Monday, 03 October 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Altaf Ahmad Aamir

Dekho Pakistan

یہ 19مارچ کی رات تھی اور ہم سب وادی سون کی "کھبیکی جھیل" کے کنارے بیٹھے شاہ صاحب کی باتوں کو انہماک سے سن رہے تھے۔ چاند بھی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا اور اس کی روشنی جھیل کے کنارے اس سارے منظر کو بھی دلفریب بنا رہی تھی۔ ہوا میں خنکی تھی اور قریب ہی TDCPکے ریسٹورنٹ کی طرف سے "بون فائر" کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ شاہ جی نے کہا کہ میں نے زندگی کے بہت سے اہم فیصلے ایسے ہی کسی نہ کسی سفر میں کیے اور میں چاہوں گا کہ آپ تمام دوست بھی یہاں سے خالی ہاتھ نہ جائیں۔

اپنے مستقبل کے بارے میں ضرور کوئی خواب دیکھیں اور خواب دیکھتے وقت خدارا، اپنے آپ کو مت دیکھیں۔ اللہ کی شان کو سامنے رکھ کر سوچیں۔ جب ربّ سے مانگنا ہے تو کم کیوں مانگیں؟ زندگی میں موٹی ویشن سے زیادہ خواب چاہیے ہوتے ہیں جو آپ کو جگائیں، آپ کو تڑپائیں، بلکہ خواب اتنے بڑے ہونے چاہیے کہ ان کے سامنے ساری مشکلات بہت چھوٹی محسوس ہوں۔ وادی سون کلرکہار سے تقریباََ دو گھنٹے کی مسافت پر ضلع خوشاب میں واقع ہے۔ یہ علاقہ اپنی قدرتی خوبصورتی اور خوبصورت جھیلوں کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

2018 سے پہلے میں سیاحت کی اہمیت سے واقف تھا اور نہ ہی کوئی خاص شوق۔ لیکن مارچ 2018 میں مجھے قاسم علی شاہ صاحب کے ساتھ سات دن کے لئے ازبکستان جانے کا موقع ملا۔ اس سفر نے مجھے علم کی ایک نئی دنیا سے متعارف کروایا۔ اس سفر سے مجھے معلوم ہوا کہ اگر حقیقی معنوں میں کچھ سیکھنا ہے تو اس کے لیے سفر بہت ضروری ہے لہٰذا اس سفر میں، میں نے اپنے آپ سے عہد کیا کہ جب بھی مجھے موقع ملا میں پاکستان اور پاکستان سے باہر سفر ضرور کروں گا۔ ازبکستان کے پہلے سفر میں ہم سو کے قریب لوگ تھے۔ جو ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔

اس سفر میں بہت سے دوست بنے۔ میرا سوشل سرکل بڑھا۔ شاہ جی کے ساتھ میں نے ازبکستان کے علاوہ ترکی اور مصر کا سفر بھی کیا لیکن پاکستان میں یہ ہمارا پہلا ٹور تھا۔ پچاس کے قریب لوگوں کا گروپ 19مارچ کو لا ہور سے وادی سون کی طرف روانہ ہوا۔ میں کلرکہار سے اس گروپ میں شامل ہوا۔ شاہ جی اپنی مصروفیات کی وجہ سے اسلام آباد تھے۔ لہٰذا دن گیارہ بجے وہ بھی کلرکہار کےTDCPریسٹورنٹ پہنچ گئے۔ وہاں چائے پینے کے بعد ہم نکلے اور قریب دو بجے وادی سون کی کھبیکی جھیل پہنچے۔ اس جھیل کےTDCPریسٹورنٹ میں ہم نے دوپہر کا کھانا کھایا اور "اچھالی جھیل" دیکھنے کے لیے چل دیے۔

بعض علاقے اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہوتے ہیں اور بعض ایسی شخصیات کی وجہ سے جنہوں نے کسی بھی شعبے میں کارہائے نمایاں سرانجام دیے ہوں۔ اللہ تعالی نے اس علاقے کو ان دونوں نعمتوں سے نوازا۔ کیونکہ یہ وہ علاقہ ہے جس میں واصف علی واصف ؒ اور احمد ندیم قاسمی جیسی شخصیت پیدا ہوئیں۔ 2019 میں لندن میں "برین آف دا ایئر" کا ایوارڈ لینے والے موجودہ دور کے بہترین مصنف عارف انیس کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔ سورج غروب ہونے سے تقریباََ 45 منٹ پہلے ہم اچھالی جھیل پہنچے۔

وہ منظر تو حسین تھا ہی لیکن قاسم علی شاہ صاحب کا ساتھ اس منظر کو اور بھی خوبصورت بنا رہا تھا۔ کیونکہ شاہ جی کے ساتھ سفر صرف سفر نہیں ہوتا بلکہ ان سے دانش و حکمت بھری باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ اشفاق احمد اپنی داستان گوئی کی وجہ سے مشہور تھے۔ انہوں نے کوئی بات سمجھانی ہوتی تو کوئی داستان سناتے اور آخر میں وہ ایک فقرہ کہتے جو پوری داستان کا نچوڑ ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے گھر کے باہر "داستان سرائے" لکھا گیا تھا۔ لیکن وہ واصف علی واصف ؒ کا کمال یہ تھا کہ وہ بڑی سے بڑی حکمت والی بات کو ایک فقرے میں بیان کر دیتے تھے۔

