معاشی ترقی کا اشاریہ پاکستان نیشنل ایکسپو 2026ء

سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں منعقد ہونے والی پاکستان انڈسٹریل ایکسپو 2026ء محض ایک نمائش نہیں بلکہ قومی معاشی ویژن کی عملی تعبیر بن کر سامنے آئی ہے۔ 500 سے زائد صنعتی یونٹس کی بھرپور شرکت نے واضح کر دیا کہ پنجاب میں صنعتی سرگرمیاں نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ گزشتہ برس 300 اسٹالز کے مقابلے میں اس سال 500 سے زائد اسٹالز کا قیام کاروباری اعتماد، پالیسی استحکام اور سرمایہ کار دوست ماحول کی علامت ہے۔
یہ پیش رفت اس وسیع تر اکنامک ویژن کی جھلک ہے جسے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل نے قومی سلامتی کو معاشی استحکام سے جوڑتے ہوئے پیش کیا تھا۔ دفاعی مضبوطی کے ساتھ معاشی خود انحصاری کو یقینی بنانے کا تصور اب صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ کی صورت میں ثمر آور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ریاستی اداروں، پالیسی سازوں اور کاروباری برادری کے درمیان ہم آہنگی نے ترقی کی رفتار کو نئی جہت دی ہے۔
ایکسپو کی کامیابی میں منتظمین کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ صدر بورڈ آف مینجمنٹ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ، جناب محمد احمد کی قیادت میں انتظامیہ نے جس پیشہ ورانہ انداز سے اس بڑے صنعتی اجتماع کو منظم کیا، وہ صنعتی نظم و نسق کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے نہ صرف صنعتکار برادری کو یکجا کیا بلکہ آئی ایس پی آر اور دیگر قومی اداروں کے ساتھ موثر رابطہ قائم کرکے ایک جامع اور ہمہ جہت پلیٹ فارم مہیا کیا۔ محمد احمد کی جانب سے صنعتکاروں اور آئی ایس پی آر کا شکریہ ادا کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ صنعتی ترقی کو قومی مشن کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
چیئرمین فیڈمک ایس ایم تنویر، میجر (ر) جاوید اقبال، سید معاذ محمود اور ملک بھر سے شریک ممتاز صنعتکاروں کی موجودگی نے نمائش کی اہمیت کو دو چند کر دیا۔ ان شخصیات کی شرکت اور مثبت تاثرات اس امر کا ثبوت ہیں کہ صنعتی قیادت اس وژن کو عملی جامہ پہنانے میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔
صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین کا خطاب اس ایکسپو کا مرکزی نکتہ تھا۔ انہوں نے اسے پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی صنعتی نمائش قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت صنعتی بحالی اور توسیع کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ صنعتی پلاٹس کی غیر پیداواری خرید و فروخت کے خاتمے اور چھ ماہ میں فیکٹری کے قیام کی شرط نے صنعت کو حقیقی پیداوار کی طرف موڑ دیا ہے۔ فری زونز میں صفر فیصد امپورٹ ڈیوٹی اور دس سالہ انکم ٹیکس استثنیٰ سرمایہ کاروں کے لیے غیر معمولی سہولت ہے جو عالمی سطح پر مسابقت کو تقویت دے گی۔
گارمنٹس سٹی کا 300 ایکڑ پر قیام، شیخوپورہ فری زون میں نئی فیکٹریوں کا آغاز، 200 ایکڑ پر فارماسیوٹیکل زون کی تعمیر اور چِپ مینو فیکچرنگ جیسے منصوبے اس بات کی علامت ہیں کہ صنعتی ترقی کو جدید ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ ویوو کے تعاون سے مقامی چِپ پلانٹ کا قیام ملک کو ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں مقام دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھلوال انڈسٹریل اسٹیٹ میں 150 سے زائد چینی صنعتکاروں کی سرمایہ کاری اور کم لاگت بجلی کے لیے گرڈ اسٹیشن کی فعالیت عملی سہولتوں کی فراہمی کا واضح ثبوت ہے۔
سیالکوٹ میں نئی انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام اور ایئرپورٹ کی توسیع، رحیم یار خان ایئرپورٹ کو عوام کے لیے کھولنے کا اعلان اور بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر کے ذریعے 30 دن میں این او سیز کے اجرا کی یقین دہانی کاروباری آسانیوں میں نمایاں اضافہ ہے۔ آن لائن درخواست اور گھر تک دستاویزات کی فراہمی جیسے اقدامات صنعتکاروں کے لیے اعتماد افزا پیش رفت ہیں۔ زرعی زمین کے تحفظ کا عزم یہ ظاہر کرتا ہے کہ ترقی کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔
ایکسپو میں آئی ایس پی آر پنجاب سیکٹر اور پنجاب اینٹی نارکوٹکس فورس کے آگاہی سٹالز خصوصی توجہ کا مرکز رہے۔ دونوں اداروں نے عوامی رابطے، شعور بیداری اور قومی فلاح کے جذبے کے ساتھ جس انداز میں شرکت کی، وہ قابلِ ستائش ہے۔ نوجوانوں کو منشیات سے دور رکھنے اور قومی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں معاشرتی ذمہ داری کا پیغام دینا اس امر کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے صرف دفاع تک محدود نہیں بلکہ سماجی بہتری اور خیرسالی کے جذبے سے بھی سرشار ہیں۔ ان اداروں کی موجودگی نے صنعتی نمائش کو ایک قومی ہم آہنگی کے پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا۔
ترکش کمرشل قونصل نورالدین سمیت غیر ملکی نمائندوں کی شرکت اور مثبت آراء نے عالمی سطح پر پاکستان کی صنعتی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی نمائشیں عالمی کمپنیوں کو پاکستانی مصنوعات اور سرمایہ کاری کے مواقع سے روشناس کرانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔
مجموعی طور پر پاکستان انڈسٹریل ایکسپو 2026ء ایک ایسے سفر کی عکاس ہے جس میں معاشی وڑن، حکومتی سنجیدگی، منتظمین کی محنت، صنعتکاروں کا اعتماد اور قومی اداروں کی شمولیت یکجا ہو چکی ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو صنعتی پیداوار، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ بعید از قیاس نہیں۔ یہ پیش رفت اس امید کو تقویت دیتی ہے کہ پاکستان ایک مضبوط، خود انحصار اور متحرک صنعتی معیشت کے طور پر عالمی افق پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

