Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Altaf Ahmad Aamir

Sila Zaroor Milta Hai

جون کا گرم ترین دن تھا، میں جمعہ کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلا تو مسجد کی دیوار کے ساتھ مجھے ایک عورت نظر آئی جس کی گود میں چھوٹا سا بچہ تھا، وہ باپردہ خاتون جھولی پھیلائے بیٹھی تھی، مجھے اس عورت اور بچے پر بہت ترس آیا اور ایک لمحے کے لیے سوچا، پتا نہیں وہ کتنی مجبور ہے، جو اپنے بچے کو ایسے اتنی شدید گرمی میں لے کر جھولی پھیلائے بیٹھی ہے۔

میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو اتفاقا اس وقت میری جیب میں صرف دو سو روپے تھے، میں نے وہ دو سو روپے اس عورت کی جھولی میں ڈال دیے۔ مظہر نے لمبی سانس لی، ایک لمحے کے لئے رکا اور دوبارہ گویا ہوا، میں نے مسجد سے گھر بس کے ذریعے جانا تھا، مگر میرے پاس اب دس روپے بھی باقی نہ تھے۔ میں اس دن شدید گرمی میں طویل سفر پیدل طے کر کے گھر پہنچا۔ میں اس کی بات بڑے انہماک سے سن رہا تھا۔

مظہر میٹرک پاس تھا اور میٹرک کے بعد اس نے چھ ماہ کا ایک ڈپلومہ کر رکھا تھا، اس ڈپلومہ کی بنیاد پر وہ ایک کمپنی میں ڈرائنگ ڈیزائنگ کا کام کرتا تھا، اور اس کے علاوہ کبھی کبھار پراپرٹی ڈیلر کے طور پر کسی چھوٹے پلاٹ کا سودا کروا دیتا تھا۔ مظہر بولا کہ مجھے ان دنوں پیسوں کی اشد ضرورت تھی، بڑے بھائی نے مجھ سے گھر کے تعمیر کے لئے پیسے مانگ رہے تھے اور میں ان کو انکار نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اگلی صبح میں آفس گیا، دن حسب معمول گزرا۔ مگر جب شام کو گھر آنے لگا تو راولپنڈی کا ایک بزنس مین میرے پاس آیا اور اس نے ایک کمرشل پلاٹ خریدنے کا ذکر کیا، اتفاقا چند دن قبل کسی نے مجھے کمرشل پراپرٹی خریدنے کے لئے بولا ہوا تھا۔ میں نے ان دونوں کا رابطہ کروایا اور دونوں سے اپنا کمیشن طے کرلیا، تمہیں پتہ ہے کہ مجھے اس دن کتنا کمیشن ملا، میں نے اثبات میں سر ہلایا اور زیادہ متوجہ ہو کر اس کی بات سننے لگا، وہ بولا کہ اس کمرشل پلاٹ کی اتنی بڑی ڈیل تھی کہ دونوں پارٹیز سے میرا کمیشن پندرہ لاکھ روپے بنتا تھا اور ان میں سے ایک نے مجھے اسی دن پانچ لاکھ کا چیک دیدیا۔

مجھے پیسوں کی اشد ضرورت تھی، اور اللہ نے میرے لئے اچانک اسباب پیدا کر دیئے۔ میں اسی حیرانی میں گھر کی طرف چل پڑا، گھر جاتے ہوئے جب میں اس مسجد کے قریب سے گزرا، جہاں میں نے گزشتہ روز جمعہ کی نماز ادا کی تھی تو بے اختیار مجھے وہ عورت اورمعصوم بچہ یاد آ گیا، جسے میں نے دو سو روپے دیے تھے۔ میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، اس وقت مجھے احساس ہوا کہ جب انسان اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو رب اس بندے کے لئے کہاں کہاں سے اسباب پیدا کر دیتا ہے جس کا اسے وہم و گمان تک نہیں ہوتا۔

