Monday, 19 August 2019
Home / Munir Ahmad Baloch / Wazir Azam Ke Khadshaat

Wazir Azam Ke Khadshaat

بھارت کے تخت پر براجمان راشٹریہ سیوک سنگھ کے مسلم دشمن انتہاپسندوں نے پانچ اگست کو آئین کے آرٹیکل 370 اور35A کی خون آشام تلوار صرف کشمیرپر ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے سینوں میں اس طرح اتار ی ہے کہ دلِ مسلم تڑپ کر رہ گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ بھارت کسی بھی وقت پلوامہ، نئی دہلی پارلیمنٹ یا ممبئی حملوں کی طرز کی دہشت گردی جیسا کوئی ڈرامہ رچا سکتا ہے۔ وزیر اعظم کے اس خطاب پر بھارت اور پاکستان کے کچھ مبصرین نے ان کا مذاق اڑانے کی کوشش کی لیکن وزیر اعظم عمران خان نے پلوامہ کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا ہے، اپنی کتاب '' 26/11 ممبئی حملے" میں بڑی تفصیل سے بھارت کے ان ڈراموں کا پوسٹ مارٹم کر چکا ہوں، لیکن اگر کچھ ناقدین کو ملک کے حساس اداروں پر بے بنیاد الزام لگانے کا جنون ہو تو پھر بھارت کے ڈراموں کے سکرپٹ ان کے لکھاریوں کی زبان سے حاضر خدمت ہیں۔  

35 برس قبل بھارتی فوج اور ان کی سکیورٹی فورسز نے خالصتان تحریک کو کس طرح ختم کیا، انہیں اپنے ہی سکھ عوام اور دنیا کی نظروں میں بد نام کرنے کے لیے دہشت گردی کے کون کون سے ہتھکنڈے استعمال کئے، ان کے متعلق اگر بھارت کی وزارت داخلہ اور میڈیا کو یاد نہیں رہ گیا تو انہیں یاد کرائے دیتے ہیں کہ اندر گاندھی کی جانب سے مقرر کئے جانے والے سفاک ترین گورنر پنجاب کے پی ایس گل نے خود تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے جیلوں سے اور انڈر گرائونڈ مافیا سے بد نام ترین جرائم پیشہ افراد کو اپنے ساتھ ملا کر انہیں خالصتان کی آزادی کے لیے کام کرنے والی مختلف سکھ تنظیموں میں شامل کرا دیا تھا اور کچھ نئی تنظیمیں اپنی طرف سے قائم کر دین جن میں Black Cats نام کی ایک تنظیم پنجاب میں ایس ایس پی اظہار عالم کی سربراہی میں قائم کی گئی۔ ایس ایس پی اظہار عالم کو اس کی جنونیت اور بر بریت کی وجہ سے '' عالم سینا" کے نام سے پکارا جاتا تھا اس کے علا وہCIB کے فنڈز اور مدد سےPanthic Tiger Force اورRAW کی زیر نگرانی مشہور زمانہ Red Brigadeکے ذریعے سکھوں کی خالصتان کے نام سے آزادی کی تحریک کو اپنے ہی عوام کی نظروں میں بد نام کر نے کے لیے سکھوں اور ان کی گھریلو خواتین کے ساتھ ظلم اور زیا دتی کے بازار گرم کرائے گئے اور شریف شہریوں اور کاروباری لوگوں سے لوٹ مار اور بھتہ خوری کی انتہا کر دی۔ یہ حقائق گزشتہ پانچ دس سالوں سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ریٹائر ہونے والے لوگ اور پنجاب کے ہلاکو خان کے نام سے مشہور گورنر کے پی ایس گل نجی محفلوں اور اخبارات اور رسائل کو انٹر ویو دیتے ہوئے بڑے فخر سے بیان کرتے رہے ہیں۔  

بھارت کی فوج اور اس کی ایجنسیاں کشمیریوں اور سکھوں کی جدو جہد آزادی کو جیلوں سے نکالے ہوئے مجرموں اور انڈر ورلڈ تنظیموں کے ذریعے بدنام کرتی رہی ہیں۔ انہیں اپنے ہی عوام اور ہمدردوں کی نظروں سے گرانے کے لیے معصوم شہریوں کا قتل عام اور گھروں میں بیٹھی خواتین، سکولوں کالجوں، دفتروں اور یونیورسٹیوں کی طالبات کے اغوا اور جبری آبرو ریزی کی گھنائونی اور شرمناک کارروائیاں کروانا بھارتی ایجنسیوں کا عام معمول تھا۔ اگر کسی کو یاد نہیں تو ان سے درخواست ہے کہ وہ بھارت کے مشہور انگریزی جریدےINDIA TODAY کا15 ستمبر1988ء کا شمارہ ملاحظہ کریں، جس میں سکھوں کی تحریک کچلنے والے پنجاب کے گورنر کے نام سے سولین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے پی ایس گل نے اپنی کارروائیوں کے لیے '' بلیک کیٹ" کو استعمال کرنے کا بڑے فخریہ انداز میں یہ کہتے ہوئے اعتراف کیا :

I admit without shame that security forces in Punjab cannot do anything without the help of secret bands like black cats.

