Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Altaf Ahmad Aamir

Naseeb Yoon Bhi Jagte Hain

ہم ریسٹورنٹ میں بیٹھے، کھانے کا آرڈر دیا اور آپس میں گپ شپ کرنے لگے۔ اس دن علی کے لہجے میں بہت ٹھہراؤ تھا، باتوں باتوں میں اس نےمجھے اپنی زندگی کا خوبصورت واقعہ بتایا۔ کہنے لگا، یہ سولہ سال پرانی بات ہے، جب میں نیا نیا قصور سے نوکری کی غرض سے لاہور آیا تھا۔ ایک لڑکا جس کا نام منظور تھا، میرے ساتھ کام کرتا تھا اور وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ دبلا پتلا، کمزور سا جوان تھا اور اکثر بیمار رہتا تھا۔

ایک دن میرے ایک کولیگ نے بتایا کہ منظور گردوں کے مرض میں مبتلا ہے، اس کے ماں باپ بھی بوڑھے ہو چکے ہیں، گھر میں اور کوئی کمانے والا نہیں اور سارے گھر کی ذمہ داری اسی کے کندھوں پر ہے۔ اس لیے یہ اتنی بیماری کے باوجود بھی کام کر رہا ہے، میں نے منظور کی کہانی سنی تو مجھے دل سے اس کے ساتھ ہمدردی ہونے لگی۔ میں بہانے بہانے سے اس کے کام بھی کر دیا کرتا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی طبیعت زیادہ خراب ہوتی گئی۔ ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ اب ڈائیلاسز ہی اس کا واحد علاج ہے، جس پر پانچ لاکھ روپیہ خرچ آئے گا۔

2006ء میں سونے کی فی تولہ قیمت تقریبا 13 ہزار روپے تھی، اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ اس وقت پانچ لاکھ روپے کتنی بڑی رقم تھی۔ اس بچارے کی تنخواہ صرف آٹھ ہزار روپے تھی، وہ کس طرح اپنا علاج کروا سکتا تھا۔ مجھے اس پر بہت ترس آیا اور میں نے اس کے علاج کے لئے پیسے اکٹھے کرنے کا سوچا۔ ہمارا باس ایک نیک انسان تھا، میں نے اس سے بات کی تو اس نے مجھے منظور کے علاج کے لیے ایک لاکھ روپے دے دیے۔ میرے کچھ دوستوں نے بھی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس نیک کام میں حصہ ڈالا، لیکن اس ساری کوشش کے باوجود بڑی مشکل سے، میں دو لاکھ روپے اکٹھے کر پایا۔ جب کہ منظور کے علاج کے لئے پانچ لاکھ درکار تھے۔

میری تنخواہ بھی اتنی نہیں تھی کہ میں آسانی سے اس کے ڈائیلائسز کے لئے زیادہ رقم دے سکتا۔ میرے پاس کچھ پیسے تھے، جو میں نے اپنی تنخواہ میں سے بچا بچا کر عمرہ ادا کرنے کے لئے جمع کر رکھے تھے اور میں اس میں سے پیسے خرچ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ علی ایک لمحے کیلئے رکا، گلاس میں پانی ڈالا اور پینے لگا۔ اس سے میری یہ ملاقات سات سال بعد ہوئی تھی، علی سے میری دوستی اس وقت ہوئی تھی جب میں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا تھا، وہ شروع سے ہی پانچ وقت کا نمازی اور درد دل رکھنے والا بندہ تھا۔ میں غور سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔

وہ دوبارہ گویا ہوا، تمہیں معلوم ہے میں اخبار ہمیشہ باقاعدگی سے پڑھتا تھا، ان دنوں جب میں منظور کے علاج کے لئے پیسے اکٹھے کر رہا تھا، ایک دن اخبار میں، میں نے ایک تحریر پڑھی، جس میں ایک شخص اپنی ساری زندگی محنت مزدوری کرکے حج کے لئے پیسے اکٹھے کرتا رہتا ہے لیکن جب اس کے پاس اتنی رقم اکٹھی ہو جاتی ہے کہ وہ حج کر سکے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے محلے میں ایک شخص صرف اپنی غربت کی وجہ سے علاج نہیں کروا پا رہا اور زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے، تو وہ اپنی ساری رقم اپنے اس غریب محلے دار کو دے دیتا ہے تاکہ اس کی زندگی بچ سکے اور وہ خود خواہش کے باوجود حج پر نہیں جاتا اور پھر عین عید الاضحی سے ایک دن پہلے حج والے دن اس بندے کا انتقال ہو جاتا ہے، جب کہ اس کے دیئے ہوئے پیسوں سے اس غریب بندے کی زندگی بچ جاتی ہے، جس کے علاج کے لیے وہ پیسے دیتا ہے۔