مظہر میرے بچپن کا دوست تھا، بیس سال پہلے وہ روزگار کی تلاش میں راولپنڈی گیا اور وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ ایک لڑکا محسن جس نے2007 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا، وہ چھٹی سے دسویں تک ہمارے پاس پڑھتا رہا۔ جب وہ چھٹی میں تھا تو اس کا والد فوت ہوگیا، گھر میں اور کوئی کمانے والا نہیں تھا، اللہ نے ہمیں وسیلہ بنایا اور وہ لڑکا میٹرک میں بہت اچھے نمبروں سے کامیاب ہوگیا، اس لڑکے کا والد مظہر اور میں بچپن میں فٹ بال اکٹھا کھیلتے رہے۔

مظہر کو معلوم ہوا کہ محسن میٹرک کے بعد تین سال کا انجینئرنگ کا ڈپلومہ کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے پاس وسائل نہیں ہیں، تو اس نے مجھ سے رابطہ کرکے محسن کا داخلہ، سرگودھا کسی کالج میں کروا دیا اور اس کے ماہانہ اخراجات کا ذمہ اٹھا لیا۔ محسن کی کالج کی فیس اور ہاسٹل کا خرچ تقریبا چھ ہزار ماہانہ تھا، تین سال کا ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد محسن کو ایک اچھی نوکری مل گئی اور اس نے اپنے گھر کی ذمہ داری اٹھا لی۔

وقت گزرتا رہا اور کبھی کبھار میری مدد سے ملاقات ہو جاتی۔ 2018 میں ایک دن میں اپنے اسکول کے لان میں بیٹھا تھا تو مجھے مظہر کی کال آئی، اس نے بتایا کہ اس کے بیٹے نے میٹرک کےامتحان میں راولپنڈی بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل ہے۔ یقینا یہ بہت بڑی خوشی کی بات تھی اور خوشی سے میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس لمحے مجھے وہ لڑکا یاد آگیا جس کی پڑھائی کے اخراجات کے لیے مظہر نے مجھ سےکبھی بات کی تھی۔

میں نے اسے مبارک باد دی اور کہا اللہ نے تمہیں اس بات کا صلہ دیا جو تم نے کبھی کسی بچے کی پڑھائی کے لئے کوشش کی تھی۔ مظہر کے بیٹے نے ایف۔ ایس۔ سی(پری میڈیکل)میں بھی راولپنڈی بورڈ میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اور وہ آج کل آرمی میڈیکل کالج میں ایم۔ بی۔ بی۔ ایس کے دوسرے سال میں ہے۔ مظہر سے جب بھی میری ملاقات ہوئی، اس نے یہی کہا، یار میں اس قابل کہاں تھا کہ بیٹے کو ڈاکٹر بنا سکتا، بس کسی کی دعائیں لگ گئی اور اللہ نے کرم کر دیا۔

ہم میں سے اکثر لوگ دوسروں کی کامیابیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کوئی خوشحال ہو جائے تو سوچتے ہیں کہ یہ بندہ دنوں میں اتنا خوشحال کیسے ہو گیا؟ کل چھوٹی سی دکان چلانے والا آج اتنی بڑی دکان کا مالک کیسے بن گیا؟ کل چائے کا ایک چھوٹا سا کھوکھا چلانے والے نے آج یہ اتنا بڑا ریسٹورنٹ کیسے بنا لیا؟

میں جب بھی کسی کی زبان سے ایسی باتیں سنتا ہوں تو مجھے ہنسی آتی ہے، کیونکہ لوگ یہ نہیں سمجھتے جس نے اللہ کے ساتھ کاروبار کر لیا پھر اسے گھاٹا کیسے ہو سکتا ہے اور جو اللہ کے بندوں کے لئے آسانیاں پیدا کرے، اس کے لئے آسانیاں کیوں پیدا نہیں ہوں گی؟

