Friday, 15 November 2019

Yahan Tak To Puhanche Wo Majboor Ho Kar

مولانا فضل الرحمن کو ناراض نہیں خوش ہونا چاہیے، حکمران بالآخر اُن سے رابطے اور بامقصد مذاکرات پر آمادہ ہیں، مذاکراتی کمیٹی کے ذریعے صرف بات چیت نہیں وزیر اعظم عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کے مابین ٹیلی فونک گفتگو ہو گی، حزب اختلاف کی ایک جماعت کو جس کے پارلیمنٹ میں درجن بھر ارکان ہیں اور کیا چاہیے؟ مولانا کی سیاسی اہمیت حکومت نے تسلیم کر لی۔ عمران خان مولانا کا نام سننے کے روادار نہ تھے، اب بات کرنے پر آمادہ ہیں، خدا نے چاہا تو معقول مطالبات بھی مانے جائیں گے اور سودے بازی کے حق میں طاق مولانا نے اپنے پتے عقلمندی سے کھیلے تو میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے انجام سے بھی بچ رہیں گے، پرویز مشرف کے دور میں مولانا جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو غُچہ دے کر خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا منصب لے اڑے تھے۔ کل تک دھرنے کو اہمیت اور مولانا کو عزت نہ دینے والی حکومت مذاکرات پر آمادہ ہے ؎

تجاہل، تغافل، تبسم، تکلّم

یہاں تک تو پہنچے وہ مجبور ہو کر

مذاکرات کو نتیجہ خیز اور سود مند بنانا مولانا کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، 1973ء کے آئین کے تناظر میں مذاکرات ہی سیاسی تنازعات حل کرنے کا بہترین اور آزمودہ نسخہ ہے اور موجودہ بُری بھلی جمہوریت برقرار رکھنے کا وسیلہ ع

ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

مولانا کے مداح اور موجودہ عوام دشمن سیاسی و معاشی ڈھانچے کو جمہوریت قرار دینے پر مُصر دانشور اسلام آباد پر مولانا کی یلغار سے پریشانی کا سبب دریافت کرتے ہیں تو یہ ہرگز نہیں سوچتے کہ بدلتے علاقائی اور بین الاقوامی رجحانات، معاشی بحران اور لمحہ بہ لمحہ کمزور پڑتی رٹ کی بنا پر ریاست اس وقت کسی انتشار و افتراق کی متحمل ہے نہ وردی پوش، ڈنڈا بردار جتھوں کے ذریعے آمدورفت کے ذرائع میں تعطل کی روادار، ہجوم کی طاقت کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ جب یہ کام آصف علی زرداری اور نواز شریف کے دور میں غلط تھا تو آج کیسے درست ہو سکتا ہے اور اگر ایک بار کسی جتھے کو یہ اجازت دیدی گئی، یہ روایت قائم ہو گئی تو بار بار دھرائی کیوں نہیں جائے گی! کسی کو بُرا لگے یا اچھا لیکن یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان میں معاشی ترقی کے اہداف صرف فیلڈ مارشل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں حاصل ہوئے اور امن و استحکام کی کیفیت بھی نسبتاً انہی فوجی حکمرانوں کے عہد میں نظر آئی۔ میاں نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں وزیر اعظم ہائوس، ایوان صدر اور جی ایچ کیو کے مابین جب تک تعلقات کار بہتر رہے، معاشی ترقی اور استحکام کا تاثر پختہ ہوا مگر جونہی میاں صاحب کو سول بالادستی کا نشہ چڑھا اور انہوں نے پہلے دو فوجی سربراہوں اسلم بیگ و آصف نواز اور پھر غلام اسحق خان سے پنجہ آزمائی شروع کی، سیاسی و معاشی بحران ملک کا مقدر ہو گیا باقی تاریخ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری کے دور میں جمہوریت، سیاست اور معیشت پر جو گزری وہ پاکستانی تاریخ کا المناک بلکہ شرم ناک باب ہے۔ کسی بتکدے میں بیاں کروں تو صنم پکارے ہری ہری