جب حاجی لوگ حج کی ادائیگی کے بعد واپس پاکستان آتے ہیں تو ان میں سے ایک حاجی اس بندے کے گھر آتا ہے جو حج پر نہیں جا سکتا اور اپنی ساری جمع شدہ رقم کسی غریب کو دے دیتا ہے۔ وہ حاجی اس شخص کے بیٹے سے ملاقات کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ رومال اور یہ چیزیں آپ کے والد صاحب نے مجھے حج کے موقع پر مکہ میں دی تھیں، یہ رکھ لیں۔ بیٹا یہ سن کر حیران ہوتا ہے، کیونکہ اس کا والد تو حج پر گیا ہی نہیں ہوتا اور وہ تو حج والے دن یہاں فوت ہو جاتا ہے، وہ حاجی صاحب کو بتاتا ہے کہ آپ کو غلط فہمی ہو ہی ہو گی کیونکہ میرے والد تو حجج پر گۓ ہی نہیں تھے، لیکن وہ حاجی یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہوتا اور کہتا ہے کہ آپ کے والد نے تو ہمارے ساتھ حج کیا تھا۔

پھر علی کہنے لگا، کہ دفتر کی کرسی پر بیٹھے جب میں نے یہ تحریر پڑھی تو اسی وقت مجھے سمجھ آ گئی کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ وہ تمام پیسے جو میں نے عمرہ کی ادائیگی کے لئے جمع کر رکھے تھے، میں نے وہ ان پیسوں میں شامل کر دیے جو منظور کے علاج کے لئے میں اکٹھے کر رہا تھا۔ اللہ نے کرم کیا منظور کے کامیاب ڈائیلائسس ہوۓ اور وہ آہستہ آہستہ ٹھیک ہونے لگا، لیکن اس دوران میرے ساتھ میری زندگی کا سب سے خوبصورت واقعہ پیش آیا۔

میں علی کی باتیں بڑے انہماک سے سن رہا تھا، کہنے لگا میں نے اس اخبار کی کہانی سے متاثر ہو کر اپنی وہ ساری رقم جو عمرہ کے لئے جمع کر رکھی تھی، منظور کے علاج کے لیے دے دی۔ اس بات کو کچھ عرصہ گزر گیا۔ میں ایک رات سویا مگر۔۔ مگر کیا؟ میں نے پوچھا! وہ گویا ہوا، مگر میرا نصیب جاگ اٹھا، میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مسجد نبوی میں، آپ ﷺ کے روضہ مبارک کے پاس سوالی بن کے کھڑا ہوں، پھر مجھ پر اللہ نے کرم کیا کہ میں نے وہ منظر دیکھا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے، دروازہ کھلا اور میں اندر داخل ہوگیا۔ وہاں کھڑے ایک سپاہی نے مجھے روکنے کی کوشش کی لیکن اسے حکم ہوا کہ اسے اندر آنے دو، اس کے دل میں مجبور، بے بس اور غریب لوگوں کا بہت درد ہے۔ پھر اللہ نے مجھ گناہ گار پر اپنا بے شمار کرم کیا اور اور ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی۔

یہ سب کچھ بتاتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسوؤں موتیوں کی طرح بہ رہے تھے، اور میں اس کے چہرے کو نم آنکھوں سے رشک کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔ کہنے لگا میری شدید خواہش تھی میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا گھر دیکھوں، میں اپنی کھلی آنکھوں سے وہ مقدس مقامات نہ دیکھ سکا مگر اللہ نے میری بند آنکھوں سے مجھے وہ کچھ دکھا دیا جس کی خواہش ہر مسلمان کہ دل میں ہوتی ہے۔ پھر کہنے لگا، تم یقین کرو ہمارے ارد گرد بے شمار لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو ہماری تھوڑی سی ہمدردی، تھوڑی سی محبت، تھوڑے سے احساس اور تھوڑی سی مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور بدلے میں ان کے دلوں سے نکلی ہوئی وہ دعائیں ہماری زندگی ہی نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی زندگیاں بھی بدل دیتی ہیں لیکن ہم شائد کبھی غور ہی نہیں کرتے۔

کھانا کھانے کے بعد میں نے علی سے اجازت لی اور گھر واپسی کے لیے نکلا پڑا۔ راستے میں مجھے حضرت علیؑ کا فرمان مبارک یاد آیا کہ غریب وہ نہیں ہوتا جس کے پاس دولت نہ ہو بلکہ غریب تو وہ ہوتا ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو۔ میں نے اس لمحے اپنے آپ کو دنیا کا امیر ترین شخص محسوس کر رہا تھا، کیونکہ علی جیسا دوست میری زندگی میں شامل تھا۔ ہمارے والدین، ہمارے بہن بھائی، ہمارے چاچے، مامے، تاۓ کوئی رشتہ بھی ہم اپنی مرضی سے نہیں بناتے لیکن دوستی ایک واحد رشتہ ہے جو ہم خود اپنی مرضی سے بناتے ہیں۔ علی جیسے لوگ اگر زندگی میں ہوں تو یہ اللہ کا خاص کرم ہوتا ہے کیونکہ دوست اچھا ہو یا برا، وقت کے ساتھ آپ بھی اپنے دوستوں کے رنگ میں رنگے ہی جاتے ہیں۔

نیتوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے اور بے شک اللہ کی ذات ہی بہتر صلہ دینے والی ہے۔ آج علی کا یہ واقعہ تحریر کرنےکا مقصد صرف اتنا ہےکہ ہو سکتا ہے، علی جیسےکسی اور درد دل رکھنے والے کی وجہ سے، کسی اور منظور کا علاج ہو جاۓ، کسی اور منظور کی جان بچ جائے۔

Check Also

Kairouan Sheher Mein Chand Ghante

By Javed Chaudhry