Sunday, 08 December 2019

Kharida Hua Maal Wapas Ya Tabdeel Na Hoga?

آپ ایشیاء کو سرخ یا سبز کرنے کی عظیم جدوجہد سے فارغ ہو چکے ہوں تو آئیے چند سوالات پر غور فرما لیں۔

بازاروں میں تو آپ کا اکثر جانا ہوتا ہے۔ آپ کوئی چیز خریدنے جاتے ہیں، رسید کے اوپر لکھا ہوتا ہے "خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہ ہو گا"۔ کبھی آپ نے سوچا کہ خریدا ہوا یہ مال کیوں واپس یا تبدیل نہیں ہو گا؟کیا ہم جانتے ہیں یہ شرط کس حد تک جائز اور قانونی ہے اور یہ تاجر کس طرح بطور خریدار ہمارے حقوق کو پامال کر رہے ہیں؟

فرض کریں آپ ایک ہوٹل پر کھانا کھانے جاتے ہیں، وہ ہوٹل آپ کے سامنے کھانے کے ساتھ منرل واٹر کی بوتل لا کر رکھ دیتا ہے۔ کیا آپ مٹی کے مادھو کی طرح سارا دن دھوپ میں پڑی اس بوتل کا زہریلا پانی پی جاتے ہیں یا کبھی آپ نے ہوٹل والے سے پوچھا کہ گاہک کو کھانے کے ساتھ صاف پانی فراہم کرنا تمہارے لائسنس کی بنیادی شرائط میں سے ایک ہے تو ذرا دکھائو تو سہی تم نے صاف پانی کے لیے فلٹر کہاں رکھا ہے اور وہاں سے پانی کیوں نہیں دے رہے؟ فرض کریں ہوٹل والا جواب میں بد تمیزی کرتا ہے کیا آپ کو معلوم ہے اس کے خلاف آپ نے کہاں اور کس کو شکایت کرنی ہے؟

آپ کو یقینا علم ہو گا کہ پاکستان میں اقتدار کے ایوانوں میں کیا ہو رہا ہے اور آپ ہر دس منٹ بعد اندر کی خبر دوستوں سے شیئر فرماتے ہوں گے اور آپ کو یہ بھی پتا ہو گا کہ یہودی اس وقت تل ابیب کے کون سے ہوٹل کے کس تہہ خانے میں بیٹھ کر عالم اسلام کے خلاف کون کون سی سازشیں کر رہے ہیں لیکن جو سوال میں نے پوچھا ہے اس کی آپ کو یقینا درست اور مکمل خبر نہیں ہو گی۔ فرض کریں میری طرح آپ اسلام آباد کے ایک بڑے ہسپتال میں شفاء کی تلاش میں جاتے ہیں اور تین سال سے ایک دوا استعمال کر رہے ہیں جو صرف اسی ہسپتال سے ملتی ہے۔ ایک روز آپ وہ دوا لینے جاتے ہیں تو بتایا جاتا ہے وہ دوا کمپنی نے اٹھا لی۔ آپ پوچھتے ہیں دوا کمپنی نے کیوں اٹھائی؟ کیا وہ مضر صحت تھی؟ آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ اس دوا سے کیا کیا نقصان اٹھا چکے تا کہ آپ حفاظتی تدابیر لیں لیکن آپ کو بتایا جاتا ہے اس ہسپتال سے صرف مہنگے داموں شفا ملتی ہے، سچ نہیں بتایا جاتا۔ آپ کہتے ہیں ڈاکٹر سے ملوا دیجیے میں ذرا پوچھ لوں متبادل کون سی لوں وہ کہتے ہیں مبلغ تین ہزار فیس جمع کروا دیجیے۔ کیا آپ کو کچھ معلوم ہے اس صورت میں آپ کو کیا کرنا چاہیے اور آپ کے پاس اپنا حق لینے کا کون سا راستہ موجود ہے؟ہسپتالوں کا عالم یہ ہے کہ لاش پر قبضہ کر لیتے ہیں کہ پہلے بھاری بل ادا کرو پھر لاش دیں گے۔ یہ غیر قانونی حرکت ہے۔ بل کی ریکوری کے لیے ہسپتال لاش قبضے میں نہیں رکھ سکتا اسے قانونی طریقے سے بل لینا ہو گا۔ لیکن کیا ہم جانتے ہیں اس صورت میں کیا کرنا چاہیے، اور کیا اس صورت میں عام آدمی کے پاس کوئی ریلیف ہے بھی سہی؟