ایسا ہی میرا ایک اور دوست زاہد نسیم ہے۔ وہ اکثر مجھے کہتا رہتا ہے کہ اگر کوئی بچہ غریب ہو، وہ سکول کی فیس ادا نہ کر سکتا ہو تو پلیز مجھے بتائے گا، میں اس کار خیر میں حصہ ڈالنا چاہتا ہوں۔ میں نے اسے بتایا کہ ہم پہلے ہی یتیم اور مستحق بچوں کا، جن کا کوئی کمانے والا نہ ہو، ان کا خیال رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن وہ بضد تھا، چند دن پہلے مجھے یاد آیا کہ گزشتہ ماہ مجھ سے کسی نے ایک لڑکے کی بات کی فیس کی بات کی تھی، جو فیصل آباد یونیورسٹی میں ایم ایس کا طالب علم تھا۔

ابھی دو سمیسٹر مکمل ہوئے ہی تھے کہ اس کے والد کا انتقال ہوگیا، وہ اب پانچویں سمسٹر میں تھا اور اس کی تین سمسٹرز کی فیس باقی رہتی تھی جو تقریبا ڈیڑھ لاکھ روپے بنتی تھی۔ میں نے اس لڑکے کے بارے میں زاہد کو بتایا تو اس نے فورا اس کی ساری بھی ادا کرنے کی حامی بھر لی اور اگلے ہی دن میرے آفس میں اس لڑکے کو بلا کر اس کی فیسوں کے پیسے اس کے حوالے کر دی اور ساتھ ہی اس لڑکے کو کہا کہ بیٹا جب تم پڑھ کر کسی کام پر لگ جاؤ تو بس اتنا کرنا کہ اپنی طرح کسی ایک ضرورت مند بچے کی پڑھائی کا بوجھ اٹھا لینا۔

جب وہ لڑکا چلا گیا، زاہد نم آنکھوں کے ساتھ بولا، کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے میں کسی ضرورت مند کے کام آسکا۔ کچھ لوگ زاہد کی طرح خاموشی سے دوسروں کی مدد کر دیتے ہیں اور کچھ ایسے خیر کے کاموں کی تشہیر، جیسے بھی ہو ہم سب میں کہیں نہ کہیں نیکی کرنے اور دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کا جذبہ ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔

پاکستان چیریٹی کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم کس قدر خدا ترس اور نیکی کے جذبے سے سرشار قوم ہیں۔ بہرحال اچھائی خاموشی سے کی جائے یا اس کی تشہیر، دونوں صورتوں میں اس کا اجر ضرور ملتا ہے، ممکن ہے کسی کا تشہیر کرنے کا مقصد دوسروں کو ترغیب دینا ہی ہو۔ میں اکثر سوچتا ہوں جس طرح ایک اینٹ اٹھانے پر ہماری جو توانائی صرف ہوتی ہے، ہم سمجھتے ہیں وہ توانائی ضائع ہوگئی لیکن وہ تو پوٹینشل انرجی کی صورت میں اس اینٹ میں سٹور ہوجاتی ہے اور کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، بالکل اسی طرح کسی کا کیا گیا ہر اچھا کام بھی، کبھی ضائع نہیں ہوتا اور اس اچھے کام کا صلہ اللہ تعالی کی ذات کبھی نہ کبھی اس انسان کو ضرور دیتا ہے۔

زندگی میں اپنے اردگرد ایسے لوگوں کا ضرور خیال رکھیں، جنہیں آپ کی ضرورت ہے کیونکہ کسی کے ساتھ کیا گیا ایک اچھا عمل، کل آپ کے لئے صدقہ جاریہ بن جائےگا۔ اکثر ہمارے ہر اچھے کام کا صلہ اور اپنے لئے مانگی کی ساری دعائیں ہماری زندگیوں میں ہی پوری ہو جاتی ہیں اور کبھی ان دعاؤں اور اچھے اعمال کا رنگ آنے والی نسلوں کو لگتا ہے، صلہ ملتا ضرور ہے۔

Check Also

Jahannam Ki Air Conditioning Ka Theka (5)

By Hamid Ateeq Sarwar