Trends Ka Jaal Aur Aadha Sach
ٹرینڈز کا جال اور آدھا سچ

چند برس پہلے اصل خبر وہ ہوتی تھی جو اخبار کے پہلے صفحے پر چھپتی تھی۔ پھر وقت نے کروٹ لی، سکرین چھوٹی ہوگئی اور خبر ہیش ٹیگ میں قید ہوگئی۔ اب جو چیز ٹرینڈ میں آجائے وہی سچ مان لی جاتی ہے اور جو ٹرینڈ سے باہر ہو وہ چاہے کتنا ہی اہم ٹاپک کیوں نہ ہو، غیر متعلق سمجھ لیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ٹرینڈز بنتے کیسے ہیں؟ اور کیا واقعی ٹرینڈز سچ کی علامت ہوتے ہیں یا محض مفاد پرست لوگوں کا شور ہوتا ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے ٹرینڈ کا مطلب بس اتنا ہے کہ آج سوشل میڈیا پر سب اسی موضوع پر بات کر رہے ہیں۔ مگر پردے کے پیچھے کہانی اتنی سادہ نہیں ہوتی۔ ٹرینڈ اکثر عوام کی رائے سے کم اور رائے سازی سے زیادہ جڑے ہوتے ہیں۔
کسی موضوع کو بار بار دکھایا جائے، ایک خاص زاویے سے پیش کیا جائے اور مخصوص الفاظ اور تصویریں استعمال کی جائیں تو ذہن خود بخود اسی سمت چل پڑتا ہے جس سمت چلانا مقصود ہو۔ لوگ اکثر کہتے ہیں "اگر یہ جھوٹ ہوتا تو ٹرینڈ کیوں بنتا؟ یہ سوال اپنی جگہ مگر اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر سچ ہوتا تو کیا ہر بار ٹرینڈ بن پاتا؟ سچ عموماً پیچیدہ ہوتا ہے۔ اس کو منوانے میں وقت لگتا ہے کیونکہ سچ وضاحت مانگتا ہے اور پس منظر چاہتا ہے۔ جبکہ ٹرینڈ سادہ ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ فقط ایک لائن، ایک الزام اور ایک تصویر ہوتی ہے۔ اسی لیے ٹرینڈ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے اور سچ اکثر پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایران کے موجودہ حالات کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
جب وہاں احتجاج شروع ہوتے ہیں تو چند گھنٹوں میں مخصوص ہیش ٹیگز دنیا بھر میں ٹاپ ٹرینڈ بن جاتے ہیں۔ ویڈیوز، حکومت کے خلاف نعرے، بعض اوقات پرانی فوٹیج اور کبھی بعض اوقات سیاق و سباق سے ہٹ کر ایڈٹ شدہ تصاویر۔ مغربی میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایک خاص بیانیہ ابھارتے ہیں اور اپنے طور پر کہنے لگتے ہیں کہ ریاست ظالم ہے اور عوام مظلوم ہیں۔ یہ بیانیہ مکمل طور پر غلط بھی نہیں، مگر مکمل سچ بھی معلوم نہیں ہوتا۔ ایران میں احتجاج کی وجوہات، داخلی سیاست، معاشی پابندیاں اور بیرونی دباؤ یہ سب ایک مکمل تفصیل مانگتے ہیں مگر ٹرینڈ تفصیل برداشت نہیں کرتا۔ اسی طرح جب امریکہ میں فسادات ہوتے ہیں۔
پولیس تشدد سامنے آتا ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں پر سوالات اٹھتے ہیں تو ٹرینڈ ضرور بنتے ہیں، مگر ان کا دورانیہ بلکل مختصر ہوتا ہے۔ کچھ دن شور ہوتا ہے اور پھر مکمل خاموشی ہوجاتی ہے۔ کیونکہ وہاں ریاستی بیانیہ زیادہ مضبوط ہے۔ میڈیا زیادہ منظم ہوتا ہے اور ٹرینڈز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں ہونے والے واقعات عالمی ضمیر کو اتنا دیرپا نہیں جھنجھوڑتے جتنا مشرقِ وسطیٰ یا ترقی پذیر ممالک کے واقعات نام نہاد ہیومن رائیٹس تنظیموں کو غمزدہ کرتے ہیں۔ یہ فرق خود بخود پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ خود بنایا جاتا ہے۔ رائے عامہ ایک پلان کے تحت ہموار کیا جاتا ہے کیونکہ لوگوں کی رائے اس معاملے میں منقسم ہے۔
کچھ کہتے ہیں ٹرینڈز نے ہمیں طاقت دی ہے جس سے کمزور کی آواز مضبوط ہوئی ہے۔ عرب سپرنگ کی مثال دی جاتی ہے جہاں سوشل میڈیا نے آمریتوں کو ہلا دیا۔ مگر کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ٹرینڈز اب بغاوت نہیں بلکہ کاروبار بن چکے ہیں۔ جذبات اور غصہ بیچا جاتا ہے اور خوف لوگوں کے دلوں میں بٹھا کر اپنے مفادات حاصل کیے جاتے ہیں۔ ایک صحافی نے کہا تھا "ہم اب خبر نہیں دیکھتے بلکہ ہمیں خبر دکھائی جاتی ہے۔ " یہ جملہ شاید ٹرینڈ کلچر کی سب سے درست تشریح ہے۔ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق ختم نہیں ہوا مگر دھندلا ضرور ہوگیا ہے۔ جھوٹ اب پورا جھوٹ نہیں ہوتا اس میں سچ کا ایک ٹکڑا ضرور شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ قابلِ قبول لگے۔ آدھا سچ، پورے جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور ٹرینڈز عموماً اسی آدھے سچ پر کھڑے کیے جاتے ہیں۔ ایک عام صارف جب ٹرینڈ دیکھتا ہے تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس کے پیچھے کون سا اکاؤنٹ ہے؟ وہ کس ملک سے آپریٹ ہو رہا ہے؟
