Monday, 03 October 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Altaf Ahmad Aamir

Tarbiat

ایک نہ ایک دن ہر انسان نے اس دنیا سے جانا ہے اور ہر کسی کی یہ خواہش ہوتی ہے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی لوگ اسے کسی اچھے حوالے سے یاد رکھیں۔ آپ ایک قابل سرجن اور پاکستان کے نامور موٹیویشنل اسپیکر ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کی کیا خواہش ہے کہ لوگ آپ کوایک اچھے سرجن کے حوالے سے یاد رکھیں یا پھر موٹیویشنل اسپیکر کی حیثیت سے؟

ڈاکٹر صاحب بولے کہ دوستوں سے گپ شپ کرتےہوئے یا میڈیکل کے طلباء کو پڑھانے کے دوران میرے کچھ لیکچرز ریکارڈ ہوئے۔ لوگوں نے وہ لیکچرز سنے، پسند کیے اور وہ ویڈیوز وائرل ہو گئیں اور لوگ مجھے موٹیویشنل اسپیکر کے طو پر جاننے لگے۔ حالانکہ میں ادارۃً "موٹیوشنل اسپیکر" نہیں بنا۔ ہر بندے کے پاس مخصوص شعبے کا علم ہوتا ہے باقی اُس کی زندگی کے مشاہدات ہوتے ہیں جس سے دوسرے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اکثر لوگ مجھ سے اپنے ایسے ایسے مسائل کا حل پوچھتے ہیں جن کا حل میں سرے سے میں جانتا ہی نہیں۔ لیکن میری طرح جب کوئی "پبلک فگر" بن جائے تو پھر لوگ سمجھتے ہیں کہ اس شخص کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود ہو گا، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ میں میڈیکل کے طلباء کا ایک استاد ہوں اور مجھے یہی اچھا لگے گا کہ لوگ مجھے ایک استاد کی حیثیت سے ہی یاد رکھیں۔

پروفیسر جاوید اقبال سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ 20نومبر2021ء کو لاہور سے بہاولپور میں لیونچر ٹورز کے زیرانتظام عثمان بھائی۔ شیراز چشتی اورکچھ دوستوں ُکے ساتھ قلعہ دیراوڑ اور نور محل دیکھنے آیا تھا۔ اس شیڈول میں ڈاکٹر صاحب سے ملاقات بھی شامل تھی۔ ہم دن 2بجے بہاولپور ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کے فارم ہاؤس پہنچے مرکزی دروازے پر مصباح اپنے بیٹے کے ساتھ تمام شرکاء کو خوش آمدید کہنے کے لیے کھڑی تھی۔ مصباح، ڈاکٹر صاحب کی اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں اور بہاولپور کی ایک یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں۔ جب ہم فارم ہاؤس پہنچے تو ڈاکٹر صاحب پہلے ہی اپنے فارم ہاؤس کے لان میں موجود تھے۔ تمام شرکاء نے ڈاکٹر صاحب کو فرداً فرداً اپنا تعارف کروایا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز کر دیا۔

ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ میری عمر 61سال ہونے کے قریب ہے۔ میری عمر کی جو نسل تھی اُس سے شاید کہیں جانے ان جانے میں یہ غلطی ہو گئی کہ ہم نے بچوں کے ذہنوں میں یہ ڈال دیا کہ بڑا بندہ وہ ہوتا ہے جس کے پاس پیسہ زیادہ ہو، گھر بڑا ہو، بڑی گاڑی ہو اور جس نے کسی برینڈ کا سوٹ پہن رکھا ہو۔ اس کا اثر یہ ہو کہ ہمارے گھروں میں ایسی گفتگو ہونا شروع ہو گئی کہ گاڑی کا نیا ماڈل لینا ہے، فلاں برینڈ کے کپڑے لینے ہیں یا فلاں چیز میں نے دو لاکھ کی خریدی وغیرہ۔

