Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Altaf Ahmad Aamir

Char Admi

ڈاکٹر امجد ثاقب کو کون نہیں جانتا، انہوں نے اخوت جیسا ادارہ بنا کر پاکستان کے غریب اور محروم لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بےشمار خیر کے کام کیے، جن کے عوض حال ہی میں انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا، یقیناََ یہ ہم سب پاکستانیوں کے لئے فخر کی بات ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے جہاں بے شمار فلاحی کام کیے، وہیں انہوں نے بہت سی شاندار کتابیں بھی لکھیں۔

حال ہی میں شائع ہونے والی ڈاکٹر صاحب کی کتاب "چار آدمی" میری نظر سے گزری۔ یہ کتاب محض ایک کتاب نہیں بلکہ چار عظیم انسانوں کی ایسی داستان حیات ہے، جس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے اس کتاب میں اپنے علاوہ سرگنگا رام، ملک معراج خالد اور ڈاکٹر رشید چوہدری کی زندگی پر روشنی ڈالی ہے۔

سرگنگارام، ملک معراج خالد اور ڈاکٹر امجد ثاقب کے بارے میں تو ہم اکثر لوگ جانتے ہیں لیکن ڈاکٹر رشید چوہدری جیسی عظیم شخصیت کے بارے میں ڈاکٹر صاحب نے اپنی کتاب میں جس خوبصورتی سے تذکرہ کیا، وہ آنے والی نسلوں پر یقیناََ بہت بڑا احسان ہے۔ اس کتاب کا انداز تحریر بہت خوبصورت ہے، ویسے تو یہ تمام شخصیات الگ ادوار میں پیدا ہوئیں۔

لیکن ڈاکٹر امجد ثاقب نے ان تمام کرداروں کو تصوراتی طور پر "فونٹین ہاؤس" لاہور میں فاؤنٹین کے سامنے بینچ پر بٹھا کر ان سے ان کی داستانِ حیات سنی اور ان شخصیات کی زندگی کے کارہائے نمایاں انہی کی زبانی ہم تک پہنچائے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی اس کتاب میں سب سے پہلے رشید چوہدری کا ذکر کیا ہے۔

ڈاکٹر رشید چوہدری کے تذکرے سے پہلے میں یہاں بتاتا چلوں کہ "فونٹین ہاؤس" لاہور ایک ایسی عمارت ہے جہاں ذہنی مریضوں اور نفسیاتی مسائل کے شکار بےشمار لوگوں کو رکھا جاتا ہے اور ان کے علاج معالجے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر رشید چوہدری اس "فاؤنٹین ہاؤس" کے بانی تھے، وہ 1924میں مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں ایک چھوٹے سے گاؤں "بھلے وال" میں پیدا ہوئے، مشکل حالات میں ابتدائی تعلیم حاصل کی، ایف ایس سی کی۔

1947 میں جب پاکستان بنا تو رشید چوہدری اس وقت "کنگ ایڈورڈ" میڈیکل کالج میں زیرِ تعلیم تھے، شادی کے بعد حکومت کی طرف سے اسکالرشپ ملنے پر نفسیات کی تعلیم کے لئے لندن چلے گئے، بقول ڈاکٹر رشید چوہدری "علم نفسیات" کی طرف آنا ان کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ لندن سے واپسی پر مختلف عہدوں پر کام کرتے رہے، 1974 میں انہیں میو ہسپتال میں میڈیکل سپرینٹنڈنٹ بنا دیا گیا۔

جہاں انہوں نے دماغی مریضوں کے لیے پہلی دفعہ ایک الگ وارڈ بنوایا، سائیکاٹری کے پروفیسر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے ریٹائر ہوئے۔ ڈاکٹر رشید چوہدری کو ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت کی طرف سے مختلف ممالک میں اعلٰی عہدوں پر کام کرنے کی آفرز ہوئیں، لیکن انہوں نے فاؤنٹین ہاؤس کی خاطر تمام آفرز ٹھکرا دیں اور باقی زندگی فاؤنٹین ہاؤس کے دکھی لوگوں کے لئے وقف کر دی۔

