شفاف قومی بیانیے کی تشکیل

ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس کو اگر محض ایک عسکری بریفنگ کے طور پر دیکھا جائے تو اس کی معنوی جہت محدود ہو کر رہ جاتی ہے، تاہم پالیسی تجزیے کے زاویے سے یہ کانفرنس دراصل ریاستِ پاکستان کے دہشت گردی سے متعلق ارتقائی بیانیے کی ایک اہم کڑی نظر آتی ہے۔ اس بریفنگ کا بنیادی نکتہ یہ نہیں تھا کہ کتنے آپریشن ہوئے یا کتنے جانی نقصانات اٹھائے گئے، بلکہ اصل پیغام یہ تھا کہ 2025ء تک پہنچتے پہنچتے ریاست، ادارے اور بڑی حد تک عوام دہشت گردی کی نوعیت، اس کی ساخت، اس کے سہولت کاروں اور اس کے تزویراتی مقاصد پر ایک مشترکہ فہم تک پہنچ چکے ہیں۔
اس کانفرنس میں بار بار جس تصور کو ابھارا گیا، وہ "کلیئرٹی" کا تھا۔ پالیسی اسٹڈیز میں کلیئرٹی محض بیانیہ نہیں ہوتی بلکہ فیصلہ سازی، ترجیحات اور وسائل کی تقسیم کا بنیادی اصول سمجھی جاتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشت گردی اب کسی نظریاتی یا سیاسی ابہام کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ اسے ایک منظم، سرحد پار جُڑی ہوئی اور ریاست مخالف سرگرمی کے طور پر شناخت کر لیا گیا ہے۔ یہ شناخت بذاتِ خود ایک پالیسی شفٹ کی علامت ہے، کیونکہ ماضی میں پاکستان نے دہشت گردی کو کبھی داخلی ناراضگی، کبھی علاقائی عدم مساوات اور کبھی مذاکراتی مسئلے کے طور پر زیادہ فریم کیا۔
اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے جو تصویر پیش کی گئی، وہ اِس جنگ کی اُس قیمت کو واضح کرتی ہے جو ریاست اور اسکے شہریوں کو چکانی پڑی۔ ہزاروں آپریشنز اور سینکڑوں شہادتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ریاست نے دہشت گردی کے خلاف عسکری سطح پر غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔ تاہم پالیسی کے زاویے سے اہم سوال یہ نہیں کہ کتنی کارروائیاں ہوئیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کارروائیوں کے پیچھے حکمتِ عملی کس حد تک مربوط، پائیدار اور کثیرالجہتی رہی۔ پریس کانفرنس میں پیش کی گئی گفتگو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ریاست اب دہشت گردی کو محض سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک جامع قومی چیلنج کے طور پر دیکھ رہی ہے، جس کے سیاسی، سماجی اور بین الاقوامی پہلو بھی ہیں۔
افغانستان کے حوالے سے مؤقف اس بریفنگ کا سب سے حساس اور اسٹریٹیجک پہلو تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغانستان میں مؤثر ریاستی عملداری کے فقدان اور وہاں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کی نشاندہی کی، جسے بھارتی اثر و رسوخ سے جوڑا گیا۔ پالیسی تجزیے کی زبان میں یہ مؤقف پاکستان کی اس دیرینہ اسسمنٹ کی توسیع ہے کہ سرحد پار عدم استحکام داخلی سلامتی کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس مؤقف کو اب عالمی سطح پر زیادہ سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے، جو پاکستان کی سفارتی پوزیشن میں تدریجی بہتری کی علامت ہو سکتی ہے۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے زیادہ واقعات پر اٹھایا گیا سوال محض صوبائی تنقید نہیں بلکہ گورننس اور سیکیورٹی کے باہمی تعلق کی طرف اشارہ ہے۔ "پولیٹیکل کریمنل ٹیرر نیکسس" کی اصطلاح دراصل اس تصور کو اجاگر کرتی ہے کہ دہشت گردی اس وقت زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے جب سیاسی کمزوری، انتظامی خلا اور مقامی طاقت کے ڈھانچے اس کے لیے جگہ فراہم کریں۔ تھنک ٹینک تناظر میں یہ ایک اہم نکتہ ہے، کیونکہ یہ ریاست کو محض عسکری حل سے آگے بڑھ کر ادارہ جاتی اصلاحات، سیاسی ذمہ داری اور مقامی سطح پر ریاستی رِٹ مضبوط کرنے کی ضرورت کی یاد دہانی کراتا ہے۔
