Thursday, 20 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mojahid Mirza
  4. Misogynist Aur Ahkam e Elahi

Misogynist Aur Ahkam e Elahi

میسوجنسٹ اور احکام الٰہی

فیمینسٹ اور میسوجنسٹ ہونے کی اصطلاحیں زیادہ پرانی نہیں ہیں۔ مگر مسلمان آبادی کی اکثریت والے ملکوں میں خواتین کا ایک چھوٹا سا حلقہ اان دونوں اصطلاحوں کے معانی و مفہوم کو یکسر اسی طرح لینے لگا ہے جیسا کہ مغرب کے ان ملکوں میں جہاں یہ اصطلاحیں وضع ہوئیں اوران کے تحت تحریکوں کو ہوا دی گئی، جو ابھریں، پنپیں، کچھ مقاصد حاصل کیے اور معدوم ہوگئیں۔ امریکہ، برطانیہ فرانس کو ہندوستان، پاکستان اور ایران سے مماثل نہیں کیا جا سکتا۔ نہ ہی یہاں اوروہاں کی تہذیبوں اورثقافتوں کو ایک سا سمجھا جا سکتا ہے جو ہیں ہی نہیں۔

اس فورم پرزیادہ بحث میاں بیوی کےحوالے سے ہی ہوتی ہے کیونکہ ہمارے ہاں عورت مرد میں دوستی کا تصور بالکل اورطرح کا ہے۔ تو جناب کوئی بھی معقول شوہر کسی بھی بدزبان اہلیہ کو یونہی ڈانٹنے پیٹنے نہیں لگ جاتا۔ اس کی بدزبانی اور کج بحثی پر پہلے وہ کہتا ہے چپ ہو جاؤ ثمینہ۔ جب بار بار کہنے پر وہ چپ نہیں ہوتی تو کہتا ہے خدا کا واسطہ چپ ہو جاؤ ثمنیہ، پھر کچھ بلند آواز میں میں کہتا ہے مہربانی کرو ثمینہ چپ ہو جاؤ، وہ اپنی توتکار جاری رکھے رہتی ہے تو چیخ کر کہتا ہے بس اب چپ کر جاؤ۔۔ جب پھر بھی چپ نہ ہو تو زبانی یدھ شروع ہوتا ہے اور اگر کوئی مرد قوام بننے کا اہل نہ ہو تو ایک آدھ چھوڑ بھی دیتا ہے۔ اس پر جو کوئی ثمینہ سمجھدار ہو تو چپ ہو کے یا بڑبڑاتے ہوئے رونے لگ جاتی ہے اور اگر کوئی ثمینہ ہو ہی ٹیڑھی تو خم ٹھونک کر سامنے آ جاتی ہے اور صلواتیں سنانے لگ جاتی ہے کہ اب میں کتے کی تو کچھ عزت کر سکتی ہوں مگر تمہاری نہیں اور مسلسل طلاق کا تقاضا کرنے پر کمر باندھ لیتی ہے۔

یہ دیکھا گیا ہے کہ جس قدر مصلحت یا بزدلی سے ایسی بیویوں کے شوہرکام لیتے ہیں اس قدر ایسی بیویوں میں نہ مصلحت کوشی کا یارا ہوتا ہے اور نہ ہی حوصلہ ہار دینے کا۔ اس توتکار، جوتم پیزار کا سب سے برا اثر اگر پڑتا ہے تو تیسرے فریق یعنی بچوں پر۔ اس قسم کی قبیح صورت حالات سب سے زیادہ درمیانے طبقے کے کنبوں یا جوڑوں کے درمیان دیکھنے میں آتی ہے جہاں طلاق اس لیے دینے سے گریز کیا جاتا ہے کہ بچے برباد ہو جائیں گے جبکہ بچے ایسے حالات سے پہلے ہی برباد ہو رہے ہوتے ہیں۔

ہم مسلمان ہوتے ہوئے قرآن میں کہے کے پابند ہیں۔ قرآن میں یا تو محکمات ہیں یعنی واضح بیانات و احکامات یا متشابہات ہیں جن سے نتیجہ اخذ کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات اخذ کیے جانا مشکل ہوتا ہے تو اسے ویسے ہی مان لینا ہوتا ہے جیسا کہ سمجھ آئے۔ ذیل میں قرآن کے محکمات میں سے قرآن کی تیسری سورت سورہ النساء کی چند آیتیں ہیں۔ جن کا اردو ترجمہ اور تفسیر مولانا ابوالاعلٰی مودودی صاحب کی تفہیم القرآن سے لیا گیا ہے:

الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللہ بعضہم علیٰ بعض و بما انفقو من اموالہم * فالصٰلحٰت قٰنتٰت حٰفظٰت للغیب بما حفظ اللہ * والٰتی تخافون نشوزھن فعظوھن واھجروھن فی المضاجع واضربوھن فان اطعنٰکم فلا تبغوا علیھن سبیلا۔ ان اللہ کان علیا" کبیرا *

ترجمہ: مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پرفضیلت دی ہے، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں ‌کے پیچھے اللہ کی نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔ اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو، انہیں سمجھاؤ، خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہو اورمارو پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے بہانے تلاش نہ کرو۔ یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالا تر ہے۔

تفسیر: قوام یا قیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی فرد یا ادارے یا نظام کے معاملات کو درست حالت میں چلانے اور اس کی حفاظت و نگہبانی کرنے اور اس کی ضروریات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہو۔

یہاں فضیلت بمعنی شرف اور کرامت اور عزت نہیں ہے جیسا کہ ایک عام اردو خوان اس لفظ کا مطلب لے گا بلکہ یہاں یہ لفظ اس معنی میں ہے کہ ان میں سے ایک صنف یعنی مرد کو اللہ نے طبعاٰ" بعض ایسی خصوصیات اور قوتیں عطا کی ہیں جو دوسری صنف یعنی عورت کو نہیں دیں یا کم دی ہیں۔ اس بنا پر خاندان میں مرد ہی قوام ہونے کی اہلیت رکھتا ہے اور عورت فطرتا" ایسی بنائی گئی ہے کہ اسے خاندان میں مرد کی حفاظت اور خبرگیری کے تحت رہنا چاہیے۔

یہ مطلب نہیں کہ تینوں کام بیک وقت کر ڈالے جائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ نشوز کی حالت میں ان تینوں تدبیروں کی اجازت ہے۔ اب رہا ان پر عمل درآمد، تو بہر حال اس میں قصور اور سزا کے درمیان تناسب ہونا چاہیے، اور جہاں ہلکی تدبیر سے اصلاح ہو سکتی ہو وہاں سخت تدبیر سے کام نہیں لینا چاہیے۔ نبی صلہ اللہ علیہ وسلم نے جب کبھی بیویوں کو مارنے کی اجازت دی ہے با دل ناخواستہ دی ہے اور پھر بھی اسے ناپسند ہی فرمایا ہے۔ تاہم بعض عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو پٹے بغیر درست نہیں ہوتیں۔ ایسی حالت میں نبی ﷺ نے ہدایت فرمائی ہے کہ منہ پر نہ مارا جائے۔ بے رحمی سے نہ مارا جائے اورایسی چیز سے نہ مارا جائےجو جسم پر نشان چھوڑ جائے۔

چنانچہ ایسی بیویوں کے ضمن میں جو سرکش، بدزبان، کج بحث، طالب زر و آسائش وغیرہ غیرہ ہوں یا تو ان کے معاملے میں ہم مغربی ماہرین عمرانیات و نفسیات و سماجیات کی کہی باتیں مانیں یا سب پہ قادر جلیل ترین ہستی اللہ کا کہا مانیں۔ مجھے بطور مسلمان کے اس نوع کا میسوجنسٹ کہلانے میں نہ کوئی باک ہے اور نہ شرمساری۔ جس کو ہے وہ اپنے بارے میں خود سوچے کہ وہ مسلمان ہے یا فیمینسٹ۔

عورت کو پیٹنا اس لیے کسی مرد یا بچے کو پیٹنے سے زیادہ معیوب خیال کیا جاتا ہے کیونکہ عام فہم یہی ہے کہ عورت جسمانی طور پر کمزور ہے جبکہ مجبور مرد اور مجبور ترین بچہ جابر اور متشدد کے سامنے کمزورترہوتا ہے جبکہ عورتیں جو سرکش ہوں وہ متشدد ہونے میں اگر مرد سے کم نہیں تو ہم پلہ ضرورہوتی ہیں بلکہ بعض اوقات فائق بھی۔

عورت یعنی بیوی کو پیٹنا کسی طور بھی قابل ستائش نہیں مگرقرآن کی رو سے ہم سرکش عورت کو ہلکی پھلکی مار سے سمجھانا ناقابل قبول نہیں سمجھ سکتے جبکہ اس کے برعکس چند برس پہلے چھپی ایک رپورٹ میں مرد کے تشدد کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والی نیویارک کے ارب پتیوں کی بیویاں بتائی گئی تھیں جو بار بار مارکھانے کے باوجود اپنے امیر شوہروں کو اس لیے چھوڑ کر نہیں جاتیں کیونکہ وہ عیش و آسائش کی عادی ہو چکی ہوتی ہیں۔

Check Also

Europe Walo, Aqal Ko Azaad Karo

By Rizwan Akram