کس وقت اچانک ہزاروں پوسٹس آئیں؟ اور ایک ہی زبان اور ایک ہی زاویہ کیوں دہرایا جا رہا ہے؟ بلکہ وہ بس یہ دیکھتا ہے کہ "سب یہی کہہ رہے ہیں" اور یہی جملہ سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے معاملے میں ایک اور فرق بھی قابلِ غور ہے۔ ایران پر بننے والے ٹرینڈز اکثر انسانی حقوق کے نام پر ہوتے ہیں جبکہ امریکہ پر بننے والے ٹرینڈز اکثر سیاست تک محدود رہتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کہاں انسانی حقوق زیادہ پامال ہو رہے ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کہاں اور کس ریاست کا بیانیہ زیادہ طاقتور ہے۔ یہاں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ٹرینڈز ہمیشہ ریاستیں نہیں بناتیں۔ بعض اوقات غیر ریاستی عناصر، تھنک ٹینکس، لابیز اور یہاں تک کہ کارپوریٹ مفادات بھی اس کھیل میں شامل ہوتے ہیں۔ جنگ اب صرف بارود سے نہیں لڑی جاتی بلکہ ٹائم لائن سے بھی لڑی جاتی ہے۔ جس نے بیانیہ جیت لیا وہ آدھی جنگ جیت لیتا ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ عوام اس ساری صورتِ حال میں کہاں کھڑے ہیں؟ اکثر لوگ ذہنی طور پر تھکے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہمیں اب کچھ سمجھ نہیں آتا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔ کچھ لوگ ہر ٹرینڈ پر یقین کر لیتے ہیں اور کچھ لوگ ہر ٹرینڈ کو سازش کہہ کر رد کر دیتے ہیں مگر دونوں رویے ہی خطرناک ہیں۔ اندھا یقین بھی اور اندھا انکار بھی۔ اصل ضرورت سوال کرنے کی ہے کہ یہ ویڈیو کب کی ہے؟ یہ تصویر کہاں کی ہے؟ کیا یہ ایڈٹ شدہ یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے تو نہیں بنائی گئی؟ اور یہ ہیش ٹیگ اچانک کیوں اوپر آیا؟ کون فائدے میں ہے اگر میں اس پر یقین کر لوں؟ یہ سوالات ٹرینڈ کو نہیں مارتے مگر ٹرینڈ کے اثر کو ضرور کم کر دیتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ٹرینڈز موجود ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے سچ کو تلاش کرنے کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی ہے۔ ہمیں جو دکھا دیا جائے ہم فوراً مان لیتے ہیں اور جو نہ دکھایا جائے اسے بھول جاتے ہیں۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ٹرینڈ کو خبر نہ سمجھیں بلکہ خبر کا دروازہ سمجھیں۔ دروازے پر رک کر شور سننے کی بجائے اندر جا کر حقیقت دیکھنے کی کوشش کریں۔ ورنہ کل کو تاریخ یہ نہیں پوچھے گی کہ کون سا ہیش ٹیگ نمبر ون تھا۔ تاریخ یہ پوچھے گی کہ جب جھوٹ شور مچا رہا تھا تب تم نے سوچنے کی زحمت کیوں نہیں کی؟ کیونکہ ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں سچائی ٹائم لائنز پر رینگتی ہے اور پروپیگنڈہ وائرل ہو جاتا ہے۔ ڈیجیٹل سکرینوں پر نظر آنے والا ہر ہیش ٹیگ، ہر ٹرینڈ حقیقت نہیں ہوتا بلکہ اکثر یہ ہماری سوچ کو اغوا کرنے کی ایک منظم کوشش ہوتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معلومات کا سیلاب ہمیں علم نہیں بلکہ الجھن دے رہا ہے۔ لہٰذا، کسی بھی ٹرینڈ کا حصہ بننے، اسے سچ ماننے یا اس پر جذباتی ردِعمل دینے سے پہلے خود سے یہ سوال پوچھنا لازم ہے کہ اس شور کے پیچھے اصل وجوہات کیا ہیں؟ کیونکہ جب تک ہم سطحی لہروں پر بہتے رہیں گے حقیقت کی تہہ تک کبھی نہیں پہنچ پائیں گے۔ اب وقت ہے کہ ہم ہجوم کی آواز میں اپنی آواز ملانے کے بجائے ایک لمحے کیلئے ٹھہریں، حالات کا ادراک کریں اور خود سے سنجیدگی سے یہ سوال کریں کہ اس سارے منظرنامے کے پیچھے اور مفادات کے پیچھے آخر بات کیا ہے؟

