امریکہ، چین اور اسلامی ممالک کا کھیل

اکیسویں صدی کی عالمی سیاست کو اگر صرف ریاستوں، معیشتوں اور طاقت کے مراکز کی آنکھ سے دیکھا جائے تو چین، امریکہ اور اسلامی دنیا کے درمیان بنتی ہوئی مثلث محض ایک سٹریٹجک کھیل دکھائی دیتی ہے، مگر جب اسی منظرنامے کو آٹھ ارب انسانوں کی اجتماعی نگاہ سے دیکھا جائے، جن میں اکثریت غربت، عدم تحفظ، جنگ، ماحولیاتی تباہی اور معاشی ناہمواری کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، تو یہ مثلث طاقت کی نہیں بلکہ استحصال کی ایک نئی جیومیٹری بن کر سامنے آتی ہے، کیونکہ جدید دنیا کی اصل تقسیم تہذیبوں، مذاہب یا ریاستوں کے درمیان نہیں بلکہ ایک طرف وہ عالمی اشرافیہ ہے جو سرمایہ، اسلحہ، ٹیکنالوجی اور بیانیے پر قابض ہے اور دوسری طرف وہ کروڑوں عوام ہیں جن کے لیے جنگ، پابندیاں اور بحران محض خبروں کا موضوع نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت ہیں۔
امریکہ اس نظام کا سب سے پرانا اور منظم محافظ رہا ہے، جس نے جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی کے نعروں کے تحت ایسی عالمی ترتیب قائم کی جس میں جنگ ایک صنعت بن گئی، اسلحہ ساز کمپنیاں ریاستی پالیسی پر اثرانداز ہوئیں اور مسلم دنیا سمیت عالمی جنوب کو مستقل عدم استحکام کے زون میں رکھا گیا تاکہ دفاعی بجٹ، فوجی اڈے اور اسلحے کی فروخت کا پہیہ کبھی رُک نہ سکے، جبکہ چین نے اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے خود کو ایک مختلف چہرے کے ساتھ پیش کیا، مگر یہاں یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ چین بھی کسی عوامی عالمی نظام کا علمبردار نہیں بلکہ ایک ریاستی سرمایہ داری (Capitalism State) کا نمائندہ ہے، جس میں عوامی بہبود سے زیادہ پیداواری صلاحیت، منڈیوں تک رسائی اور وسائل کے تسلسل کو ترجیح دی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان جو تصادم دکھائی دیتا ہے وہ عوام کی نجات کا نہیں بلکہ سرمایہ کے نئے مراکز کے درمیان بالادستی کی جنگ ہے اور اسلامی دنیا اس کشمکش میں ایک ایسے خطے کے طور پر موجود ہے جہاں جنگیں آسانی سے برآمد کی جا سکتی ہیں، اسلحہ آزمایا جا سکتا ہے اور عوامی غصے کو مذہبی یا قومی بیانیوں میں جذب کرکے اصل معاشی سوالات سے توجہ ہٹائی جا سکتی ہے۔
اس مثلث میں مسلم عوام سب سے کمزور کڑی ہیں، کیونکہ ان کی ریاستیں یا تو امریکی عسکری نظام کا حصہ رہی ہیں یا چینی معاشی منصوبوں کی میزبان بن رہی ہیں، مگر دونوں صورتوں میں عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آتی، نہ روزگار کی غیر یقینی کیفیت ختم ہوتی ہے، نہ تعلیم اور صحت کو مرکزی حیثیت ملتی ہے، بلکہ ریاستی اشرافیہ عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کرکے اپنے اقتدار کو محفوظ بناتی ہے اور عوام کو صبر، قومیت یا مذہب کے نام پر خاموش رہنے کا درس دیتی ہے۔