یہی وجہ ہے کہ آج دنیا اسی فاؤنٹین ہاؤس کی بدولت ڈاکٹر رشید چوہدری کو جانتی ہے۔ فاؤنٹین ہاؤس کا آغاز امریکہ کے شہر نیویارک سے ہوا، امریکہ میں دنیا کا پہلا "فاؤنٹین ہاؤس" اس وقت بنا، جب پانچ افراد جو ذہنی امراض کا شکار تھے، نے مل کر ایک چھوٹا سا مکان کرائے پر لیا۔ وہ مینٹل ہسپتال سے علاج مکمل ہونے کے بعد اس قابل نہ تھے کہ معمول کی زندگی گزار سکیں۔

اس لئے انہوں نے کرائے کا مکان لے کر ایک ساتھ رہنا شروع کر دیا اور اپنے آپ کو "وانا" کہنے لگے، جس کا مطلب تھا وی آر ناٹ الون(We are not alone) یعنی ہم اکیلے نہیں۔ بعد میں انہوں نے اپنا ایک کلب بنا کر مستقل رہائش کے لیے ایک گھر خرید لیا، جس کے صحن میں ایک فونٹین یعنی "فوارہ" لگا تھا۔ اس فوارے کی وجہ سے ہی وہ گھر "فاؤنٹین ہاؤس" کے نام سے مشہور ہوا۔

جو افراد مینٹل ہسپتال سے فارغ ہوتے وہ کچھ عرصہ کے لئے ان کے پاس آ کر رہتے، اپنے منفرد کام کی وجہ سے بہت جلد یہ کلب ایک تنظیم کی صورت اختیار کر گیا اور اس تنظیم کو اس قدر پذیرائی ملی کہ دنیا کے 14 ممالک میں ذہنی مریضوں کے لئے اسی طرز پر فاؤنٹین ہاؤس بن گئے۔ لاہور کا فونٹین ہاؤس بھی ان چودہ اداروں میں ہی شامل ہے۔

ڈاکٹر رشید چوہدری 1968ء میں نیویارک گئے، جہاں انہوں نے ذہنی امراض کے شکار لوگوں کا "فاؤنٹین ہاؤس" دیکھا اور وہ اس سے اس قدر متاثر ہوئے کہ وہیں انہیں پاکستان میں ایسا ادارہ بنانے کا خیال آیا۔ 1971ء میں پاکستان واپسی پر، انہوں نے ایمپرس روڈ پر ایک چھوٹا سا گھر لیا اور اس نیک کام کا آغاز کر دیا۔ مختصر عرصہ میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب نے کسی بڑی عمارت کی تلاش شروع کر دی۔

رشید چوہدری کو لاہور میں ایک ایسی عمارت کا علم ہوا جہاں پاکستان بننے سے پہلے ہندو بیوہ عورتیں رہتی تھیں، لیکن اب وہ عمارت خالی تھی۔ عمارت انتہائی کشادہ اور شاندار تھی، ان دنوں پنجاب کے وزیر اعلٰی ملک معراج خالد تھے، رشید چوہدری نے وزیراعلٰی سے اس عمارت کو ذہنی مریضوں کے لیے مختص کرنے کی درخواست کی۔ ملک معراج خالد چونکہ ایک خدا ترس انسان تھے، اس لیے انہوں نے فوراََ وہ جگہ ذہنی مریضوں کے لئے الاٹ کر دی۔

لہٰذا ہندو بیوہ عورتوں کے لیے بنایا جانے والا گھر ان دکھی لوگوں کے کام آ گیا، جو مختلف ذہنی و نفسیاتی مسائل کا شکار تھے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب نے اپنی کتاب "چار آدمی" میں جہاں فاؤنٹین ہاؤس کا تذکرہ کیا، جس کے روح رواں ڈاکٹر رشید چودھری تھے، وہیں اس عظیم انسان کا بھی ذکر کیا جس نے ہندو بیوہ عورتوں کے لیے یہ عمارت تعمیر کروائی تھی۔

