Fanoon e Latifa Kya Hai
فنون لطیفہ کیا ہے

انسان صرف جسم کا نام نہیں، یہ اپنا ایک اخلاقی وجود بھی دکھتا ہے۔ اس کے احساسات ہیں۔ ان احساسات میں ایک تنوع ہے۔ یہ کبھی ہستا ہے، کبھی روتا ہے، کبھی جوش میں آتا ہے اور کبھی ہوش کا دامن پکڑتا ہے، کبھی ذہنی دباؤ تلے آ کر زندگی کی رنگینیوں سے منہ موڑ لیتا ہے، کبھی اس کے دل پہ گہری چوٹ پڑتی ہے۔ یہ اس کے مختلف احساسات ہیں۔ یہ احساسات جب فنونِ لطیفہ کے قالب میں ڈھلتے ہیں تو انسانی شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے، اس کے بطون کا جوہر نمودار ہوتا ہے۔
بالفاظِ دیگر انسان میں جب کسی احساس کی شدت پیدا ہو جائے، پھر وہ اسے جمالیات کے لبادے میں ملفوف کرکے، یعنی اسے ایک حسین پیرایہ عطا کرکے پیش کرے، تو یہ لطیف فن کہلائے گا۔ مثلاً انسان اپنی مسرت، اپنے غم یا اپنے فکری بوجھ کو اگر مصوری، شاعری، مجسمہ سازی، رقص، موسیقی یا ناول وغیرہ کی صورت میں پیش کرے، تو یہ فنون لطیفہ میں سے ہوگا۔ یوں اس کا احساس، جمالیات کا لباس پہن کر ایک شاہکار صورت اختیار کر جائے گا۔ پھر عام لوگ اس سے تسکین پاتے ہیں، حظ اٹھاتے ہیں۔
انسان صرف روٹی، کپڑا اور مکان کا محتاج نہیں، وہ حسن کا بھی طلبگار ہے۔ حسن کی یہی طلب فنونِ لطیفہ کو جنم دیتی ہے۔ فنونِ لطیفہ دراصل انسان کے باطن کی وہ آوازیں ہیں جو رنگوں، لفظوں، آوازوں، مختلف حرکات اور شکلوں کے ذریعے اظہار پاتی ہیں۔ ایک مصور کینوس پر رنگ بکھیر کر اپنے اندر کی کیفیت بیان کرتا ہے، شاعر لفظوں میں محبوب کے ہجر و وصال کے لمحات سمو دیتا ہے، موسیقار ساز کی تان سے دلوں کو چھو لیتا ہے اور معمار بے جان اینٹوں اور پتھروں میں جمال پیدا کر ان میں جان ڈال دیتا ہے۔ ایک رقاصہ اپنے جسم کی حرکات میں تنظیم اور ترتیب کچھ اس انداز سے پیدا کرتی ہے کہ ان حرکات میں حسن چھلک چھلک اٹھتا ہے۔ گانے "مے سے مینا سے نہ ساقی سے" گووندا کے رقص کی یہی ادائیں اپنے اندر اتنا حسن رکھتی ہیں کہ صاحبِ دل ان اداؤں میں کھو جاتا ہے۔ من کرتا ہے کہ اس ڈانس کو بار بار دیکھا جائے۔
انسان فطرتاً حسن پسند ہے۔ یہ فنون لطیفہ تخیل سے نکلے حسن کے خوشنما مظاہر ہیں۔ جیسے ایک خوبصورت انسان پہ نظریں ٹھہر جاتی ہیں، ایسے ہی کوئی خوبصورت فن پارہ انسان کا من موہ لیتا ہے۔ انسان کے دل و دماغ کی نظریں اس پہ جم جاتی ہیں۔ ایک دلکش موسیقی، ایک خوبصورت شاعری، ایک پیارا سا مجسمہ، جو من موہ لے، کسی نعت یا گانے کے پیارے سے، میٹھے سے بول، کوئی اچھوتا خیال لیے یا زندگی کا کوئی عجب موڑ لیے ایک معنی خیز ناول یا کہانی، ایک اچھا ڈراما یا فلم انسانی: انسانی احساسات کے دلکش اظہار ہی تو ہیں۔ یہی فنون لطیفہ ہیں۔

