Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Altaf Ahmad Aamir

610 Saal Purana Darakht Aur Bursa

چنار کا وہ درخت واقعی بہت بڑا تھا، اس درخت کی شاخیں بھی درخت نما تھیں اور چاروں طرف مشرق، مغرب، شمال اور جنوب میں پھیلی تھیں۔ یہ شاخیں اتنی بڑی اور وزنی تھیں کہ لوہے کے بڑے بڑے اسٹینڈ سے ان کو سہارا دیا گیا تھا، اس درخت کی اونچائی 37 میٹر تھی۔ یہ درخت کتنا بڑا تھا، اس بات کا اندازہ آپ اس کے پیندے کے ڈایامیڑ سے لگا سکتے ہیں، جو دس میٹر تھا۔

چنار کا یہ درخت 610 سال پرانا تھا، اس درخت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہی درخت ہے۔ جس کا خواب عثمان غازی نے دیکھا تھا۔ شام 6 بجے میں اور اشفاق یہ درخت دیکھنے کے لیے بورسا سے ٹیکسی کے ذریعے یہاں پہنچے۔ یہ درخت بورسا شہر سے 15 کلومیٹر دور ایک اونچی پہاڑی پر واقع ہے۔ ٹیکسی کے ذریعے اس درخت تک پہنچنے میں آدھا گھنٹہ لگ گیا۔

ٹیکسی سے اترے تو چند قدموں کے فاصلے پر وہ قدیم درخت موجود تھا۔ اس درخت کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے ریسٹورنٹس بنے تھے اور ان ریسٹورنٹس کے مالکان نے سیاحوں کے بیٹھنے کے لیے اس درخت کے نیچے مختلف جگہوں پر کرسیاں لگا رکھی ہیں۔ جونہی میں کرسی پر بیٹھا اور اس درخت کو دیکھا تو میرے ذہن میں اس خواب کا خیال آیا جو عثمان غازی نے دیکھا تھا۔

عثمان غازی کے اتالیق کا نام شیخ ادابالی تھا، عثمان نے اپنی ابتدائی مذہبی تعلیم شیخ ادابالی سے ہی حاصل کی۔ اسی دوران عثمان غازی کو شیخ ادابالی کی بیٹی رابعہ بالا سے محبت ہوگی اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ عثمان نے جب اپنی خواہش کا اظہار شیخ ادابالی سے کیا تو انہوں نے عثمان کو انکار کر دیا۔ کچھ عرصہ بعد عثمان غازی نے ایک خواب دیکھا کہ شیخ ادا بالی کے سینے سے ایک چاند نکلا۔

اور وہ عثمان کے سینے میں داخل ہوگیا، پھر عثمان نے دیکھا کہ اس کے سینے سے ایک درخت نمودار ہوا، جس کی شاخیں مشرق، مغرب، شمال اور جنوب میں چاروں طرف وہاں تک پھیل گئی، جہاں سے چار دریا نکلتے تھے اور چار پہاڑ تھے۔ پھر تیز ہوا چلی اور اس درخت کے پتے ایک ایسے شہر کی طرف اڑے جو انگوٹھی نما تھا، اس کے ساتھ ہی عثمان کی آنکھ کھل گئی۔

عثمان نے اپنا یہ خواب جب شیخ ادابالی کو سنایا تو انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی عثمان کے ساتھ کرنے کی رضامندی ظاہر کردی اور اس خواب کی تعبیر عثمان کو یہ بتائی کہ تم یا تمہاری اولاد میں سے کوئی، ایک عظیم الشان سلطنت قائم کرے گا، جو تین براعظموں تک پھیلی ہو گی اور قسطنطنیہ کو بھی فتح کرے گا۔ کیونکہ عثمان نے خواب میں جو انگوٹھی نما شہر دیکھا تھا وہ شہر دراصل قسطنطنیہ ہی تھا۔