دوسری غلطی ہم سے یہ ہوئی کہ ہم نے اپنی نئی نسل کو ترقی کی تعریف ہی غلط بتائی۔ ہم نے انہیں یہ بتایا کہ آپ نے نمبرز زیادہ لینے ہیں۔ ڈاکٹر بننا ہے، انجینئر بننا ہے، کوئی بڑا افسر بننا ہے یا پھر امریکہ یا یورپ جانا ہےتو تب ہی تم کامیاب کہلاؤ گے۔ یہ سب غلط نہیں تھا اس سے ہم سب کی زندگیوں میں بہتری تو آئی، ہم معاشی لحاظ سے بہتر ہو گئے لیکن اخلاقی قدروں کے حوالے سے بہت پیچھے رہ گئے۔ ہم سب انفرادی طور پر تو ترقی کر گئے لیکن ہمارا ملک ترقی نہ کر سکا اور اس انفرادی ترقی نے ہمیں خود غرض بنا دیا۔ آج ہمارے ملک میں ہر پرائیویٹ ادارہ ترقی کر رہا ہے لیکن جس ادارے کے ساتھ گورنمنٹ کا لفظ لگ گیا وہ ناکام ہوتا گیا۔ لہذا بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے فرد کو فرد کے لیے تیار کیا، فرد کو معاشرے کے لیے نہیں۔

ایک اور غلطی جو ہم سے ہوئی وہ بچوں کو ضرورت سے زیادہ ڈانٹنا تھا۔ بچوں اور بڑوں میں یہ فرق ہوتا ہے کہ بچوں کے سوچنے اور بولنے میں وقفہ نہیں ہوتا جبکہ بڑے پہلے سوچتے ہیں پھر بولتے ہیں۔ بچہ جب کچھ بولتا ہے تو ہم بڑے اکثر اُسے چپ کروا دیتے ہیں۔ درحقیقت ہم اسے بولنے سے نہیں سوچنے سے روک دیتے ہیں۔ اس لیے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے ماؤں کو خاص خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں اُن کی ڈانٹ بچوں کی سوچ تو محدود نہیں کر رہی۔

اس گفتگو کے دوران ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ باقی زندگی میں پاکستان اور پاکستان کے باہر جہاں جہاں پاکستانی آباد ہیں اُن کو یہ بات سمجھا سکوں کہ ہم نے اپنی نئی نسل کو خوشحال زندگی گذارنے کے ساتھ اس بات پر بھی فوکس کرنا ہے کہ ہم نے زندگی میں انفرادی نہیں اجتماعی ترقی کرنی ہے تاکہ ہمارا ملک خوشحال ہو سکے۔

ڈاکٹر صاحب نے اس گفتگو کے دوران گنے کے رس سے ہم سب شرکاء کی توضع کی۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے بولے کہ ایک بات یاد رکھیں کہ کبھی بھی پیسے کو سیلیبریٹ نہ کریں مثلاً اگر فانوس خرید کر لائے ہیں تو یہ نہ کہیں کہ یہ 2لاکھ کا ہے بلکہ کہیں کہ یہ کتنا خوبصورت ہے۔ آپ ہمیشہ خوبصورتی کو سیلیبریٹ کریں پیسے کو نہیں۔ بڑی گاڑی آپ نے لی ہے تو کہیں کہ گھر میں افراد زیادہ تھے اس لیے ہم نے بڑی گاڑی لی تا کہ آرام سے سفر کر سکیں، نہ کہ میں نے یہ گاڑی 2کروڑ کی لی ہے۔

پیسے کی بنیاد پر اپنے آپ کو بڑا اور دوسرں کو کم تر محسوس کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔ اگر آنے والی نسل نے بھی ہماری طرح یہی غلطیاں کیں جو ہم سے ہوئیں تو پھر خدانخواستہ آنے والی جنریشن ایسے خوفناک نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گی کہ ہم اُس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ لہذا ہماری ترقی سے مراد یہ نہیں کہ کتنی سڑکیں نئی بن گئیں کتنے پُل نئے بن گئے پیسہ کتنا کما لیا۔ اصل ترقی تو ہے کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی اعتبار سے کتنا بہتر ہوا۔

کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے عمارتیں، سڑکیں، پُل ضروری ہوتے ہیں لیکن ان سے کہیں بڑھ کر ہمیں اجتماعی سوچ اور مثبت رویوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا ہم سب نے اس معاشرہ کو سنوارنے کے لیے اپنے اپنے حصے کا دیا جلانا ہے۔ اس گفتگو کے اختتام پر ہم سب دوستوں نے ڈاکٹر جاوید اقبال کے ساتھ ایک گروپ فوٹو بنوایا اور آخر میں میں نے اپنے دونوں سفر نامے ڈاکٹر صاحب کو پیش کیے۔

Check Also

Taqat Ke 48 Qawaneen (3)

By Nida Ishaque