پریس کانفرنس میں ریاستی خودمختاری اور آئینی دائرے پر زور دینا بھی قابلِ توجہ تھا۔ سزا و جزا کے اختیار کو صرف ریاست تک محدود قرار دینا ایک کلاسیکل ویسٹ فیلیئن (Westphalian) تصورِ ریاست کی طرف واپسی کی علامت ہے، جہاں طاقت کے استعمال کی اجارہ داری ریاست کے پاس ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں فوج پر شہری آبادی کو نقصان پہنچانے کے الزامات کی تردید کی گئی، جس کا مقصد نہ صرف داخلی اعتماد سازی تھا بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے بیانیے کے تناظر میں اپنا مؤقف واضح کرنا بھی تھا۔
فوج اور عوام کے تعلق پر گفتگو اس کانفرنس کا نسبتاً نرم مگر اہم پہلو تھا۔ "ہمارے اور عوام کے درمیان کچھ بھی حائل نہیں " جیسا بیان پالیسی زبان میں سول ملٹری ہم آہنگی کی علامت ہے۔ یہ پیغام اس خیال کو تقویت دیتا ہے کہ سیکیورٹی پالیسی صرف اداروں کے درمیان نہیں بلکہ عوامی تائید کے بغیر مؤثر نہیں ہو سکتی۔ شہداء کو اجتماعی خراجِ تحسین اور قربانیوں کا دل کی گہرائیوں سے اعتراف اسی اخلاقی فریم کا حصہ ہے جو کسی بھی طویل جنگ کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
سیاسی کردار اور عسکری ذمہ داری کی حد بندی پر بات کرتے ہوئے یہ واضح کیا گیا کہ سیاسی مذاکرات حکومت کا دائرہ ہیں۔ یہ بیان پالیسی نقطۂ نظر سے نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ فوج کی جانب سے خود کو آئینی فریم ورک میں رکھنے اور سیاسی عمل سے فاصلہ برقرار رکھنے کے بیانیے کو مضبوط کرتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا کہ دہشت گردی کے معاملے پر کوئی ابہام یا مفاہمت قابلِ قبول نہیں، جو ایک سخت مگر واضح ریڈ لائن کی نشاندہی کرتا ہے۔
مجموعی طور پر، اس پریس کانفرنس کو ایک عبوری موڑ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ریاستی بیانیہ دفاعی وضاحت سے نکل کر اعتماد پر مبنی وضاحت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ بیانیہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ جنگ جاری ہے، نقصانات ہو رہے ہیں، مگر سمت واضح ہے۔ سادہ لفظوں میں کہا جائے تو ریاست اب مسئلے کی تعریف، دشمن کی شناخت اور ردِعمل کی حدود کے حوالے سے نسبتاً زیادہ ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ کلیئرٹی زمینی سطح پر تمام مسائل حل کر دے گی، مگر پالیسی سطح پر یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کسی بھی طویل المدتی حکمتِ عملی کی کامیابی کا انحصار صرف عسکری طاقت پر نہیں بلکہ سیاسی استحکام، علاقائی سفارت کاری اور سماجی اعتماد پر بھی ہوتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی اس پریس کانفرنس کو اسی وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، ایک ایسے بیانیے کے طور پر جو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ریاست اب اس جنگ کو صرف لڑ نہیں رہی، بلکہ اسے سمجھ بھی چکی ہے اور پالیسی کی دنیا میں یہی فہم کسی بھی پائیدار حل کی پہلی شرط ہوتی ہے۔