بعد میں عثمان غازی کا یہ خواب سچ ثابت ہوا اور سلطنت عثمانیہ جس کی بنیاد عثمان نے رکھی تھی، وہ سلطنت 6 صدیوں تک قائم رہی اور عثمان کی نسل میں سے ہی 1453ء میں سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ کو فتح کیا۔ یہ واقعہ تاریخ کی کتابوں میں تو موجود تھا ہی اور ساتھ ہی اس درخت کا ذکر بھی ملتا ہے، لیکن اس واقعہ کا علم صرف تاریخ کے طالب علموں تک ہی محدود تھا۔

عثمان غازی کے ترک ڈرامہ میں اس واقعہ کو جس تفصیل سے دکھایا گیا ہے، اس کے بعد آج بچہ بچہ سلطنت عثمانیہ کی اس تاریخ سے واقف ہے۔ ہم نے ایک گھنٹہ یہاں گذارا، جو نہی ہم اس جگہ سے نکلنے لگے تو اس درخت کے بالکل ساتھ ہی ایک چھوٹی سی مسجد سے اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی، مغرب کا وقت ہو چکا تھا، ہم دونوں مغرب کی نماز ادا کرنے کے لیے اس مسجد میں آگئے۔

یہ چھوٹی سی خوبصورت مسجد لکڑی اور پتھروں سے بنی تھی، نماز ادا کرنے کے بعد میں مسجد سے باہر نکلا تو باہر ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی، مسجد کے ساتھ ہی ایک بوڑھی ترک خاتون نے پھل کی ریڑھی لگا رکھی تھی، میں نے وہاں سے فریش چیری اور شہتوت خریدے اور ہلکی ہلکی پھوار میں کھاتے ہوئے مین روڈ کی طرف چلنے لگا۔ اسی دوران میرے قریب سے ایک ترک جوڑا گزرا جن کی عمر 40 سے 45 سال کے درمیان ہو گی۔

میں نے ان سے پوچھا کہ مجھے بورسا کے لیے ٹیکسی کہاں سے ملے گی تو اس ترک نے اپنے کندھے اکچاے اور صاف کہا "وی ڈونٹ ناؤ" ہم نہیں جانتے۔ خیر میں سڑک کے کنارے کھڑا ہوگیا اور اشفاق کا انتظار کرنے لگا۔ ترک جوڑے نے مین روڈ کراس کیا اور سڑک کی دوسری جانب تیزی سے اپنی گاڑی میں بیٹھ گئے اور آپس میں گپ شپ کرنے لگے۔ اتنے میں اشفاق بھی مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد میرے پاس آ گیا اور ہم دونوں چیری اور شہتوت کھاتے ہوئے ٹیکسی کا انتظار کرنے لگے۔

اس ترک کو پتہ نہیں کیا خیال آیا وہ اپنی گاڑی سے نکلا اور سڑک کراس کرکے ہمارے پاس آ کر کہنے لگا کہ ہم نے عثمان غازی کے مقبرے کی طرف جانا ہے، اگر آپ لوگوں نے ادھر ہی جانا ہے تو آپ ہمارے ساتھ آ سکتے ہیں۔ عثمان غازی کے مقبرے کے بالکل قریب ہی ہم نے ہوٹل لے رکھا تھا اور ہمیں بھی وہی جانا تھا لہذا ہم دونوں اس ترک جوڑے کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے۔

ڈرائیونگ کرتے ہوئے اس ترک نے ہم سے پوچھا کہ آپ کہاں سے ہیں اور یہاں کیا کر رہے ہیں؟ ہم نے اپنا تعارف کروایا کہ ہم پاکستانی ہیں اور ہم یہاں سلطنت عثمانیہ سے متعلق تاریخی مقامات دیکھنے آئے ہیں۔ پھر وہ ترک ہمیں بتانے لگا کہ وہ ازمیر کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہے اور وہ دونوں یہاں بورسا اپنے رشتہ داروں کو ملنے آئے ہیں۔ باہر ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی اور آہستہ آہستہ اندھیرا بھی چھا رہا تھا۔

