Monday, 03 October 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Altaf Ahmad Aamir

Hakan Jaise Log

رات گیارہ بجے ہم بیلجیک پہنچے، بیلجیک کا اڈہ بھی اناطولیہ کے بس اڈے کی طرح بہت خوبصورت تھا اور کسی ایئرپورٹ سے کم دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ دن بارہ بجے ہم اناطولیہ سے روانہ ہوئے اور طویل سفر طے کرنے کے بعد بیلجیک پہنچے، جونہی ہم بس اڈے سے باہر نکلے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بہت بھلا محسوس ہوا۔ اناطولیہ سے ہم سیدھا سوغوت جانا چاہتے تھے، جہاں ارتغل غازی کا مقبرہ ہے لیکن سوغوت میں رات ٹھہرنے کے لئے ہوٹل نہیں ہیں، اس لیے ہمیں سوغوت سے 25 کلو میٹر دور بیلیجک شہر میں رات گزارنا تھی۔

بیلجیک کا لفظ میں نے پہلی بار ترکش ڈرامہ "ارتغرل" میں سنا تھا، جہاں اس زمانے کے زمیندار کے قلعے کا بار بار تذکرہ ہے۔ میرے ذہن میں اس دور کا بیلجیک ہی تھا لیکن بس اڈے کو دیکھتے ہی میرا وہ خیال آج کی حقیقت میں بدل گیا۔ بیلجیک آج ترکی کا ایک اہم صوبہ ہے، جس کی آبادی تقریبا ستر ہزار ہے۔ بس اڈے سے باہر نکلتے ہی سامنے ہمیں دو ٹیکسیاں نظر آئیں، ہم نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کو اشارہ کیا جو لگ بھگ چالیس سال کا اسمارٹ سا جوان، پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا، چونکہ ہوا میں خنکی تھی اس لیے اس نے جیکٹ بھی پہن رکھی تھی اور رات کے اس پہر اس نے عینک بھی لگا رکھی تھی۔

وہ ڈرائیور کم اور کسی فلم کا ہیرو زیادہ دکھائی دے رہا تھا۔ ہم نے اس سے بیلجیک شہر جانے کے لئے کرایا پوچھا اور وہ اسی لیرا میں ہمیں لے جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ اس نے ہمارا سامان گاڑی میں رکھا اور بیٹھتے ہی گاڑی تیزی سے چلانے لگا، اسے انگریزی زبان بالکل نہیں آتی تھی، اس لئے ہم نے "گوگل ٹرانسلیٹر" کی مدد سے اس سے رات ٹھہرنے کے لئے کسی ہوٹل کا پوچھا، جس پر وہ ایک ایسے علاقے کی طرف مڑ گیا جہاں ہوٹلز تھے۔

اس کے پوچھنے پر ہم نے اسے بیلجیک آنے کی وجہ بتائی کہ ہم دراصل سوغوت میں ارتغرل کے مقبرہ پر جانا چاہتے ہیں، وہ کہنے لگا کہ میں آج ہی ایک پاکستانی جوڑے کو سوغوت لے کر گیا تھا اور ان سے پانچ سو لیرا کرایہ لیا تھا، اگر آپ کل میرے ساتھ جانا چاہتے ہیں تو میں آپ کو 450 لیرا میں لے جاؤں گا۔ رستہ زیادہ گنجان آباد نہیں تھا اور وہ ٹیکسی بہت سپیڈ سے چلا رہا تھا، پتہ نہیں کیوں وہ ڈرائیور مجھے کوئی پراسرار شخصیت دکھائی دے رہا تھا۔

اجنبی شہر، آدھی رات اور سنسان سڑک لیکن اس وقت اس ڈرائیور پر اعتبار کرنے کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ خیر وہ ہمیں ایک ہوٹل میں لے گیا جس کا کرایہ صرف 250 لیرا تھا، استنبول اور اناطولیہ میں ہمیں 450 اور 500 لیرا کے حساب سے ہوٹل ملے تھے، اس حساب سے یہ ہوٹل کافی سستا تھا۔ اس لیے 250 لیرے کا سن کر ذرا حیرانی بھی ہوئی، خیر ہم نے وہ ہوٹل لیا اور اسی ڈرائیور کے ساتھ سوغوت جانے کے لیے صبح 9 بجے کی کمٹمنٹ کر لی۔

