Hawai Firing Aur Awam
ہوائی فائرنگ اور عوام

پہلے زمانے میں یعنی آج سے تقریباً 20 سال پہلے جب عید کی آمد ہوتی تھی اور چاند رات کی آمد ہوتی تھی، تو عوام میں یہ جوش و خروش ضرور ملتا تھا کہ وہ خوشی کی وجہ سے ہوائی فائرنگ کرتے تھے۔ سب کی یہی خواہش ہوتی تھی کہ ہوائی فائرنگ کرے اور اس سے اپنے چاند رات کی خوشی کو دوبالا کرے۔ ہر گاؤں میں ہر گلی میں لوگ اپنے اپنے خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے۔ کل ایک پوسٹ دیکھ رہا تھا پولیس والوں کی جانب سے کہ ہوائی فائرنگ سے گریز کیا جائے تاکہ کوئی جانی و مالی نقصان نہ ہوں۔ بلکل درست کہہ رہے ہیں۔
ہوائی فائرنگ سے کسی کی جان جاسکتی ہے۔ کسی کی زندگی ختم ہوسکتی ہے۔ کسی کی عید کی خوشیاں غم میں بدل سکتی ہے۔ تو یہ اچھی بات ہے، کہ چاند رات پر ہوائی فائرنگ سے گریز کیا جائے۔ لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ آج کل وہ زمانہ ہی نہیں رہا کہ کوئی چاند رات پر ہوائی فائرنگ کریں اور اس کی کئی وجوہات ہیں۔ میں نے پچھلے کچھ برسوں سے یہ بات نوٹ کی ہے کہ ہوائی فائرنگ نہیں ہو رہی۔ پہلے وقتوں میں ہوائی فائرنگ ہوا کرتی تھی لیکن عوام خوش تھے۔
ہوائی فائرنگ خوشی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ لیکن عوام میں پچھلے کچھ برسوں سے بے چینی ہے۔ کسی کو سکون نہیں ہے۔ کسی میں دم نہیں ہے۔ ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں۔ اس کے حکمرانوں نے عوام سے ان کی خوشیاں چھین لی ہیں۔ زندگی میں سب سے بڑی خوشی عید کی ہوتی ہے۔ یعنی پوری دنیا کی مسلمانوں کیلئے عید ایک خوشی کی دن ہوتی ہے۔ لیکن اتنے بڑے موقع پر ہمارے ملک پاکستان کے عوام میں خوشی نظر نہیں ارہی اور اس کی سب سے بڑی وجوہات یہ ہیں کہ ملک میں بے روزگاری ہے، بد امنی ہے، مہنگائی ہے۔ بے سکونی ہے۔ ملک کے حالات ٹھیک نہیں ہے۔ میں خصوصاً خیبرپختونخوا کی بات کرو کہ یہاں حد سے زیادہ بد امنی ہے۔ عوام پریشان ہے۔
پاکستان کے ظالم حکمرانوں نے عوام سے ان کی عید کی خوشیاں بھی چھین لی ہے۔ تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عوام کبھی بھی ہوائی فائرنگ نہیں کریں گے۔ ہوائی فائرنگ خوشی کی وجہ سے کی جاتی ہے اور پاکستان کے عوام خصوصاً خیبرپختونخوا کے عوام خوش نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام پرامن لوگ ہیں۔ ہر وقت امن چاہتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام صوبے میں امن کو ترستے ہیں۔ یہ بات بلکل درست ہے کہ ہوائی فائرنگ سے اجتناب کرنا چاہیئے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی ہوائی فائرنگ نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یا اللہ ہمارے ملک کو امن کا گہوارہ بنادے۔