عالمی اقتصادی پیراڈائم شفٹ کو بھی اگر عوامی نظر سے دیکھا جائے تو یہ کسی نجات دہندہ تبدیلی کے بجائے استحصال کی نئی ترتیب محسوس ہوتی ہے، کیونکہ چاہے ڈالر کی جگہ یوآن آئے یا مغربی بینکوں کی جگہ علاقائی مالیاتی ادارے، اگر معیشت کی روح منافع، منڈی اور کارپوریٹ مفاد ہی رہے تو غربت، بیروزگاری اور عدم مساوات اپنی شکلیں بدل کر قائم رہیں گی اور یہی وہ مقام ہے جہاں چین اور امریکہ کی رقابت اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتی ہے، کیونکہ دونوں نظام اسلحہ سازی، توانائی کی سیاست اور وسائل کی لوٹ مار کے بغیر خود کو برقرار نہیں رکھ سکتے، اسلحہ ساز کمپنیاں اس مثلث کی خاموش مگر طاقتور چوتھی جہت ہیں، جن کے لیے مشرقِ وسطیٰ، یوکرین، افریقہ اور ایشیا محض انسانی آبادی نہیں بلکہ منافع بخش میدان ہیں اور جن کی لابنگ کے بغیر نہ امریکی جنگی پالیسی سمجھی جا سکتی ہے نہ علاقائی تنازعات کی طوالت، جبکہ چین بھی اسی عالمی اسلحہ منڈی کا حصہ بنتا جا رہا ہے، چاہے اس کا بیانیہ دفاعی یا عدم مداخلت کا ہو، کیونکہ جدید سرمایہ داری سسٹم میں جنگ صرف بمباری نہیں بلکہ اسلحے کی پیداوار، ڈیٹا، نگرانی اور سکیورٹی کی صنعتوں کا مجموعہ ہے۔
ٹرمپ جیسے رہنماؤں کو اگر عوامی زاویے سے دیکھا جائے تو وہ یا تو کسی عالمی سازش کے نمائندے ہوسکتے ہیں جیسے اسرائیل کے لیے ان کی ظالمانہ حمایت سے نظر آتاہے یا پھر ممکن ہے کہ اسی نظام کی بے نقاب شکل ہوں، جنہوں نے اخلاقی لفاظی کے بغیر واضح کر دیا کہ عالمی سیاست میں انسانی جانوں کی قیمت نہیں بلکہ قومی مفاد اور کارپوریٹ فائدہ دیکھا جاتا ہے اور اسی بے رحمی نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ مسئلہ صرف امریکہ یا چین نہیں بلکہ وہ پورا سرمایہ دارانہ ڈھانچہ ہے جو جنگ کو ترقی اور غربت کو ناگزیر حقیقت بنا کر پیش کرتا ہے۔
اس پس منظر میں اسلامی دنیا کے عوام ایک دوہری قربانی ہیں، ایک طرف بیرونی طاقتوں کی مداخلت، پابندیاں اور جنگیں اور دوسری طرف اپنی ریاستوں کی کمزوری اور مصلحت پسندی، کرپشن اور اشرافیہ کی عالمی نظام سے وابستگی، جس کے نتیجے میں عوامی مزاحمت کو یا تو شدت پسندی قرار دے کر کچل دیا جاتا ہے یا مذہبی جذبات کی طرف موڑ دیا جاتا ہے، تاکہ اصل سوال روٹی، تعلیم، صحت اور امن پس منظر میں چلا جائے۔
اگر اس مثلث کو آٹھ ارب انسانوں کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ کسی نئے عالمی توازن کی نوید نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے کہ جب تک عالمی سیاست کی بنیاد انسانی ضرورت کے بجائے منافع، اسلحہ اور طاقت پر رہے گی، تب تک چین اور امریکہ کی جگہ کوئی اور طاقت آ جائے، مسلم دنیا کا جغرافیہ بدلے یا نہ بدلے، عوام کی حالت نہیں بدلے گی، کیونکہ اصل لڑائی ریاستوں کے درمیان نہیں بلکہ انسان اور سرمایہ کے درمیان ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جسے نہ امریکی بیانیہ قبول کرتا ہے نہ چینی، مگر جس کے بغیر کوئی بھی عالمی تجزیہ مکمل نہیں ہو سکتا۔

