Sunday, 08 December 2019

Schadenfreude

دو نومبر کو برطانیہ کا ہفت روزہThe Economist شائع ہوا اور کالم نگار کو صبح سویرے بذریعہ ڈاک موصول ہوا تو صفحہ نمبر15 پر شائع ہونے والے تیسرے اداریہ پر نظر جم گئی۔ اداریہ کے نفسِ مضمون پر نہیں، بلکہ اس کے عنوان پر (جو آج کے کالم کا عنوان بنا)۔ یہ لفظ اپنی بناوٹ اورانوکھے مضمون کی وجہ سے کسی صورت انگریزی زبان میں شمولیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ صوتی اعتبار سے جرمن لگتا ہے۔ آکسفورڈ لغت کی طرف رجوع کیا۔ یہ پڑھ کر خوشی ہوئی کہ میرے اندازے کے مطابق واقعی یہ لفظ جرمن زبان کے ذخیرہ سے اُٹھا کر انگریزی زبان کے گلستان میں پہنچا دیا گیا۔ ایسا کیوں کرنا پڑا؟ انگریزی زبان میں اس سے ملتے جُلتے لفظ کی عدم موجودگی کی وجہ سے۔ لغت میں اس کا جو مفہوم لکھا ہوا دیکھا وہ آپ بھی پڑھ لیں ''وہ خوشی جو دوسرے کو کسی تکلیف یا مصیبت میں گرفتار دیکھ کر ہوتی ہے"۔ ہم بجا طو رپر اس خوشی کے ساتھ شیطانی اسم صفت کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ ایک عرصے سے میرے دل میں یہ گماں پرورش پا رہا تھا کہ پاکستانیوں اور جرمن لوگوں کی افتادِ طبع، مزاج اوررویے ایک دوسرے سے بہت ملتے جلتے ہیں۔ آج کے کالم کا عنوان بننے والے لفظ کا مطلب پڑھا تو میرا گمان یقین محکم میں بدل گیا۔ جب انگریزوں کے مزاج میں دوسروں کی تکالیف اور نقصانات اور Setbackپر خوش ہونے کی کوئی گنجائش نہیں تو وہ اس مفہوم کو بیان کرنے کے لیے ایک لفظ کیوں تراشتے؟ ضرورت صرف ایجاد کی نہیں ذخیرہ الفاظ کی بھی ماں ہے۔

اپنے رویے پر ایک نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پنجابی زبان کا ایک جانا پہچانا محاورہ ہے ''میرے شریک (قریبی رشتہ دار مگر حریف نمبر ایک) کی دیوار گر جائے چاہے میری بھینس اُس کے ملبے میں دب کر مر جائے"۔ اس طرح کی سوچ رکھنے کے لیے بیوقوفوں کے قبیلہ کا سردار ہونا ضروری ہے۔ دیوار گر جائے تو بیس پچیس ہزار روپے خرچ کر کے اسے دوبارہ بنوایا جا سکتا ہے، مگر بھینس کے نقصان کی تلافی کے لیے ایک لاکھ روپے درکار ہوں گے۔ بدقسمتی سے پٹھانوں، بلوچوں اور سندھیوں کے بارے میں کالم نگار کا علم صفرکے قریب ہے، میں صرف اہلِ پنجاب یعنی اپنے ''گرائیوں " (FellowVillagers) کے بارے میں جو تھوڑا بہت جانتا ہوں اُس کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ اہل پنجاب دوسروں (خصوصاً جب اُن سے کسی قسم کی رشتہ داری یا قرابت داری ہو) کی کامیابیوں پر دل گرفتہ ہوتے ہیں، کڑھتے ہیں۔ رشک کی بجائے حسد کرتے ہیں، جبکہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کی ناکامیوں، شکستوں اور ہزیمت پر دل ہی دل میں اتنا خوش ہوتے ہیں کہ اسے چھپانا مشکل ہو جاتا ہے۔ جرمن زبان کے دوسرے الفاظ کی طرح مذکورہ بالا لفظ کو لکھنا جان جوکھوں کا کام ہے، مگر اسے بولنے (اور وہ بھی صحیح تلفظ میں ) کی کوشش کرنا ہر گز قرین دانش نہیں۔ کالم نگار کی طرح آپ بھی اس سے پرہیز کریں۔