سو سال پہلے ہندو معاشرہ کے رسم و رواج بہت عجیب تھے، بیوہ عورتیں اپنے خاوند کی وفات کے بعد بے آسرا ہو جاتیں، بلکہ زمانہ قدیم میں تو ان بیوہ عورتوں کو خاوند کی لاش کے ساتھ ہی زندہ جلا دیا جاتا تھا، جسے "ستی" کرنا کہا جاتا تھا۔ رفتا رفتا یہ رسم تو دم توڑ گئی لیکن ہندو بیوہ عورتوں کی زندگی اس قدر مشکلات کا شکار رہی کہ وہ عورتیں موت کے لیے دعائیں مانگتیں۔

اس دور میں ایک شخص نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ہندوستان میں ڈیڑھ کروڑ بیوہ عورتیں موجود ہیں، جن میں ایک کروڑ ہندو ہیں۔ اس شخص نے 1914ء میں ایک ایسوسی ایشن بنائی اور ان بیوہ عورتوں کی شادی کی مہم کا آغاز کیا، یہ ایک انقلاب کی بنیاد تھی۔ 1914ء میں اس ایسوسی ایشن نے بارہ شادیاں کروائیں، 1920ء میں یہ تعداد دو سو بیس ہو گئ، 1922ء میں ساڑھے چار سو، 1932ء میں اس ایسوسی ایشن نے 40 ہزار شادیاں کرائیں۔

اس ایسوسی ایشن کا کام رفتہ رفتہ پورے برصغیر میں پھیل گیا، کم عمر بیوہ عورتوں کی شادی تو کروا دی جاتی لیکن بڑی عمر کی بیوہ عورتیں جو دوبارہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں ان کے لئے اس شخص نے حکومت برطانیہ سے ایک "ہندو بیوہ گھر" کے نام سے ادارہ بنانے کی درخواست کی، جسے حکومت نے مان لیا۔

اس ادارہ کے لیےحکومت نے جگہ تو دے دی لیکن اس بیوہ گھر کی تعمیر کے لئے اڑھائی لاکھ روپے اس شخص نے اپنی جیب سے دیے اور یوں اس "ہندو بیوہ گھر" کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد 1922ء میں اس گھر کا افتتاح، اس وقت کےگورنر سر ایڈورڈ میگلیگن نے کیا۔ ہندو بیوہ گھر بنانے والے اس عظیم انسان کا نام سر گنگا رام تھا۔

1947ء میں پاکستان بننے کے بعد یہ عمارت ہندو بیوہ عورتوں سے تو خالی ہوگئ لیکن گنگا رام کی اس نیکی کا سفر ختم نہ ہوا، 1974ء میں وہی عمارت ایک بار پھر دکھی انسانیت کے کام آئی جہاں ڈاکٹر رشید چوہدری نے ذہنی اور نفسیاتی امراض کے شکار لوگوں کے لئے ایک فلاحی ادارہ بنا دیا۔ ماضی کا "ہندو بیوہ گھر" اب "فاؤنٹین ہاؤس" کی صورت ایک عظیم فلاحی ادارہ بن چکا ہے، جس کی شاخیں پاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی کھولی جاچکی ہیں۔

سر گنگا رام ہندو بیوہ عورتوں کےلیے اگر بھگوان کا درجہ رکھتے تھےتو ڈاکٹر رشید چوہدری بے شمار ذہنی و نفسیاتی مسائل کے شکار لوگوں کے لیے مسیحا بن گئے۔ یہ دونوں عظیم شخصیات اپنے فلاحی کاموں کی بدولت ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

Check Also

Bajwa Sahib Ki Ghumnami Ki Nazar Hone Ki Khwahish

By Nusrat Javed