فرض کریں آپ ایک ایسی دکان سے جوتا لیتے ہیں جہاں سے آپ کے والد آپ کو جوتا لے کر دیتے تھے اور آپ کے بچپن میں وہ ایک کامیاب برانڈ ہوتا تھا۔ آپ کو نہیں پتا اب وہ جوتے خود نہیں بنا رہے بلکہ انہوں نے چین سے ناقص مال منگوا کر دکانیں بھر لی ہیں۔ آپ اسی پرانے اعتماد پر جاتے ہیں اور جوتا دوسرے ہی ہفتے ٹوٹ جاتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں اس صورت میں آپ کو کیا کرنا چاہیے؟ آپ ایک مہنگا سوٹ خریدتے ہیں اور ایک بہترین چین کے حوالے کرتے ہیں۔ جب وہ لاہور سے سل کر آتا ہے تو یوں لگتا ہے درزی نے نہیں کسی قصاب نے سیا ہے۔ کپڑا بھی تباہ، سلائی کے پیسے بھی ضائع اور ذہنی کوفت الگ سے، کیا آپ کو کچھ خبر ہے اس صورت میں آپ کے پاس کیا آپشن موجود ہیں؟

دنیا بھر میں خریدی ہوئی چیز مختلف شرائط پر واپس بھی ہوتی اور تبدیل بھی۔ حتی کہ سیل میں خریدی ہوئی چیز بھی۔ لیکن پاکستان میں آپ نے جو چیز لے لی اب وہ جیسی بھی نکلے اسے برداشت کرنا ہو گا۔ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کا بڑا غلغلہ رہا کہ خریدار کے حق میں انقلاب آ گیا۔ لیکن اس کی دفعہ 20 میں صرف یہ بات کی گئی ہے کہ تاجر واپسی یا تبدیلی کے بارے میں اپنی پالیسی واضح طور پر بیان کرے گا۔ چنانچہ تاجروں نے اپنی پالیسی واضح لکھ کر لگا دی کہ خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہ ہو گا۔ تاجر اکٹھے ہو کر حکومت کو دبا لیتے ہیں اور خریدار یہی سوچتا رہتا ہے کہ اس کا کپتان کتنا ہینڈ سم ہے، اس کا بلاول کتنی اچھی انگریزی بولتا ہے اور اس کے میاں نواز شریف کے پاس کتنا لازوال قسم کا بیانیہ ہے۔ اپنے حقوق کا اسے کچھ پتا ہے نہ کبھی اس نے اس فضول چیز پر غور کیا۔ صرف بنکوں نے لکھ کر لگا رکھا ہے شکایت کی صورت میں یہاں اس نمبر پر رابطہ کیجیے۔ ایسا ہی ایک پیغام میڈیکل سٹورز، نجی ہسپتالوں اور نجی تعلیمی اداروں، ہوٹلوں اور مارکیٹوں میں کیوں نہیں آویزاں کیا جاتاتا کہ لوگوں میں شعور تو پیدا ہو کہ ازالے کی ایک صورت بھی موجود ہے۔ یہاں عالم یہ ہے کہ کنزیومر کورٹس بنائی گئی ہیں لیکن ان کی کوئی تشہیر نہیں کی گئی کہ عوام کو کچھ معلوم ہو سکے، یہ کیا ہیں؟کہاں ہیں؟ اور ان سے اپنا حق کیسے مانگا جائے؟ یہاں وزیر اعظم کی پریشانی صرف اتنی ہے کہ عثمان بزدار کی عظیم قومی خدمات کی مناسب تشہیر کیوں نہیں ہو پا رہی۔

جب آپ ایشیاء کو سرخ، یورپ کو سبز، افریقہ کو نیلا اور آسٹریلیا کو پیلا کر لیں اور جب آپ نواز شریف کی عزیمت، عمران خان کی شجاعت، بلاول کی سخاوت، آصف زردای کی حکمت اورحمزہ شہباز کی بصیرت پردیوان لکھ لیں تو ازراہ کرم اپنے مقامی اور حقیقی مسائل پر بھی توجہ فرمائیں۔ عین نوازش ہو گی۔