Tuesday, 06 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sajid Ali Shmmas
  4. League Of Nations Se Venezuela Tak

League Of Nations Se Venezuela Tak

لیگ آف نیشنز سے وینزویلا تک

یہ تحریر کسی وقتی جذبات کا عکس نہیں بلکہ تاریخ، طاقت اور قانون کے باہمی تصادم پر ایک سنجیدہ غوروفکر ہے۔ دنیا ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں عالمی نظام بکھر رہا ہے اور طاقتور ریاستیں خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگی ہیں۔ ٹرمپ کے دوسری بار اقتدار سنبھالنے کے بعد کی دنیا اگر کسی ایک لفظ میں بیان کی جائے تو وہ غیر یقینی ہے اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یہی غیر یقینی کیفیت بالآخر تباہی کی شکل اختیار کرتی ہے۔

پہلی عالمی جنگ کے بعد انسانیت نے یہ مان لیا تھا کہ اگر طاقت کو کسی اجتماعی اخلاقی و قانونی فریم ورک میں نہ باندھا گیا تو دنیا مسلسل جنگوں کی زد میں رہے گی۔ اسی احساس کے تحت 1919 میں لیگ آف نیشنز وجود میں آئی۔ مگر یہ ادارہ ایک بنیادی کمزوری کے ساتھ معرضِ وجود میں آیا۔ اس کے پاس نہ تو عملدرآمد کی طاقت تھی اور نہ ہی بڑی طاقتوں کو قانون کا پابند بنانے کا کوئی مؤثر طریقہ۔ برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک نے اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کیے، امریکہ نے شمولیت سے ہی انکار کر دیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ عالمی قانون محض کاغذی اصول بن کر رہ گیا۔ یہی وہ خلا تھا جس میں جرمنی میں ہٹلر، اٹلی میں مسولینی اور سوویت یونین میں جوزف سٹالن جیسے آمر ابھرے۔ تاریخ دان ای جے پی ٹیلر کے مطابق "لیگ آف نیشنز کی ناکامی نے جنگ کو نہیں روکا بلکہ اسے ناگزیر بنا دیا"۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد اقوام متحدہ کا قیام اسی خوف کا نتیجہ تھا کہ اگر طاقت کو ایک بار پھر کھلی چھوٹ دے دی گئی تو انسانیت شاید اس بار بچ نہ سکے۔ اقوام متحدہ کا منشور، بین الاقوامی قانون، جنیوا کنونشنز اور بعد ازاں عالمی فوجداری عدالت جیسے ادارے اسی سوچ کی توسیع تھے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ ادارے بھی طاقت کی سیاست کے سامنے کمزور پڑتے گئے۔ سلامتی کونسل کا ویٹو سسٹم انصاف سے زیادہ طاقت کے توازن کی علامت بن گیا۔ وہی ریاستیں جو انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی علمبردار بن کر سامنے آتی ہیں، اپنے مفادات کی خاطر انہی قوانین کو روندنے میں ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں۔

ٹرمپ کا دور اس رویّے کا محض ایک اظہار نہیں بلکہ ایک علامت بن چکا ہے۔ میک امریکا گریٹ اگین کا نعرہ دراصل اسی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے جس میں عالمی ذمہ داریوں کو بوجھ اور عالمی قوانین کو رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ پیرس کلائمیٹ معاہدے سے دستبرداری، ایران نیوکلیئر ڈیل کا یکطرفہ خاتمہ اور بین الاقوامی اداروں کو کھلے عام دھمکیاں دینا، یہ سب اس ذہنیت کے عملی مظاہر ہیں۔ یہ رویّہ محض ایک صدر تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے دنیا بھر میں عوامیت پسند اور قوم پرست سیاست کو تقویت دی۔

سیاسی ماہر فرانسس فوکویاما کے مطابق "جب بڑی جمہوریتیں عالمی نظام سے منہ موڑتی ہیں تو خلا کو انتہا پسند بیانیے پُر کر دیتے ہیں"۔ وینزویلا اس بگڑتے ہوئے عالمی رویّے کی ایک خطرناک مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ لاطینی امریکہ کی تاریخ گواہ ہے کہ بیرونی مداخلت، معاشی پابندیاں اور طاقت کے زور پر حکومتوں کی تبدیلی نے ہمیشہ عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔ چلی میں آلندے کی حکومت کا تختہ الٹنا ہو یا نکاراگوا اور پانامہ میں فوجی کارروائی، ان سب کے نتائج دہائیوں تک خطے نے بھگتے۔

وینزویلا کے معاملے میں بھی جب بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کو نظرانداز کیا گیا ہے تو یہ صرف ایک حکومت یا ایک صدر کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ پورے خطے کے لیے ایک خطرناک مثال بن جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 2(4) واضح طور پر کسی بھی ریاست کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی کو غیر قانونی قرار دیتا ہے، مگر عملی سیاست میں یہ شق اکثر کمزور ریاستوں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ اگر کسی ملک کے صدر کو بین الاقوامی اتفاقِ رائے اور شفاف قانونی عمل کے بغیر حراست میں لینے یا ہٹانے کا تصور معمول بن گیا تو پھر عالمی نظام کا اخلاقی جواز باقی نہیں رہے گا۔

آج وینزویلا کل کوئی اور ملک۔ یہ وہی ڈومینو ایفیکٹ ہے جس نے بیسویں صدی میں دنیا کو جنگوں کی آگ میں جھونکا تھا۔ جنوبی امریکہ پہلے ہی معاشی ناہمواری، سیاسی تقسیم اور سماجی بے چینی کا شکار ہے۔ ایسے میں طاقت کی سیاست پورے خطے کو عدم استحکام کی دلدل میں دھکیل سکتی ہے جس کے اثرات صرف مخصوص حصوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دنیا ایک بار پھر اس مقام پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں قانون کمزور اور طاقت مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ جب عالمی ادارے محض قراردادیں پاس کرنے تک محدود ہو جائیں اور فیصلے بند کمروں میں طاقت کے زور پر ہوں، تو پھر امن ایک خواب بن جاتا ہے۔

تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت وقتی طور پر کامیاب ہو سکتی ہے مگر طویل مدت میں یہی طاقت تباہی کا سبب بنتی ہے۔ اگر عالمی برادری نے اس سوچ کا بروقت مقابلہ نہ کیا تو اقوام متحدہ واقعی ایک غیر ضروری ادارہ بن جائے گی اور دنیا ایک بار پھر اسی راستے پر چل پڑے گی جس کا اختتام ہم پہلے دیکھ چکے ہیں۔

تاریخ خاموش نہیں رہتی، وہ بار بار بولتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس بار سننے والا کوئی ہے؟

Check Also

Deedawar Se Wonder Boy Tak

By Nusrat Javed