Friday, 23 January 2026
  1.  Home
  2. Farhat Abbas Shah
  3. Netanyahu, Trump, Modi: Tareekh Ki Na Pasandeeda Tareen Trica

Netanyahu, Trump, Modi: Tareekh Ki Na Pasandeeda Tareen Trica

نیتن یاہو، ٹرمپ، مودی: تاریخ کی ناپسندیدہ ترین ٹرائیکا

اگر موجودہ عالمی سیاست کو وقتی خبروں، سفارتی بیانات اور طاقت کے اعداد و شمار سے ہٹا کر گہرے ادراکی زاویے سے دیکھا جائے تو ایک واضح مگر خوفناک حقیقت ابھر کر سامنے آتی ہے کہ اکیسویں صدی کی سب سے منظم اور ہم آہنگ اخلاقی گراوٹ تین کرداروں کے گرد گھومتی ہے، نیتن یاہو، ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی، یہ محض تین ممالک کے حکمران نہیں بلکہ ایک ایسی فکری اور سیاسی ٹرائیکا ہیں جو طاقت کو حق، ذاتی سوچ کو سچ اور جبر کو ریاستی حکمتِ عملی سمجھتی ہے، نتن یاہونے اسرائیل کو جس طرح مسلسل جنگ، محاصرے، اجتماعی سزا اور کھلی نسل کشی کی ریاست میں تبدیل کیا ہے، اس نے اسرائیل کو عالمی ضمیر میں اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اب اس کا دفاع دلیل سے نہیں بلکہ محض طاقت اور لابنگ سے کیا جاتا ہے، غزہ کی تباہی، فلسطینی بچوں کی لاشیں، اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گزین کیمپوں پر بمباری اب کسی ایک جنگ یا وقتی ردعمل کے طور پر نہیں دیکھی جا رہی بلکہ ایک مستقل، منصوبہ بند اور نظریاتی ریاستی پالیسی کے طور پر پہچانی جا چکی ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں اسرائیل ایک ریاست نہیں بلکہ ایک علامت بن جاتا ہے، ظلم کی علامت اور یہی علامت ٹرمپ اور مودی کے لیے کشش کا مرکز بنتی ہے، مودی نے بھارت کو ایک سیکولر، کثیرالثقافتی اور جمہوری تصور سے نکال کر ہندو قوم پرستی کے اس خول میں بند کیا جہاں اقلیتیں مشتبہ، اختلاف دشمنی اور سوال غداری بن جاتا ہے، کشمیر کی آئینی حیثیت کا خاتمہ، مسلمانوں کے خلاف منظم نفرت، شہریت کے متنازعہ قوانین، مسجدوں اور گھروں کی مسماری اور ریاستی سرپرستی میں ہجوم کا تشدد بھارت کو آہستہ آہستہ اس اخلاقی مقام سے گرا چکا ہے جس پر وہ کبھی گاندھی، نہرو اور ٹیگور کے نام پر فخر کیا کرتا تھا، معاشی سطح پر مودی کا بھارت بلند نعروں کے باوجود بے روزگاری، زرعی بحران، طبقاتی خلیج اور سرمایہ کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کا شکار ہے، سفارتی سطح پر وہ اپنے پڑوسیوں کا اعتماد کھو چکا ہے، بلکہ پاکستان کے ہاتھوں اٹھائی جانے والی ہزیمت کا داغ اب قیامت تک اس کے ماتھے سے اترنے والانہیں۔

بھارت مودی کی قیادت میں اس وقت چین کے سامنے مسلسل دفاعی دباؤ میں ہے اور عالمی سطح پر ایک جارح مگر غیر متوازن طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، بالکل اسی طرح ٹرمپ نے امریکہ کو اس کے تاریخی کردار، عالمی ذمہ داری اور اخلاقی قیادت سے عملاً دستبردار کر دیا ہے، نیٹو کو بوجھ قرار دے کر یورپ کو عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کیا، جرمنی اور فرانس جیسے اتحادیوں کو تضحیک کا نشانہ بنایا، برطانیہ کے ساتھ خصوصی تعلقات کو ذاتی پسند ناپسند اور وقتی سیاسی مفاد تک محدود کیا، وینزویلا میں بین الاقوامی قوانین کا مجرم ٹھہرا، گرین لینڈ پر قبضے کی بات کرکے جگ ہنسائی کا باعث بنا اور عرب دنیا میں کبھی جمہوریت، استحکام اور انسانی حقوق کے نام پر مداخلت کرنے والا امریکہ اب محض ایک اسلحہ فروش، ناقابلِ اعتماد اور وقتی سودے باز کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔

ٹرمپ کی خارجہ پالیسی نے امریکہ کے اس امیج کو شدید نقصان پہنچایا جو دہائیوں سے عالمی نظام کا مرکز اور اخلاقی حوالہ سمجھا جاتا تھا، اقوامِ متحدہ، عالمی تجارتی ادارے، موسمیاتی معاہدے اور بین الاقوامی قوانین سب ٹرمپ کے نزدیک غیر ضروری رکاوٹیں بن گئے ہیں، مگر ان تینوں کرداروں کو ایک ہی لکیر پر جوڑنے والا اصل عنصر اسرائیل اور اس کی موجودہ قیادت یعنی نیتن یاہو ہے، نیتن یاہونے اسرائیل کو جس حد تک عسکریت، خوف اور مستقل جنگ کی ریاست میں تبدیل کیا، وہی ماڈل مودی نے بھارت میں اور ٹرمپ نے امریکہ میں اپنے اپنے انداز میں اپنایا، ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا محض ایک سفارتی قدم نہیں تھا بلکہ یہ عالمی قانون، اقوامی حقِ خود ارادیت اور مشرقِ وسطیٰ میں انصاف کے تصور پر براہِ راست حملہ تھا، مودی کا اسرائیل کے ساتھ غیر معمولی قرب، عسکری تعاون اور انٹیلی جنس شراکت دراصل اسی ذہنیت کا اظہار ہے جس میں ریاستی طاقت کو اخلاقیات پر فوقیت دی جاتی ہے اور اختلاف کو کچلنا ریاستی فریضہ سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی بڑی جامعات، سڑکوں، ثقافتی اداروں حتیٰ کہ پارلیمانوں میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کے ساتھ ساتھ بھارت اور امریکہ کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، یہ محض پالیسی کا اختلاف نہیں بلکہ ایک گہرا اخلاقی ردعمل ہے، ایک اجتماعی ادراک جو یہ کہنے لگا ہے کہ ظلم جہاں بھی ہو اور جس کے ساتھ بھی کھڑا ہوا جائے، وہ اپنے اتحادیوں کو بھی اسی اخلاقی دائرے میں لے آتا ہے، آج دنیا ان تینوں ممالک کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی ذہنی، سیاسی اور اخلاقی بلاک کے طور پر دیکھنے لگی ہے، ایک ایسا بلاک جو انسانی حقوق کو کمزوری، عالمی قوانین کو رکاوٹ اور اختلاف کو دشمنی سمجھتا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیل عالمی سطح پر تنہائی، بائیکاٹ اور نفرت کا مرکز بن چکا ہے، بھارت اپنی سافٹ پاور، تہذیبی وقار اور جمہوری ساکھ کھو رہا ہے اور امریکہ کی قیادت پر وہ شکوک جنم لے چکے ہیں جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد کبھی اس شدت سے سامنے نہیں آئے تھے، عرب ممالک جو کبھی امریکہ کے فطری اتحادی سمجھے جاتے تھے اب چین اور روس جیسے متبادل مراکز کی طرف دیکھ رہے ہیں، یورپ دفاعی خودمختاری اور نیٹو سے آگے کی حکمتِ عملی پر غور کر رہا ہے، لاطینی امریکہ اور افریقہ میں امریکہ کے اثر و رسوخ میں واضح کمی آ چکی ہے اور عالمی سطح پر یہ احساس مضبوط ہو رہا ہے کہ نیتن یاہو، ٹرمپ اور مودی کی سیاست نے اپنے اپنے ممالک کو طاقتور نہیں بلکہ اخلاقی طور پر کمزور، سفارتی طور پر تنہا اور تاریخی طور پر مشتبہ بنا دیا ہے، یہ ٹرائیکا وقتی طور پر شور، بیانیہ، اسلحہ اور خوف ضرور پیدا کر سکتی ہے مگر تاریخ کے کٹہرے میں یہی شور ان کے خلاف گواہی بنے گا، کیونکہ تاریخ ان رہنماؤں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو ریاستی طاقت کو انسانیت کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور آج کے عالمی شعور میں یہ تینوں نام آہستہ آہستہ ایک ہی سطر میں، ایک ہی علامت کے طور پر درج ہو رہے ہیں، ایک ایسی علامت جو نفرت، جبر، اخلاقی زوال اور عالمی ناپسندیدگی کی نمائندہ بن چکی ہے۔

Check Also

Molana Fazal Ur Rehman Aur Badalta Hua Aalmi Siasi Manzar Nama

By Muhammad Riaz