے لئے راحت کا باعث بننا ہے، اُس دن ہماری زندگیوں میں بھی سکون آجائے گا۔ حضرت علی ؑکا فرمان مبارک ہے "کہ انسان بولنا ایک سال میں سیکھ لیتا ہے لیکن کب اور کیا بولنا ہے یہ سیکھنے کے لئے پوری عمر لگ جاتی ہے"۔

پرانے وقتوں میں کسی بادشاہ کو خواب آیا کہ اس کے سار ے دانت گر گئے ہیں، بادشاہ نے خواب کی تعبیر کسی سے پوچھی تو اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ کے سارے گھر والے آپ کی زندگی میں ہی فوت ہو جائیں گے، بادشاہ یہ سن کر بہت پریشان ہوگیا، کسی اور نے بھی بادشاہ کو اس خواب کی تعبیر یہی بتائی۔ پھر بادشاہ نے اپنا خواب وزیر کو بتایا اور اُس سے اُس خواب کی تعبیر پوچھی تو وزیر نے کہا بادشاہ سلامت اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کی زندگی بڑی لمبی ہو گی، یہ سن کر بادشاہ خوش ہوگیا۔ اب بات تو ایک ہی تھی کیونکہ زندگی جب لمبی ہو گئی تو پھر رشتے دار یا گھر والے بادشاہ کی آنکھوں کے سامنے ہی فوت ہوتے، لیکن بات کے انداز نے بادشاہ کی پریشانی کم کر دیا"۔

اسی طرح ہم محبت، نفرت، لڑائی جھگڑوں اور روزمرہ کے معاملات میں اعتدال پسند ہوں تو ہم کبھی پریشان نہ ہوں، ہمیں کسی سے محبت ہو تو ہم جان دینے اور کسی سے نفرت ہو تو جان لینے کو تیار ہو جاتے ہیں، اگر ہم ہر معاملے میں اعتدال پسندی سے کام لیں تو زندگی میں سکون ہی رہے گا۔ اُن کی ایک ایک بات میں حقیقت اور سچائی تھی۔ شفیق دھول صاحب کی عمر اڑسٹھ سال کے لگ بھگ ہوگی، میں نے اُن سے پوچھا کہ سر آج کا دور بہتر ہے یا آج سے چالیس سال پہلے والا، انہوں نے کہا میں نے یہی سوال اپنے گاؤں کے ایک بزرگ سے پوچھا تھا جب میں جوان تھا۔

کہ چچا رحم دین 1950ء کا دور اچھا تھا جب آپ کے حالات بہت زیادہ خراب ہوا کرتے تھے یا آج کا دور اچھا ہے کہ جب آپ کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے، مال و دولت ہے اچھی اولاد ہے اور ضرورت کی ہر چیز موجود ہے، تو چاچا رحم دین جسے ہم چاچا رحماں کہا کرتے تھے نے کہا کہ پُتر وقت 1950ء والا ہی چنگا سی، اُس وقت بے شک بہت مشکل حالات تھے، زندگی بہت کٹھن تھی، بھوک اور افلاس کی کیفیت تھی مگر میں اُس وقت جوان اور صحت مند تھا، اس وقت سوکھی روٹی بھی بہت طاقت دیتی تھی لیکن آج سب کچھ کھانے کو ہے مگر وہ طاقت اور صحت نہیں تو یاد رکھو وقت وہی اچھا ہوتا ہے جب آپ صحت مند اور تندرست ہوں، وہی زمانہ بہترین زمانہ ہوتا ہے، اس لئے اپنی صحت مند زندگی کا شکرگزار ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر کہتے ہیں اگر تمہاری نیند سات یا آٹھ گھنٹے پوری نہیں ہوتی تو یہ تمہاری صحت کے لیے بہتر نہیں کیونکہ صحت مند انسان کے لئے نیند بہت ضروری ہے، اللہ نے رات آرام کے لئے بنائی کہ نیند پوری ہو سکے بلکہ دن کھانے کے بعد بھی قیلولہ کا حکم ہے، مگر فجر کی اذان میں ہے کہ "نماز نیند سے بہتر ہے" کیا تم نے کبھی اس کا مطلب سمجھنے کی کوشش کی، میں زیادہ متوجہ ہوا تو اُنھوں نے کہا نیند میں سکون ہے جو صحت مند جسم کے لیے ضروری ہے، لیکن جب نماز کا وقت ہوجائے تو نماز نیند سے بہتر ہے اور یقینا بہتر ہے، لہذا اگر واقعی سکون والی زندگی چاہیے تو انسان کو اپنے ظاہر اور باطن کو صاف کرنا ہوگا، اپنے رب کے سامنے پانچ وقت اپنے سر کو جھکا نا ہوگا تو تب ہی انسان کا برتن (بھانڈا) اندر باہر سے صاف ہوگا ورنہ نہیں۔

Check Also

Roshni Jaisi Larkiyan

By Zaara Mazhar