Friday, 15 November 2019

Jab Tak Hathyar Azad Hain

دنیا میں بڑے بڑے مدبر اہل علم ہیں، وہ یقینا مانتے ہوں گے کہ دنیا میں قتل و غارت گری خواہ وہ انفرادی سطح کی ہو یا جنگی سطح کی اس کا بنیادی کردار ہتھیار ہے، جب تک ہتھیار ہیں قتل وغارت بھی ہوگی اور جنگیں بھی ہوں گی اور غریب لیکن متحارب ملکوں کے درمیان موجود دشمنیاں غریب ملکوں کو اپنے بجٹ کا بڑا حصہ "دفاع" پر خرچ کرنے پر مجبورکرتے رہیں گے، حتی کہ دہشت گردی جیسی لعنت کا انحصار بھی ہتھیاروں پر ہے۔

کیا اس تلخ اور المناک حقیقت سے اہل علم، اہل خرد نا واقف ہیں، اگر واقف ہیں تو پھر اس کی تیاری اور تجارت پر پابندی کیوں نہیں لگواتے۔ آج دنیا جن تنازعات بلکہ سنگین تنازعات میں الجھی ہوئی ہے انھیں سلجھانے کی اہلیت کسی میں نہیں۔

دنیا کو جنگوں سے بچانے اور متنازعہ ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب لا کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے جو ادارہ بنایا گیا ہے، اس کا نام ہے اقوام متحدہ، لیکن یہ ادارہ مردہ گھوڑے کی حیثیت رکھتا ہے اس پر بھی ہتھیار مافیا کا سایہ ہے اور یہ ادارہ عضو معطل بنا ہوا ہے، نئے تنازعات پیدا ہو رہے ہیں اور دنیا پر جنگ کا آسیب مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ ان سارے حقائق سے اہل زمین پوری طرح واقف ہیں اور اس مافیا سے بھی واقف ہیں جو اس فضا کو کنٹرول کرتی ہے غریب ملک جن کے عوام کی 50 فیصد تعداد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اس فضا و اس کلچر سے بری طرح متاثر ہیں۔

کیا اہل سیاست اس حقیقت سے نا واقف ہیں کہ دنیا کو ماضی میں بھی ہتھیاروں سے نقصان پہنچا، حال کو بھی پہنچ رہا ہے اور مستقبل کو بھی پہنچے گا اس جانکاری کے باوجود بھی وہ ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ عالمی مافیا اس کلچر سے دنیا کو باہر آنے نہیں دیتا۔ امن دنیا کی ضرورت ہے اور امن کے بغیر نہ دنیا میں ترقی ممکن ہے نہ مطمئن زندگی ممکن ہے۔ اس حوالے سے سب سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت پرکس کا قبضہ ہے اور اس تجارت پر کنٹرول کس کا ہے اور یہ تجارت کس کی ضرورت ہے۔ ان حقائق کو سمجھے بغیر اس تجارت پر کنٹرول ممکن نہیں۔

ہتھیاروں کی تجارت سے اسلحہ انڈسٹریز والے کھربوں ڈالرکما رہے ہیں، یہ تجارت سب سے زیادہ منافع بخش ہے، جس سے اس صنعت کے مالکان اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ ایسی منافع بخش تجارت سے کون خوشی سے دست بردار ہوسکتا ہے۔ آج دنیا کے کسی حصے پر نظر ڈالیں جنگیں ہیں یا جنگوں کی تیاری ہے اور یہ سارا المناک تماشا دنیا دیکھ رہی ہے۔ تشدد بلاشبہ ایک برائی ہے لیکن تشدد کو ختم کرنے کے لیے جو تشدد کیا جاتا ہے اسے ہم بھلائی کہہ سکتے ہیں ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت سے اب تک دنیا کوکس قدر نقصان پہنچ چکا ہے اس کا سارا ریکارڈ ہمارے سامنے ہے۔

دنیا کے دیرینہ اور سلگتے ہوئے مسائل میں کشمیر اور فلسطین کے مسئلے شامل ہیں ان محاذوں پر اب تک جتنا اسلحہ تلف ہوچکا ہے اور اس اسلحے کے استعمال سے کتنے انسان ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ اعداد وشمار موجود ہوں گے، انھیں بڑے پیمانے پر پرنٹ کروا کر عوام میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ اس سے عوام کو نہ صرف ہتھیاروں کے نقصانات کا اندازہ ہوگا بلکہ ہتھیاروں کے خلاف ایک عمومی نفرت اور بے زاری کا کلچر پیدا ہوگا۔ دنیا میں امن کے لیے ہزاروں رضاکارانہ تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں کے پاس وسائل بھی ہیں اور افرادی طاقت بھی۔ ان تنظیموں کو ایک مرکز پر جوڑکر ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت کے خلاف میڈیا کی مدد سے تحریک چلائی جائے تو اس کے مثبت نتائج آسکتے ہیں۔

ہم نے دو پرانے بلکہ بہت پرانے تنازعات کشمیر اور فلسطین کی نشان دہی کی ہے۔ یہ دونوں تنازعات لگ بھگ 72 سال سے جاری ہیں اور ان 72 سالوں میں ان میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ دنیا کے سیاسی اور اقتصادی مفادات ہیں۔ جو ملک سیاسی اور اقتصادی مفادات کے ساتھ ان مسائل کو حل کرنا چاہیں گے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر ان ملکوں میں جاری 72 سالہ خون خرابے کو روکنا ہو تو سب سے پہلے سیاسی اور اقتصادی مفادات سے کنارہ کشی کرنا ضروری ہوگا۔

چین بغیر کسی کو نقصان پہنچائے نہ صرف مستقل اقتصادی ترقی کر رہا ہے بلکہ اقتصادی مفادات میں شرکت بھی کر رہا ہے۔ اس پس منظر میں چین کو ایک ممتاز اور متحرک کردار دینے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل جیسے ادارے جو دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے، اب ایک طرح سے ڈیڈ باڈی بنے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ یہ ہے کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر ان اداروں کو اقوام متحدہ کے چارٹرکی روشنی میں فعال ہونے ہی نہیں دیتے اگر ایسا نہ ہوتا تو کشمیر اور فلسطین کے مسائل کب کے حل ہوچکے ہوتے۔

بھارت دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اگر وہ چاہے تو کشمیر کا مسئلہ آسانی سے حل ہوسکتا ہے لیکن کشمیر پر ناجائز قبضے کی سائیکی نے مسئلہ کشمیر کو بلاک کر رکھا ہے۔ اس تنازعہ کی وجہ سے دونوں ملکوں میں تجارت بند ہے اگر صرف تجارت ہی شروع ہوجائے تو دونوں ملکوں کے عوام کو مہنگائی سے بڑی حد تک نجات مل سکتی ہے، لیکن سیاسی مخاصمت نے دونوں ملکوں کو اندھا کر رکھا ہے۔

ہم نے ابتدا میں بتایا تھا کہ ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت نے دنیا کو نہ صرف متحارب کر دیا ہے بلکہ دنیا میں ہونے والی تمام جنگوں کی وجہ بھی ہتھیار ہیں، اگر ہتھیاروں کی تیاری اور تجارت کو ختم کر دیا جائے یا کم ازکم بہت محدود کر دیا جائے تو جنگوں کی حوصلہ شکنی اور امن کی برتری اور استحکام کا دور شروع ہوسکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کی اہمیت سے ہمارے حکمران واقف ہیں؟