Saturday, 31 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sajid Ali Shmmas
  4. Intizar Ki Aziyat Aur Hukumati Khamoshi

Intizar Ki Aziyat Aur Hukumati Khamoshi

انتظار کی اذیت اور حکومتی خاموشی

یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ حکومت نے کسی منصوبے کا اعلان کیا ہو اور پھر اس کی فائلیں دفاتر کی الماریوں میں دب کر رہ گئی ہوں۔ مگر جب معاملہ نوجوانوں کے مستقبل کا ہو تو تاخیر صرف انتظامی کمزوری نہیں رہتی بلکہ یہ ایک اجتماعی ناانصافی بن جاتی ہے۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے سکول ٹیچر انٹرنز (STI) پروگرام بھی کچھ اسی انجام سے دوچار دکھائی دیتا ہے۔

جب اس پروگرام کا اعلان کیا گیا تو ہزاروں پڑھے لکھے نوجوانوں کے دل میں ایک نئی امید نے جنم لیا۔ یہ وہ نوجوان تھے جو سالوں کی محنت کے بعد ڈگریاں لے چکے تھے۔ حکومت کی پالیسی کے مطابق انہوں نے آن لائن اپلائی کیا، انٹرویوز دیے اور میرٹ پر منتخب ہوئے۔ سرکاری بیانات اور غیر رسمی معلومات کے مطابق جوائننگ تقریباً سولہ دسمبر دو ہزار پچیس تک متوقع تھی۔ انٹرویوز بھی سولہ دسمبر سے پہلے مکمل ہو چکے تھے۔ یعنی اب صرف آخری مرحلہ باقی تھا جوائننگ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کا مگر اچانک شکایات کو حل کرنے کے نام پر آرڈرز روک دیے گئے اور آج اکتیس جنوری ہے جبکہ صورتحال یہ ہے کہ منتخب امیدوار آج بھی فون سکرینز پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔

وٹس ایپ گروپس میں افواہیں گردش کر رہی ہیں اور دفاتر کے چکر لگائے جا رہے ہیں۔ کہیں کہا جاتا ہے کہ شکایات حل کی جارہی ہیں۔ کہیں بتایا جاتا ہے کہ منظوری آخری مرحلے میں ہے اور کہیں خاموشی کے سوا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ خاموشی کیوں؟ کیا یہ چند ہزار نوجوانوں کی زندگیوں کا معاملہ اتنا غیر اہم ہے کہ مہینوں تک کوئی واضح جواب دینا ضروری ہی نہ سمجھا جائے؟

یہ نوجوان محض امیدوار نہیں بلکہ یہ اس معاشرے کی امید ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جدید نصاب، نئی تدریسی تکنیک اور بدلتے ہوئے تعلیمی تقاضوں کو سمجھتے ہیں۔ سرکاری سکولوں میں جہاں اساتذہ کی کمی ایک حقیقت ہے وہاں ایسے نوجوانوں کی خدمات نہ لینا خود تعلیمی نظام کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔ مگر افسوس کہ فائلوں کی گردش، پالیسی کی سستی اور روایتی تاخیر نے ایک اچھے پروگرام کو ذہنی اذیت کا استعارہ بنا دیا ہے۔

آج کے دور میں بے روزگاری صرف معاشی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ نفسیاتی اور سماجی بحران بھی بن چکی ہے۔ ایک نوجوان جب منتخب ہو جائے، گھر والوں کو خوشخبری دے، مستقبل کے منصوبے بنائے اور پھر مہینوں تک انتظار کی اذیت میں مبتلا رہے تو اس کے حوصلے، اعتماد اور ریاست پر یقین سب کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ والدین سوال کرتے ہیں، دوست طعنے نہیں تو مشورے ضرور دیتے ہیں اور امیدوار خود کشمکش میں مبتلا رہتا ہے کہ آیا وہ کسی اور راستے کا انتخاب کرے یا اسی امید پر بیٹھا رہے۔ یہاں حکومت کی پالیسی کا ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ اگر پالیسی کے تحت امیدواروں کو منتخب کر لیا گیا ہے، انٹرویوز مکمل ہو چکے ہیں اور میرٹ لسٹیں تیار ہیں تو پھر اس پالیسی کے مطابق ان امیدواروں کے لیے آسانی پیدا کرنا حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔

پالیسی کا مقصد سہولت اور شفافیت ہونا چاہیے نہ کہ پیچیدگی اور غیر یقینی صورتحال بننی چاہئے۔ منتخب امیدواروں کو مہینوں تک انتظار میں رکھنا نہ صرف پالیسی کی روح کے خلاف ہے بلکہ انتظامی نااہلی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر حکومت بڑے دعووں کے ساتھ نوجوانوں کو روزگار دینے کے وعدے کرتی ہے۔ پریس کانفرنسوں میں نوجوانوں کو قوم کا سرمایہ کہا جاتا ہے اور تقریروں میں انہیں مستقبل کا معمار قرار دیا جاتا ہے مگر عملی سطح پر جب ان ہی نوجوانوں کو ایک نوٹیفکیشن کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑے تو یہ تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں۔

وزیرِ تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات صاحب اور متعلقہ حکام سے یہ سوال بنتا ہے کہ آخر اس تاخیر کی وجہ کیا ہے؟ اگر کوئی انتظامی مسئلہ ہے تو اسے کھل کر بتایا جائے۔ اگر بجٹ یا پالیسی میں کوئی رکاوٹ ہے تو شفاف انداز میں آگاہ کیا جائے۔ خاموشی کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ بے چینی اور بداعتمادی کو جنم دیتی ہے۔ یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ نوجوان اس وقت جس عمر اور مرحلے پر ہیں وہاں وقت کی قدر سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ہر گزرتا دن ان کے کیریئر میں خلا پیدا کرتا ہے۔ کچھ لوگ پرائیویٹ نوکریاں چھوڑ کر اس امید پر بیٹھے ہیں کہ سرکاری نظام کا حصہ بنیں گے۔ کچھ نوجوانوں نے مزید تعلیم یا کسی اور امتحان کو اس وجہ سے مؤخر کیا کہ STI کی جوائننگ قریب ہے۔ اب یہ "قریب" مہینوں میں بدل چکا ہے۔

حکومت اگر واقعی نوجوانوں کو سنجیدگی سے لیتی ہے تو اسے اپنی پالیسی کے تحت منتخب ہونے والے امیدواروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی ہوں گی۔ آسانی کا مطلب صرف زبانی وعدے نہیں، بلکہ واضح ٹائم لائن، تحریری نوٹیفکیشن اور ذمہ دار افسران کی جانب سے باقاعدہ آگاہی ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں بلکہ ایک مہذب اور ذمہ دار ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ یہ کالم کسی سیاسی مخالفت یا پوائنٹ سکورنگ کے لیے نہیں لکھا جا رہا۔ یہ ان ہزاروں نوجوانوں کی آواز ہے جو اس وقت خاموشی سے انتظار کر رہے ہیں جن میں سے ایک بندہ ناچیز یہ بھی ہے۔ ریاست اگر اپنے ہی منتخب نوجوانوں کو غیر یقینی میں رکھے گی تو پھر وہ نوجوان کس پر اعتماد کریں گے؟

حکومتِ پنجاب اور خصوصاً وزیرِ تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات صاحب سے پُرزور اپیل ہے کہ وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھیں۔ سکول ٹیچر انٹرنز کے منتخب امیدواران کے لیے فوری طور پر باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، جوائننگ کی واضح تاریخ دی جائے اور پالیسی کے تحت ان کے لیے آسان اور شفاف راستہ بنایا جائے۔ یہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ یہ نوجوانوں کے مستقبل، ان کے اعتماد اور ریاست کی ساکھ کا معاملہ ہے۔ اگر آج ان کی آواز نہ سنی گئی تو کل یہی خاموشی ایک بڑے سوال میں بدل سکتی ہے اور وہ سوال ریاست کے نظام پر ہوگا نہ کہ صرف ایک نوکری کے نوٹیفکیشن پر جس کا دورانیہ صرف 6 مہینے ہے۔

Check Also

Iss Sadi Ka Azeem Fitna

By Saleem Zaman