کالم نگار نے مندرجہ بالا سطور میں جو کچھ بھی لکھا وہ تمہید کے زمرہ میں آتا ہے۔ کالم کا عجیب و غریب عنوان جرمن زبان کا جو لفظ ہے وہ دوسروں کی مصیبتوں اور ناکامیوں پر دیکھنے یا سُننے والے کی خوشی کو بیان کرتا ہے۔ ظاہر ہے اس طرح کی سرشت یا خصلت کا مالک ہونا نہ قابلِ فخر ہے اورنہ ہی قابلِ تقلید، مگر سچ یہ ہے کہ یہ خامی کروڑوں انسانوں میں پائی جاتی ہے۔ اکانومسٹ دائیں بازو، یعنی رجعت پسندوں اور کلاسیکی سرمایہ داری کے بنیادی ستونوں کو مقدس سمجھنے والوں کا ترجمان ہے۔ لاطینی امریکہ کے دو بڑے ملکوں (چلی اور ارجنٹائن) میں سرمایہ دارانہ نظام پر دو بڑی مصیبتیں نازل ہوئیں۔ ارجنٹائن میں دائیں بازو کی سیاسی جماعت اقتدار سے محروم ہو گئی اور اشتراکی نظریات رکھنے والی جماعت نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ یہ زلزلہ بحر اٹلانٹک کے مشرقی کنارے آباد ملک میں آیا تو اس براعظم کے مغربی ساحل (بحر اوقیانوس کے کنارے) پر دائیں بازو کے معاشی نظریات کے حامل صدر کے خلاف اتنے بڑے عوامی مظاہرے ہوئے کہ سرکاری ذرائع کو تسلیم کرنا پڑا کہ مظاہرین کی تعداد دس سے پندرہ لاکھ کے درمیان تھی، جبکہ کیوبامیں کاسترو کے جانشینوں اور وینزویلا میں ہیوگو شاویز کے جانشین سوشلسٹ حکمرانوں نے اپنے نظریاتی حریفوں کا برُا حال دیکھا تو خوشی سے تالیاں بجائیں۔ قرینِ قیاس ہے کہ انہوں نے اس مقامِ مسرت کا جشن منانے کی یہ خبر جب لندن پہنچائی تو اکانومسٹ کے دفتر میں صفِ ماتم بچھ گئی اور اس موضوع پر جو اداریہ لکھا گیا وہ نہ صرف نو حہ ہے بلکہ تعزیت نامہ بھی۔

