Sunday, 08 December 2019

Chief Election Commissioner Ki Taqarruri Aur Aaeni Taqaze

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار محمد رضا کے یہ تحفظات کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کا بروقت تقرر نہ ہوا تو 7 دسمبر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان غیر فعال ہونے کا خطرہ ہے، ـ اس امر کا متقاضی ہے کہ کسی بحران کے پیدا ہونے کا انتظار کئے بغیر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی خالی نشستوں کو مکمل کرلیا جائے۔  

چیف الیکشن کمشنر سمیت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ارکان کی مجموعی تعداد پانچ ہے، سندھ اور بلوچستان سے دو ارکان کی نشستیں حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً ایک سال سے خالی پڑی ہیں۔ الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت الیکشن کمیشن کم از کم اپنے تین ارکان کے ساتھ فعال رہ سکتا ہے، تاہم 6 دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر کی ریٹائر منٹ کے بعد ارکان کی مطلوبہ تعداد کی عدم موجودگی میں الیکشن کمیشن کوئی فیصلہ نہیں کر سکے گا۔ اگر نئے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر دو خالی نشستوں پر بروقت ممبران کی تقرری ممکن نہ ہوئی تو 7 دسمبر کو الیکشن کمیشن غیر فعال ہو جائے گا اور ضمنی اور بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جا سکیں گے۔ اس طرح فارن فنڈنگ کیس، جو ملکی سطح پر بڑی اہمیت کا حامل ہوچکا ہے، کی کارروائی بھی غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر ہو جائے گی اور سیاسی جماعتیں جو اِس کیس سے وابستہ ہو چکی ہیں، ان کا سیاسی ڈھانچہ، کارکردگی، انتظامی و سیاسی سرگرمیوں پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔ ان کے ارکان غیر یقینی کیفیت کا انتظار کرتے رہیں گے ارکان قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی سراسیمگی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔

آئین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تعیناتی کے لیے وزیر اعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف باہمی مشاورت سے تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجواتے ہیں، جبکہ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ خالی ہونے پر 45 روز کے اندر مکمل کیا جانا قانونی و آئینی طور پر لازمی ہوتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے سندھ اور بلوچستان سے ارکان کی تعیناتی کے لیے صدر ِمملکت نے سندھ سے خالد محمود صدیقی اور بلوچستان سے منیر احمد کاکڑ کا تقرر کیا تھا، تاہم چیف الیکشن کمشنر نے آئین کے آرٹیکل 213 اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں صدارتی تقرری کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے عزت مآب چیف جسٹس نے بھی ان ناموں کو مسترد کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کو ہدایت کی تھی کہ وہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر سے رابطہ کریں۔

الیکشن کمیشن دو ارکان کا عہدہ مکمل کرنے کے لیے وزارتِ پارلیمانی امور کو چار خطوط بھی لکھ چکا ہے، لیکن تاحال حکومت کی جانب سے کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ صورتحال ایک نئے بحران کی نشاندہی کررہی ہے، لہٰذا وزیراعظم پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ فی الفور آئینی طریقہ کار اپناتے ہوئے الیکشن کمیشن کی خالی نشستوں کو 7 دسمبر تک مکمل کریں، تاکہ نیا آئینی و سیاسی بحران پیدا نہ ہو۔ دوسری وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور نے چیف الیکشن کمشنر کی غیرجانبدار کارکردگی پر تنقید کی ہے، جو کہ آئینی و قانونی طور پر نامناسب رویہ ہی تصور کیا جائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر نے اگرچہ صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومتی عہدیداروں کے رویے کو نظر انداز کر دیا ہے، مگر قانونی و آئینی طور پر ان کو وہی اختیارات اور مراعات حاصل ہیں، جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کے لیے آئین کے آرٹیکل 204 میں درج ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر وفاقی وزیر پارلیمانی امور کے خلاف آئین کے آرٹیکل 63 (1) (جی)کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ان کو قومی اسمبلی کی نشست سے محروم کرتے ہوئے ان کو پانچ سال کے لیے نااہل قرار دینے کے بھی مکمل اختیارات رکھتے ہیں، اسی طرح معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات کو بھی اسی آرٹیکل( 63، 1جی) کے تحت نا اہل قرردینے کے لیے ان کے پاس اختیا رات ہیں۔ حالیہ دنوں معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات اسلام آباد ہائیکورٹ میں باقاعدہ معافی طلب کر چکی ہیں اور عزت مآب چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے وارننگ کے ذریعے آئندہ محتاط رہنے کا حکم دیا تھا۔ ابھی یہ فیصلہ سامنے آیا ہی تھا کہ معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور علی محمدخان نے چیف الیکشن کمشنر کے بارے تضحیک آمیز ریمارکس دیئے تھے۔ کیاہماری اعلیٰ عدالتوں کو اس قسم کے رویے کے ازالے کے لیے ازخود نوٹس نہیں لینا چاہیے، تاکہ عدالتوں کا تقدس مجروح نہ ہو؟