ہم بیلجیک میں جس ہوٹل میں ٹھہرے اس میں صبح ناشتے کا اہتمام نہیں تھا، اس ڈرائیور نے ہمارا یہ مسئلہ بھی حل کر دیا اور صبح ناشتہ کروانے کی ذمہ داری بھی لے لی۔ میں اور اشفاق دونوں ہوٹل کے کمرے میں آ گئے اور اس ڈرائیور کے بارے میں باتیں کرنے لگے کہ ٹیکسی کا کرایہ بھی اس نے مناسب لیا، اتنے اچھے ہوٹل میں لے کر آیا جس کا کرایہ بھی مناسب ہے اور کل صبح سوغوت جانے کے لئے بھی اس نے زیادہ پیسوں کی ڈیمانڈ نہیں کی، کہیں یہ کوئی فراڈیا ہی نہ ہو۔

خیر پر سکون رات گزارنے کے بعد ہم صبح نو بجے ہوٹل کے مین گیٹ پر آ گئے۔ جونہی ہم نے دائیں طرف دیکھا تو وہ ڈرائیور وہاں کھڑا ہمارا انتظار کر رہا تھا، اپنے وعدے کے مطابق وہ ہمیں قریب ہی ایک اچھے سے ریسٹورینٹ میں ناشتے کے لیے لے گیا، دس منٹ میں شاندار ناشتہ ہمارے سامنے تھا۔ میرے پوچھنے پر اس نے اپنا نام ہاکن بتایا، میں نے ہاکن کا مطلب پوچھا تو اس نے اپنے موبائل سے اس کا مطلب انگریزی زبان میں لکھ کر دکھایا "رولر" میں نے مسکراتے ہوئے ہاکن کو اپنے ساتھ ناشتہ کرنے کی دعوت دی مگر اس نے کہا میں ناشتہ کر چکا ہوں۔

ترکی میں ہم جتنے دن رہے، شاید ان میں سب سے شاندار ناشتہ یہی تھا، جس کا بل صرف 110 لیرا تھا۔ خیر ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد ہم سوغوت کی طرف چل نکلے، ہاکن نے رات ہم سے یہ بھی پوچھا تھا کہ آپ سوغوت میں کتنی دیر رکیں گے، ایک گھنٹہ کافی تھا، اس لیے اس نے ہمارے، وہاں ایک گھنٹہ رکنے پر ہی ہمیں 450 لیرے کہے تھے۔ ہم تقریبا ساڑھے دس بجے ارتغرل کے مقبرہ پر سوغوت پہنچ گئے۔

ارتغرل کون تھا؟ اور ایک اسلامی ریاست بنانے کے لیے اس کا کیا کردار تھا؟ یہ بتانا شاید اب اتنا ضروری نہیں کیونکہ پاکستان کا بچہ بچہ اب تو ارتغرل ڈرامہ کی وجہ سے ارتغرل غازی کے کردار سے واقف ہے۔ کیونکہ ترکش ڈرامہ "ارتغرل غازی" نے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہاکن کے مطابق، پچھلے دو برسوں سے سوغوت میں ارتغرل کے مقبرے کی وجہ سے بے شمار پاکستانی سیاحوں کے علاوہ دنیا بھر سے سیاح یہاں آ رہے ہیں۔

ہم نے اس عظیم مرد مجاہد کی قبر پر حاضری دی، وہاں چھوٹے چھوٹے اسپیکر سے قرآن پاک کی تلاوت کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی، کچھ وقت وہاں گزارنے کے بعد میں اس مقبرے سے باہر نکلا تو دائیں جانب حلیمہ سلطان کی قبر تھی جو ارتغرل غازی کی بیوی اور عثمان غازی کی والدہ تھی، ایک الگ سلطنت کے قیام کے لئے اس عظیم خاتون کا کردار بھی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا رہے گا۔

وہاں فاتحہ خوانی کے بعد قریب ہی میں نے ارتغرل کے ان ساتھیوں ترغت، بمسی اور عبدالرحمان کی علامتی قبریں بھی دیکھیں، جنہوں نے ہمیشہ ارطغرل کا ساتھ دیا۔ ارتغرل غازی کے مقبرے سے واپس آتے ہوئے مرکزی دروازے پر ایک بوڑھی عورت چیری کا پھل بیچ رہی تھی، میں نے وہاں سے چیری خریدی اور ہم واپس بیلجیک کی طرف چل دیے۔ راستے میں ہاکن نے بتایا کے شیخ ادا بالی کا مزار بیلجیک میں ہے۔