اور گاڑی میں دھیمی آواز میں ترک میوزک لگا تھا، وہ ترک جوڑا انتہائی پڑھا لکھا، مہذب اور ماڈرن دکھائی دے رہا تھا۔ سارے راستے ہمارے ساتھ مختلف موضوعات پر گفتگو کرتا رہا۔ اس ترک جوڑے کے ساتھ یہ مختصر سا سفر انتہائی خوشگوار رہا۔ انہوں نے ہمیں عثمان غازی کے مقبرے کے بالکل قریب ایک چوک میں اتارا۔ وہاں سے ہم قریب ہی ایک ریسٹورنٹ میں گئے اور رات کا کھانا کھایا۔

رات کے دس بج چکے تھے، لیکن عثمان غازی کے مقبرے پر ابھی بھی گہما گہمی تھی، ہم رات کے وقت بورسا شہر کا نظارہ کرنے کے لئے مقبرے کی طرف چل دیے۔ بلیجیک سے دن بجے ہم سیدھا عثمان غازی کے مقبرے پر ہی آئے تھے، یہ مقبرہ انتہائی بلندی پر ہے، یہاں سے پورا بورسا شہر دکھائی دیتا ہے۔ عثمان غازی کے مقبرے کے ساتھ ہی اس کے بیٹے اورحان خان کا مقبرہ بھی ہے۔

جس نے یہ بورسا شہر 1326ء میں فتح کیا تھا۔ اور بورسا کو ہی اپنا دارالحکومت بنا لیا۔ یہ ترکوں میں پہلا حکمران تھا، جس نے اپنے لیے "سلطان" کا لفظ استعمال کیا۔ اس سے پہلے ارطغرل اور عثمان اپنے نام کے ساتھ "بے" کا لفظ استعمال کرتے تھے یعنی "ارطغرل بے"، "عثمان بے"۔ ان دونوں مقبروں پر فاتحہ خوانی کے بعد ہم ساتھ ہی پاک نما کھلی جگہ پر آ گئے جہاں ایک بلند مینار تھا، جس پر سرخ لائٹنگ خوبصورتی سے کی گئی تھی۔

اس مینار کے ساتھ چند توپیں بھی رکھی گئی ہیں۔ جو سلطنت عثمانیہ کے سلاطین کے زیراستعمال رہیں۔ جونہی ہم اس مینار کے پاس سے گزر کے تھوڑا آگے بڑھے تو سامنے بورسا شہر روشنیوں میں ڈوبا ہوا دکھائی دے رہا تھا، یہ جگہ چونکہ کافی بلندی پر تھی، اس لیے اس گنجان آباد شہر میں یہ روشنیاں یوں محسوس ہو رہی تھی کہ جیسے تارے زمین پر اتر آئے ہوں۔

قریب ہی ایک بوڑھا ترک بانسری بجا رہا تھا، ہوا میں خنکی تھی اور آنکھوں کے سامنے تاحدنگاہ ستاروں کی طرح چمکتی روشنیاں اس سارے منظر کو اور بھی دلکش بنا رہی تھی۔ ہم یہاں کچھ دیر ایک بینچ پر بیٹھے اور اس نظارے سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، اس لیے ہم آہستہ آہستہ پیدل چلتے ہوئے ہوٹل کی طرف چل دیے جو وہاں سے قریب ہی تھا۔

اگلے دن ہم فیری بورٹ کے ذریعے بورسا سے استنبول جانا چاہتے تھے، اس لیے ہم جونہی ہوٹل میں داخل ہوئے تو سوچا کے استقبالیہ پر بیٹھے لڑکے سے بورسا سے استنبول جانے کے لیے کچھ معلومات لیتے ہیں، میں نے استقبالیہ پر بیٹھے ترک لڑکے سے بات کی لیکن اسے انگریزی نہیں آتی تھی، اس لیے اس نے اپنے ساتھ بیٹھے لڑکے کی طرف اشارہ کر دیا جو انگریزی جانتا تھا۔