وزیراعظم پاکستان اپنے آئینی ماہرین میں گھرے ہوئے ہیں، جو ان کو آئین و قانون کے بارے میں اس انداز میں بریف کرتے ہیں، جس سے آئینی طور پر مزید کشمکش کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ وزیراعظم صاحب کو چاہیے کہ ایسے اہم آئینی، قانونی اورانتظامی امور پر کاؤنٹر چیک کا انتظام اپنایا جائے، تاکہ ان کے اردگرد ماہرین کی اجارہ داری کا تصور قائم نہ ہونے پائے۔ وزیراعظم عمران خان نے کرپشن فری سوسائٹی کی تشکیل پر نئے پاکستان سے متعلق اپنے منشور اور ایجنڈے کی بنیاد پر 2018ء کے انتخابات میں عوام سے وفاقی اور صوبائی اقتدار کا مینڈیٹ حاصل کیا تھا، تاہم تحریک انصاف کی کابینہ کے بعض ارکان نے وزیراعظم عمران خان کے گرد ایک حصار سا کھڑا کر دیا ہے۔ ان کے حقیقی پیروکار، جن کے کندھے پر بیٹھ کر وہ اقتدار کی مسند پر بیٹھے، وہ ان سے لاتعلقی اختیار کر چکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کرپشن فری سوسائٹی کی تشکیل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے، جن کے تحت سابق حکمران جماعتوں کے قائدین قومی احتساب بیورو کے شکنجے میں آئے، مگر بدقسمتی سے حکومتی اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں علاج معالجہ، غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید گمبھیر ہوتے گئے، جس پر عوام کا مضطرب ہونا فطری امر تھا، لہٰذا شواہد اور سیاسی نشیب و فراز بھی اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ملکی معیشت کو منزلِ مقصود تک پہنچانا اولین ٹاسک ہے، باقی سیاسی بازی گری تو ہوتی ہی رہے گی۔ ملک کا مفاد معاشی استحکام اور جمہوری خیرسگالی کے جذبے میں مضمر ہے، سیاست دانوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو اعصابی تناؤ کی موجودہ صورتحال سے نجات دلائیں کیونکہ ملک فی الوقت ایک ہیجان میں مبتلا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے آئینی اور اقتصادی امور کے ماہرین نے ان کی حکومت کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ ایسا تو کسی نے نہیں سوچا تھا کہ نااہلی ملک کے ہر محکمے اور ادارے میں جھلکتی ہوئی نظر آئے گی، لیکن وزیراعظم عمران خان کے مشیروں نے ریاست کے عظیم، مضبوط، فعال اور بین الاقوامی اہمیت کے حامل اداروں کو بھی متنازعہ بنانے کی کسر نہیں چھوڑی۔

بے یقینی کے اس سلسلے کو طول دینے میں صرف حکومت ہی مصروف عمل نہیں، بلکہ حزب اختلاف بھی بے بنیاد دعووں میں زمین وآسمان کے قلابے ملاتی نظر آ رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے بعض اعلیٰ سطحی مبینہ ملاقاتوں کا حوالہ دے کر یہ کہہ کر شکوک و شبہات کو طول دیا کہ انہیں دسمبر تک تبدیلی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ گزشتہ روز انہوں نے اسی تناظر میں پورے اعتماد کے ساتھ اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس کا بھی اہتمام کیا اور اے پی سی کے ذریعے اپنے دعووں کا تاثر پختہ کرنے کی کوشش کی۔ دراصل وزیراعظم عمران خان اپنے ارکانِ کابینہ، آئینی ماہرین اور بیوروکریسی کی آپس کی چپقلش کی وجہ سے مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ موجودہ حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے آج بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کے اہم ادارے زیر بحث آ رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کا حوالہ تو اوپر دیا جا چکا، مگر یہ سلسلہ یہیں تک محدود نہیں۔ حکومت کی نا قص کارکردگی کی وجہ سے پاکستان کے اہم ادارے آمنے سامنے آچکے ہیں اور ملک پیچیدہ معاشی، انتظامی، سیاسی اور اب قانونی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ان معاملات کے ذمہ داران اور دانستہ کوتاہی کے مرتکب وزرا، آئینی ماہرین اوربیوروکریٹس کے خلاف تادیبی کارروائی کی ضرورت ہے۔