میں تاریخ کا طالب علم ہوں، اندھے کو کیا چاہیے ہوتا ہے دو آنکھیں، میں نے فورا ہاکن کو کہا کہ آپ ہمیں بیلجیک میں اس مزار پر بھی لے جائیں۔ ہاکن ہمیں دن بارہ بجے شیخ ادا بالی کے مزار پر لے آیا، یہ وہی شیخ ادا بالی تھے جو عثمان کے اتالیق تھے اور ان کی بیٹی بالا خاتون سے عثمان شادی کرنا چاہتا تھا، لیکن وہ رضامند نہ تھے۔

بعد میں جب ایک رات عثمان کو خواب آیا کہ ایک چاند جو شیخ ادا بالی کے سینے سے نکلا اور عثمان کے سینے میں اتر گیا اور پھر عثمان کے سینے سے ایک بڑا درخت نکلا، جس کے تنے مشرق مغرب، شمال جنوب میں پھیل گئے اور اتنے پھیلے کہ ان کے نیچے چار دریا اور چار پہاڑ تک آ گئے، پھر تیز ہوا چلی اور اس درخت کے پتے ایک ایسے شہر کی طرف اڑے، جو انگوٹھی نما تھا اور اس کے ساتھ ہی عثمان کی آنکھ کھل گئی۔

جب یہ خواب عثمان نے شیخ ادا بالی کو بتایا تو وہ اپنی بیٹی کا رشتہ عثمان کو دینے کے لیے تیار ہو گئے اور انہوں نے عثمان کو اس خواب کی تعبیر بھی بتائی کہ تم ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھو گے، جو چاروں طرف تین براعظموں تک پھیل جائے گی اور بعد میں ایسا ہی ہوا۔ شیخ ادا بالی کے مزار کے ساتھ ہی ان کی بیٹی رابعہ بالا یعنی بالا خاتون کی قبر بھی ہے، اللہ کے اس نیک بندے کے مزار سے حاضری کے بعد ہم دن ایک بجے بس اڈے کی طرف نکلے۔

ہاکن نے ایک گھنٹے کے 450 لیرے کہے تھے لیکن اب تو چار گھنٹے گزر چکے تھے، اس لیے اشفاق نے مجھے مسکراتے ہوئے کہا یہ ڈرائیور اب تو ہم سے کم از کم ہزار، بارہ سو لیرے ضرور مانگے گا۔ خیر ہم بورسا جانے کے لئے بس اڈے پر آ گئے اور اسی میں بہت خوش تھے کہ اس ڈرائیور کی وجہ سے ایک نیک بزرگ کے مزار پر بھی حاضری کا موقع بھی مل گیا۔

بس اڈے پر پہنچتے ہی ہاکن نے 160 لیرے میں بورسا کے لیے ہمیں دو ٹکٹ لے کر دیے، اتفاق سے بس میں صرف دو سیٹیں ہی باقی تھیں، ہم نے ہاکن کا شکریہ ادا کیا اور اس سے پیسے پوچھے، اس نے اپنے موبائل پر 450 لکھا اور ہمارے سامنے کر دیا۔ میں اور اشفاق ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھنے لگے، کیونکہ اس نے تو صرف ایک گھنٹے کے 450 لیرے مانگے تھے جبکہ وہ ہمیں پچھلے چار گھنٹوں سے گھما رہا تھا اور آخر میں ایک لیرے کا بھی اضافی تقاضا نہیں کیا۔

بہرحال ہم نے اسے زبردستی 600 لیرے دیے اور اسے الوداع کہہ کر بورسا جانے کے لیے بس میں بیٹھ گئے، راستے میں ہم بے اختیار ہاکن کا تذکرہ کرتے رہےکہ یہ کیا ہی کمال شخص تھا۔ میں نے اشفاق کو کہا کہ مجھے یوں لگتا ہے کہ اس اجنبی شہر میں ہمارے لئے اللہ نے اس بندے کی ڈیوٹی لگا دی تھی کہ جونہی یہ دونوں یہاں بیلجیک پہنچیں، تم ان کے لیے ہر چیز کا بندوبست کرنا اور اس بندے نے ایسا ہی کیا، کیونکہ وہ ڈرائیور کم، گائیڈ اور میزبان زیادہ لگا۔ اس ایک باضمیر شخص ہاکن کی وجہ سے بیلجیک کو ہم عمر بھر نہیں بھول پائیں گے۔

Check Also

Sarshari

By Rao Manzar Hayat