اس نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور بتانے لگا کہ آپ فیری بورٹ کے ذریعے بھی استنبول جا سکتے ہیں اور بس کے ذریعے بھی۔ خیر اس نے ہمیں فیری بورٹ اسٹیشن کے بارے میں سارا راستہ سمجھایا۔ وہ لڑکا بہت ہی خوش اخلاق تھا، اس نے بتایا کہ میرا نام میکائیل ہے، میں ایران سے تعلق رکھتا ہوں، انٹیرئیر ڈیزائنر ہوں اور یہاں بورسا میں پچھلے چھ ماہ سے کام کر رہا ہوں۔

پھر اس نے موبائل سے اپنے کچھ انٹرویوز کی ویڈیوز دکھائیں، جو ایران کے نیشنل ٹیلی ویژن چینل پر ریکارڈ کی گئی تھیں۔ اس لڑکے کی عمر 25، 26 سال کے لگ بھگ تھی، وہ ایران کا کم عمر ترین انٹیرئیر ڈیزائنر تھا، اس نے بتایا کہ یہ استقبالیہ پر بیٹھا ترک لڑکا جس کا نام مظفر ہے، میرا بہترین دوست ہے اور میں یہاں اکثر رات کو یہاں گپ شپ کے لیے اس کے پاس آ جاتا ہوں۔

پھر کہنے لگا کہ ترک لوگ دوسرے ممالک کے لوگوں کو بہت کم دوست بناتے ہیں، لیکن میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے مظفر جیسا ترک دوست ملا۔ مظفر ہمارے لئے چائے بنا کر لے آیا، ہم دونوں نے اپنا تعارف انہیں کروایا اور خوب گپ شپ ہونے لگی۔ میں نے میکائیل کو کہا کہ آپ کی انگلش بہت اچھی ہے، اس نے مسکرا کر کہا کہ میری والدہ بیلجیم سے ہیں اور والد ایران سے، اس لیے میں انگریزی اور فارسی دونوں زبانیں بول لیتا ہوں۔

تھوڑی ہی دیر میں یوں محسوس ہونے لگا جیسے ہم کافی عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔ میں نے چائے کا گھونٹ لیا، کپ میز پر رکھا اور میکائیل سے دوبارہ گویا ہوا کہ ہم ایک ہی مزاج کے لوگ ہیں اور دنیا کے مختلف خطوں میں رہتے ہیں، شاید اسی لیے ہمیں ایک دوسرے سے مل کر اچھا لگا اور اللہ نے ہمیں یوں اچانک ایک دوسرے سے ملوا دیا۔

میکائیل ہمارے لئے آئس کریم لے آیا، ایک دوسرے سے وہاں گپ شپ کرتے ہوئے تین گھنٹے کیسے گزر گئے، ہمیں اس کا احساس ہی نہیں ہوا۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی ہم مزاج شخص کے ساتھ وقت کے گزرنے کا احساس نہیں ہوتا۔ رات کے تین بج چکے تھے اور صبح ہم نے بورسا کے لیے بھی نکلنا تھا، اس لئے ہم نے مظفر اور میکائیل سے اجازت چاہی۔

میکائیل نے اپنا موبائل نکالا اور ہمارے ساتھ تصاویر بنائیں اور یوں یہ ملاقات ہمیشہ کے لئے یاد گار ہوں گئی۔ صبح کے وقت ہاکن، شام کو اس ترک جوڑے کا ملنا جنہوں نے ہمیں اپنی گاڑی میں لفٹ دی اور رات کو مظفر اور مکائیل جیسے لوگوں کا یوں ایک اجنبی شہر میں مل جانا یقینا خوبصورت احساس تھا۔ رات سونے سے پہلے میں دیر تک یہ سوچتا رہا کہ یہ دنیا اچھے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔

بس ہمیں خود کو اچھا بنانا ہے، پھر خود بخود بیلیجک کے ہا کن، ازمیر کے پروفیسر اور بورسا کے مظفر اور مکائیل جیسے لوگ ملتے چلے جائیں گے۔

Check Also

Kairouan Sheher Mein Chand Ghante

By Javed Chaudhry