Thursday, 30 June 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Rehan Asghar Syed/
  4. Aik Mulazmat Pesha Admi Ki Diary Ka Aik Warq

Aik Mulazmat Pesha Admi Ki Diary Ka Aik Warq

وزیراعظم ہاؤس کو دیکھتا ہوں تو مسافر خانہ یاد آتا ہے صرف میری ڈاکٹرائن میں یہ "پناہ گاہ" پانچویں مہمان کی میزبانی سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ ابھی کل کی ہی بات لگتی ہے کہ اخیر المؤمنین یہاں جلوہ افروز ہوا کرتے تھے۔ ہر وقت ایک میلے کا سا سماں رہتا تھا۔ یوں لگتا تھا وزیراعظم ہاؤس میں کوئی ثقافتی طائفہ خیمہ زن ہے۔ جب دن ڈھلے خلیفہ تشریف لاتے تو منحوس شکلوں والے خوش آمدی وزیر اور موزوں جسامت خواتین مشیر انہیں گھیرے میں لے لیتیں۔

پھر کئی گھنٹے تک خلیفہ کی شان میں قصیدے، سہرے اور منقبتیں پڑھی جاتیں۔ خلیفہ ایک شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ لطف اندوز ہوتے رہتے۔ میرے سابقہ باس چند دیگر ناگفتہ علتوں کے علاوہ درفطنیاں چھوڑنے کی لت میں بھی مبتلا تھے۔ غالباََ انہیں لگتا تھا(ہے) کہ جب تک وہ دنیا کے ہر معاملے میں اپنی ماہرانہ رائے کا اظہار نہیں فرمائیں گے تو شاید سورج غروب نہیں ہو گا۔

ویسے تو ان کی شخصیت اس کجی کے باوجود دل فریب ہے لیکن مضحکہ خیز صورتحال تب پیدا ہوتی تھی جب وہ ایسی بات کو بڑھا چڑھا کے بیان کرتے جس کے بارے میں خاکسار ذاتی معلومات رکھتا ہو۔ ایسا ہی کثیفہ تب پیش آیا جب انہوں نے خادم کو اپنے آفس طلب کیا اور چند ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میری طرف جھک کر رازداری بھرے انداز میں پوچھا کہ "میں امام مہدی کے بارے میں کیا جانتا ہوں "؟

سر مجھے صرف کالی مہندی کا پتہ ہے جو ہمارے "بوڑھے جوان" بال کالے کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں؟

میں نے سادگی سے بتایا۔ خلیفہ کی سپید انگلیوں میں گردش کرتی سیاہ موتیوں کی تسبیح کی رفتار کچھ بڑھ گئی۔ ان کے چہرے پر ان کی مخصوص جنجھلاہٹ والے تاثرات ابھرے۔

گہری سانس لے کر بولے۔

میں امام مہدی کا پوچھ رہا ہوں۔ مجھے کچھ لوگوں نے بتایا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں میں ہی امام مہدی ہوں؟

خلیفہ نے بچوں جیسے اشتیاق سے مجھے دیکھا۔ وہ گویا مجھ سے تصدیق چاہتے تھے۔

میں شدید تذبذب میں مبتلا ہو گیا کیوں کہ عالی جاہ کے اردگرد ایسے درباریوں کی کثرت تھی جو ہر وقت ان کے کانوں میں "یبلیاں " انڈیلتے رہتے تھے اور آقا فوراََ صدق دل سے ناصرف اس بکواس پر ایمان لے آتے بلکہ فوراََ اس کی تبلیغ بھی شروع کر دیتے تھے۔ یوں رفتہ رفتہ ایک بونگی آقا کے پجاریوں کے نزدیک ایک آیت اور عالمگیر سچائی کا درجہ پا لیتی۔

رعایا آپ سے محبت کرتے ہیں۔ جو زیادہ محبت کرتے ہیں وہ شاید کچھ غلو سے کام لیتے ہیں۔ اس لیے آپ کو یہ وہم ہوا ہو گا۔

نہیں وہم اور غلطی ایک دو لوگوں کو ہو سکتی ہے مجھ سے یہ بات درجنوں لوگ کر چکے ہیں۔

خلیفہ نے اصرار کیا۔ ان کا چہرہ دبے دبے جوش سے سرخ ہو رہا تھا۔

ٹھیک ہے ہم اس معاملے کی تحقیق کے لیے ایم آئی اور آئی ایس آئی کی ایک کمیٹی بنا دیتے ہیں جو خفیہ تحقیقات کر کے بتائے گی کہ کیا آپ امام مہدی ہیں یا نہیں؟ اس کار خیر کے لیے ہم ابوالحسن شازلی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ماہرین کو بھی اس کمیٹی میں شامل کر دیں گے۔ کیا خیال ہے؟ میں نے جان چھڑانے کے لیے کہا۔ خلیفہ کو یہ تجویز بہت پسند آئی انہوں نے مفتی قوی، چوہدری مٹکو اور بابر اعوان کو بھی اس تحقیقات میں شامل کرنے کا حکم صادر فرمایا کیوں کہ ان کے خیال میں وطن عزیر میں یہ تین اشخاص ہی دین کا صحیح شعور اور فہم رکھتے ہیں۔

اپنے آفس واپس آ کر میں نے ٹوپی میز پر پٹخی اور فون اٹھا کر صرف اتنا کہا کہ میں آئیندہ اس دجال کی شکل وزیراعظم ہاؤس میں نہیں دیکھنا چاہتا۔

Check Also

Quaid e Ba Mushaqat

By Sajid Shad