آپ جانتے ہیں کہ ایک بڑا الائو صرف ایک چنگاری سے بھڑک سکتا ہے۔ چلی میں ایسا ہی ہوا۔ ہنگامے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے خلاف بطور احتجاج شروع ہوئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے مظاہرین کی تعداد سینکڑوں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں تک جا پہنچی۔ مظاہرے اتنے بڑے ہوں تو دھرتی کانپتی ہے، تاج اُچھالے جاتے ہیں اور تخت پر بیٹھے ہوئے حکمرانوں کا تختہ ہو جاتا ہے۔ چلی کے مظاہرین آخری منزل پر پہنچے تو بات بڑھتے بڑھتے معاشی عدم مساوات اورسماجی ناہمواری تک جا پہنچی۔ امریکہ کے زیر اثر ممالک (جن میں پاکستان بھی شامل ہے) پر جو معاشی نظام مسلط کیا گیا ہے اُسے جدید معاشی اصطلاح میں Neoliberal کہتے ہیں۔ اس کی بنیاد تین خصوصیات پر ہوتی ہے: مارکیٹ اکانومی، کمزور اور سکڑی ہوئی بلکہ سوکھی سہمی ریاست، ذرائع پیداوار کے ہر شعبہ پر بڑے سرمایہ داروں کا قبضہ۔ چلی دولت کے اعتبار سے لاطینی امریکہ کا دوسرا امیر ترین ملک ہے۔ 70 کی دہائی میں، آج کا مفلوک الحال، ارجنٹائن اِس وقت کے امیر ترین ملک چلی سے دوگنا خوشحال تھا۔ نصف صدی کے اندر ارجنٹائن خوشحالی کے روشن دور سے نکل کر غربت کے اندھیروں میں جا گرا۔ یہ وہی نصف صدی ہے جس میں شرقِ بعید کے ممالک (کوریا اور چین) اور جنوب مشرقی ایشیا کا ایک شہر پر مشتمل ملک (سنگا پور) گرد آلود کپڑے جھاڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور اتنی کمال کی ترقی کی کہ اقوام عالم کی صفِ اول میں اپنی جگہ بنا لی، جو سارے ایشیائی اور افریقی ممالک کے لیے قابل تقلید ہے۔ سو سال پہلے اہلِ چین اپنی گراں خوابی سے بیدار ہونے لگے تو اقبال کو ہمالہ کے اُس پار اُبلتے ہوئے چشمے نظر آئے جو اَب بحرِ بیکراں کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جس کی دسترس میں (سی پیک کے ذریعہ) ایشیا سے لے کر یورپ تک کے ممالک ہیں۔ اب علم حاصل کرنے کے لیے چین جانے کی زحمت اُٹھانے کی ضرورت نہیں رہی۔ اہل چین اپنی صدیوں پرانی دانش کا چراغ لے کر ہماری دہلیز تک آپہنچے ہیں، مگر ایک انگریزی مقولہ یاد رکھیں : آپ گھوڑے کو پانی کے حوض تک تو لے جا سکتے ہیں مگر اُسے پانی پینے کا سلیقہ نہیں سکھا سکتے۔

میرا کالم چاہے سات سمندر پار جس براعظم کے ممالک کے تذکروں سے شروع ہو، تان وطنِ عزیز پر ہی ٹوٹے گی۔ ہمارے حکمران طبقہ نے اِن 72 سال میں پاکستان کو جس معاشی نظام کے تحت چلایا ہے وہ اُس طرح کی خالص سرمایہ داری کا بھی نہیں جو ہمیں امریکہ اور بیشتر یورپی ممالک میں نظر آتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے اس میں بھی چور بازاری، بدعنوانی، امیروں پر عنایات اور مراعات کی بارش اور محنت کش طبقہ کے مفادات کی قربانی کی اتنی زیادہ ملاوٹ کر دی کہ وہ برُی طرح ناکام ہو گیا۔ یہ نظام غیر ملکی خیرات کی صورت میں مصنوعی تنفس کی بدولت زندہ تو ہے، مگر نیم مردہ۔ کسانوں اور مزدوروں کا ذکر تو کجا، ڈاکٹر اور اساتذہ بھی ہڑتال پر ہیں اورپولیس کے لاٹھی چارج کا نشانہ بن رہے ہیں۔ پہلے وزیرخزانہ ملک غلام محمد سے لے کر جنرل ایوب خان کے وزیر خزانہ شعیب تک، اسد عمر سے حفیظ شیخ تک۔ چہرے بدلتے رہے، مگر نظام وہی رہا۔  

کالم نگار نجومی نہیں مگر یہ پیش گوئی کر سکتا ہے کہ آنے والا دن آج کے دن سے زیادہ برُا ہوگا۔ مہنگائی، بے روزگاری اور قرض کا بوجھ بڑھتا چلا جائے گا۔ کالم کے آخر میں صرف یہی لکھا جا سکتا ہے کہ ہم بسم اللہ چار کاموں سے کریں تو اندھیرے سے روشنی کا سفر شروع ہو جائے گا۔ لاکھوں ایکڑ غیر آباد زمین لاکھوں بے زمین کاشتکاروں میں مفت بانٹ دیں۔ کارخانوں میں مزدوروں کو نصف ملکیت دیں۔ نوٹ چھاپ چھاپ کر گزارہ کرنا بند کر دیں۔ یہ تو غالب کو بھی پتا تھا کہ قرض کی مے پینے و الوں کو آخر اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