27 جولائی 2015 ء کی صبح پانچ بجے دینا نگرپولیس سٹیشن پر حملہ ہوتے ہی بھارت کا تمام الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پاکستان کے خلاف بہتان اگلنا شروع ہو گیا۔ اس وقت بھی میں نے اپنے کالم'' گورداسپور " میں لکھا تھا کہ بھارت کے اٹھائے گئے اس طوفان کی گرد بیٹھنے دیں، بہت جلد دینا ناتھ پولیس سٹیشن کا سچ سامنے آ جائے گا، کیونکہ یہ کارنامہ خالصتان کی دوبارہ ابھرنے والی تحریک کو کچلنے کے لیے کسی نئی'' عالم سینا" بلیک کیٹ "اور ریڈ بریگیڈ کے ذریعے کیا گیا ہو گا۔ اجیت ڈیول کا دینا ناتھ ناٹک صرف اس لئے رچایا گیا تھا کیونکہ دو دن بعد پاکستان بھارت کے خلاف اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی Sanctions Committee میں قرار دار پیش کرنے جا رہا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ اس اہم موقع پر بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے دینا نگر میں اپنی ہی پولیس اور شہریوں کے خون سے ہولی کھیلی، اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اس سے پہلے کہ پاکستان سلامتی کونسل میں بھارت کا سفاک چہرہ نمایاں کرے، دہشت گردی کی سازش میں پاکستان کو لپیٹ دیا جائے۔  

وزیر اعظم عمران خان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں پلوامہ جیسے کسی واقعے کے خدشات بے جا نہیں، ان کے مخالفین اور ناقدین کو بھارت کا خونخوار چہرہ دکھانا اپنا فرض سمجھتے ہوئے ان سے درخواست ہے کہ وہ دینا نگر حملے کے دو دن بعد 27 جولائی2015ء کی شام بھارت کے سٹیٹ منسٹر جتیندر سنگھ اور پنجاب کی تین سکیورٹی فورسز کے آئی جی صاحبان کی میڈیا سے کی گئی گفتگو کا ریکارڈ ملاحظہ کر لیں۔ جتیندر سنگھ کہہ رہا تھا کہ ہمیں تو اس واقعے سے چند دن پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی کہ کچھ'' دہشت گرد" بھارت میں داخل ہو نے والے ہیں، جبکہ سٹیٹ منسٹر جتیندر سنگھ کے اس الزام پربھارتی پنجاب کی بارڈر سکیورٹی فورس کے انسپکٹر جنرل انیل پانیوال نے میڈیا کو بتایاکہ ان کے پاس ''دہشت گردوں" کی پاکستان سے بھارتی پنجاب میں داخل ہونے کی کوئی اطلاع نہیں اور جب یہی سوال انسپکٹر جنرل پنجاب BORDER ZONE ایشور چندر سے کیا گیا تو انہوں نے کہا : انہیں حکومت کی کسی بھی ایجنسی یا وزارت داخلہ کی جانب سے اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی اطلاع نہیں ...اور پھر چند گھنٹوں بعد انسپکٹر جنرل کاونٹر ٹیررازم گردیو یادیو نے پنجاب حکومت کے وزیر جتیندر سنگھ کے بیان کی مکمل نفی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس'' دہشت گردوں" کی آمد یا کسی قسم کے حملے کی سرے سے کوئی اطلاع نہیں۔ دینا ناتھ پولیس سٹیشن اور بس سٹاپ پر حملے کا ڈراپ سین دیکھئے کہ وقوعے کے بعد ''سکیورٹی فورسز اور بھارتی فوج کے مشترکہ آپریشن" کے دوران گورداسپور پولیس کے ایس پی بلجیت سنگھ نا معلوم حملہ آوروںکے ہاتھوں ہلاک کر دیئے جاتے ہیں، جب تحقیق شروع ہوئی تو ان کی گھریلو خواتین نے بتایا کہ گو رنر پی ایس گل کی خصوصی فورس میں شامل بلجیت سنگھ کے باپ کی خالصتانیوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد گورنر ایس پی گل نے اس کے بیٹے بلجیت سنگھ کو انسپکٹر بھرتی کرا دیا اور کئی دنوں سے بھائی بلجیت پریشان پھر رہا تھا، وہ گردواروں اور اپنے ہاتھوں قتل کئے گئے سکھ نو جوانوں کے گھروں میں جا کر ان سے معافیاں مانگ رہا تھا۔ ایس پی بلجیت سنگھ دینا ناتھ پولیس سٹیشن حملے میں پولیس اہلکاروں کے قتل پر سخت غصے میں کہنا شروع ہو گیا کہ وہ جلد ہی دینا ناتھ سمیت ان کے سارے بھید کھول دے گا۔

بھارت کی فوج اور ایجنسیاں کشمیریوں اور سکھوں کی جدوجہد آزادی کو جیلوں سے نکالے ہوئے مجرموں اور انڈر ورلڈ تنظیموں کے ذریعے بدنام کرتی رہیں۔ انہیں اپنے ہی عوام اور ہمدردوں کی نظروں سے گرانے کیلئے معصوم شہریوں کا قتل عام، اغوا اور آبرو ریزی کی گھنائونی اور شرمناک کارروائیاں بھارتی ایجنسیوں کا عام معمول تھا۔