آج ایوب خان اور ضیاء الحق کو گالی دینا آسان ہے کہ اولاد نالائق نکلی اور دونوں فوجی آمروں کا کندھا استعمال کر کے قومی سیاست میں کوس لمن الملک بجانے والے سیاسی جانشیں طوطا چشم، بے وفا، مگر ترقی اور استحکام کے جزیرے انہی ادوار میں آباد ہوئے، صنعتی و زرعی ترقی اور پیسے کی ریل پیل کو عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور مزہ چکھا۔ دس اور گیارہ سال کی حکمرانی اگر فوجی قوت و طاقت کی مرہون منت ہوتی تو جنرل پرویز مشرف اور یحییٰ خان بھی یہ مدت پوری کرتے جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایوب خان اور ضیاء الحق دونوں بین الاقوامی سازش کا شکار ہوئے۔ کہانیاں مگر ذوالفقار علی بھٹو اور نوازشریف کے حوالے سے گھڑی گئیں، سبب پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو بتایا گیا جو بھٹو اور نواز شریف کے بعد تیز رفتاری سے جاری رہا۔ البتہ ایوب خان اور ضیاء الحق کے بعد ہماری صنعتی، خارجی، سیاسی اور سفارتی پالیسیاں تبدیل ہوئیں کامیابیاں گنہا گئیں اور کوڑی کوڑی کو محتاج ہوتے چلے گئے۔ کرپشن، اقربا پروری، دوست نوازی اور خوشامدی ٹولے پر بے جا نوازشات کا کلچر بھٹو، نواز شریف اور بے نظیر، عوامی مقبول رہنمائوں کے دور میں پروان چڑھا، قومی صنعتیں اورسرکاری ملازمتیں ریوڑیوں کی طرح بانٹنے کا مکروہ دھندا شروع ہوا۔ جمہوریت نے خاندانی و موروثی حکمرانی کا مزہ چکھا اور پاکستان کی جڑیں کھوکھلی ہو گئیں۔

پاکستان میں ناقص طرز حکمرانی کے باوجود ایک بار پھر اداروں کی تشکیل و استحکام اور شخصی حکمرانی کی بیخ کنی کا عزم ظاہر کیا جا رہا ہے اور خاندانی سیاست کا جو بیج بھٹو نے سینئر پارٹی رہنمائوں کو نظرانداز کر کے بیگم نصرت بھٹو کی جانشینی کی صورت میں بویا تھا، میاں نواز شریف نے راجہ ظفر الحق، احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی وغیرہ کی موجودگی میں مریم نواز کو آگے بڑھا کر مزید پروان چڑھایا اور غلاموں کی ایک نسل بلاول بھٹو و مریم نواز کی حکمرانی کا راستہ صاف کرنے کے لیے شبانہ روز ریاضت میں مشغول ہے، مولانا کی جدوجہد کو کامیاب دیکھنے کی خواہش مند یہ نسل سوچنے پر ہی آمادہ نہیں کہ گڑبڑ اور محاذ آرائی کا نتیجہ کیا نکل سکتا ہے؟ مولانا اور ان کے ہمنواء عمران خان کے استعفے اور نئے انتخابات کا راگ الاپ رہے ہیں مگر اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں کہ یہ انتخابات کس آئینی شق اور قانون کے تحت، کرائے گا کون؟ اگر انتخابات کے نتیجے میں عمران خان دو تہائی اکثریت لے کر منتخب ہو گیا اور مولانا کی جماعت کا خیبرپختونخوا، بلوچستان، مسلم لیگ ن کا وسطی پنجاب سے صفایا ہو گیا تو اپوزیشن کا اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا؟ خدانخواستہ شدید ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں ریاستی مشینری بے بس ہو گئی اور سول حکومت حالات پر قابو نہ پا سکی تو مداخلت کے مضمرات کیا ہوں گے؟ وہی جس کی طرف فیصل واڈوا نے اشارہ کیا تو میڈیا پر ہلچل مچ گئی، یعنی کالے کرتوتوں والے چار پانچ ہزار بکروں کی قربانی اور ایوب خان و ضیاء الحق کی طرح امن و استحکام یا کچھ اور؟ بھارت نے کشمیر میں فوجی راج سے دنیا میں بدنامی کمائی اور پاکستان کو سفارتی جارحیت کا موقع فراہم کیا، ایسے حالات پیدا کر کے پوزیشن عمران خان سے حساب چکائے گی یا ملک کو بھارت کی سطح پر لا کھڑا کرے گی۔ اس سوال کا جواب مذاکرات سے انکاری اور استعفے پر مُصر مولانا کے ذمہ ہے، ریاست کو چیلنج کرنے والوں کا حشر چند سال سے پوری قوم دیکھ رہی ہے۔ مولانا حکومتی پیشکش کو غنیمت سمجھیں اور عزت "سادات" بچائیں۔ شیخ رشید کے بقول فیس سیونگ پر اکتفا کریں کہ رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے، دستور بھی ہے۔ حکومت نے لچک دکھائی، اچھا کیا، اب مولانا کی باری ہے۔