میں نے قاسم علی شاہ صاحب کی گفتگو میں یہ دونوں کمالات دیکھے۔ میں نے کالج کے زمانے میں کسی سے سنا تھا کہ دس کتابیں پڑھنے سے بہتر ہے کہ کسی علم والے کی صحبت میں کچھ وقت گزار لیں۔ آپ کو اتنا وزڈم مل جائے گا جتنا دس کتابوں سے نہیں ملتا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس بات کی سمجھ مجھے شاہ جی سے ملنے کے بعد آئی۔ کیونکہ وہ ہمیشہ اپنی مختصر سی گفتگو میں زندگی کی وہ حقیقتیں بیان کر دیتے ہیں جس سے ہر سننے والا یہی محسوس کرتا ہے کہ یہ بات تو شاید میرے لئے ہی ہے۔

اوچھالی جھیل کے کنارے جناب "گلریز غوری" جو پاکستان کے نمبر ون فوٹوگرافر ہیں، نے غروب ِآفتاب کے خوبصورت نظارے کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا اور شاہ جی کے ساتھ تمام دوستوں کی یادگار تصاویر بھی بنائیں۔ اچھالی جھیل سے رات آٹھ بجے ہم واپس کھبیکی جھیل پہنچے۔ جہاں خیموں کے قریب ہی حسیب خان اور قاسم علی شاہ کے لیکچرز کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس کا موضوع تھا لیڈرشپ۔ رات کے کھانے کے بعد وہاں کے لوکل فنکار اپنے آلات موسیقی لے کر ہمارے خیموں کے قریب بیٹھے اور ماہیے گانے لگے۔ آہستہ آہستہ سب دوست ان کے اردگرد جمع ہوگئے۔

دن کو اسی جگہ مختلف سیاحوں کی آمد و رفت کے باعث کافی شور تھا۔ لیکن رات کے اس پہر یہاں مکمل خاموشی تھی اور ان فنکاروں کی دلفریب آوازیں اس سناٹے میں یقینا ََبہت دور تک جا رہی تھیں۔ آدھا گھنٹہ اس موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے بعد ہم دوست سرکل میں بیٹھ گئے جہاں "بون فائر" کا اہتمام کیا گیا تھا۔ وہ دوست جو ازبکستان کے سفر میں، میرے ہمسفر تھے۔ ہم نے ازبکستان کی یادیں تازہ کیں۔ اس ٹور میں مزید کچھ باکمال دوستوں کا اضافہ ہوا جو زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ رات ہم نے جھیل کنارے ‏خیموں میں گزاری۔

طلوع آفتاب سے پہلے جونہی پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں میرے کانوں میں پڑ یں، میں خیمے سے نکل کر جھیل کے کنارے آ گیا۔ صبح کا وہ منظر بہت حسین تھا۔ آہستہ آہستہ باقی دوست بھی وہاں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے۔ جہاں ٹرینر علی عباس نے ہمیں مراقبہ کروانا تھا۔ کھبیکی جھیل کے کنارے مراقبہ بھی زندگی کا دلچسب تجربہ تھا۔ ناشتے کے دوران جناب جہانگیر میر جو گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، نے واصف علی واصفؒ، اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کے چند خوبصورت واقعات سنائے۔ میر صاحب وہ خوش قسمت انسان ہیں جنہیں ان مذکورہ شخصیات کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔

ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد جب سب دوست بوٹنگ کر رہے تھے۔ اس وقت فرخ شہباز وڑائچ جو "اردوپوائنٹ" کے معروف اینکر ہیں۔ وہ جھیل کنارے قاسم علی شاہ کا انٹرویو ریکارڈ کر رہے تھے۔ شاہ صاحب کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک انتہائی خوبصورت ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیروتفریح کا ٹرینڈ بہت کم ہے، اور دوسری بات یہ کہ ہمارے اردگرد بے شمار ایسے خوبصورت سیاحتی مقامات ہیں جن کا ہمیں پتہ ہی نہیں۔ لہٰذا میری خواہش ہے کہ ہم ایسی جگہوں کو ڈسکور کریں اور پاکستان کی اس اصل خوبصورتی کو خود بھی دیکھیں اور دنیا کو بھی دکھایں۔

انہوں نے "دیکھو پاکستان" کے نام سے سیاحت کا ایک ایسا ہی سلسلہ شروع کیا ہے جس سے ان شاء اللہ پاکستان کی سیاحت کو فروغ ملے گا۔ وادی سون کا یہ دورہ "دیکھو پاکستان" کے سلسلے کا پہلا ٹور تھا۔ بوٹنگ سے فارغ ہونے کے بعد دن گیارہ بجے ہم کنہٹی باغ کی طرف چل دیے۔ کنہٹی باغ اس وادی کا خوبصورت علاقہ ہے۔ جہاں ہر طرح کے پھل دار درختوں کے علاوہ قدرتی ابشاریں بھی موجود ہیں۔ وادی سون سے ہم سب، اپنے گھروں کو واپس تو آگئے لیکن وہ چاندنی رات، وہ رات گئے جھیل کے کنارے موسیقی، سرد رات میں بون فائر، صبح سویرے پرندوں کے چہچہانے کی وہ آوازیں، طلوع آفتاب کا وہ خوبصورت منظر اور قدرتی آبشاروں کا وہ بہتا پانی شاید ہم کبھی نہ بھول پائیں۔

Check Also

Jahan Bhi Rahein, Apni Zimmedarian Nibhayein

By Abid Hussain Rather