Friday, 15 November 2019

Un Dono Mein Farq Kya Hai?

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73 ویں سالانہ اجلاس(جو ستمبر2018ء میں ہوا تھا) میں بھارت کی سابقہ وزیر خارجہ آنجہانی سشما سوراج کی اس تقریر کا مکمل ریکارڈ موجود ہے، جسے دنیا کے ہر ملک کے نمائندے نے سنا بھی اور اس کی کاپی کو اپنے پاس محفوظ بھی کیا۔ سشما سوراج نے جنرل اسمبلی میں انتہائی جارحانہ انداز سے کہا تھا کہ بھارت نے بھی اب فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ دہشت گردی کا جواب دہشت گردی سے دے گا۔ کیا ہماری وزارت ِخارجہ سمیت قومی اداروں کو یا پھر وزیر اعظم کے بہت ہی قریب کسی سیا سی طاقت نے سشما سوراج کے اس بیان پر دنیا بھر کو متوجہ کرنے کا کہا؟ کیونکہ اس قسم کی خبریں وزارتِ ِخارجہ اور کچھ دوسرے اداروں میں ہلکی ہلکی سرگوشیوں میں سنائی دیتی رہی ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس بیان کو، جو اس وقت کی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے گھر کی کسی تقریب یا کسی بندکمرے میں ہونیوالے سیمینار سے کئے جانے والے خطاب میں نہیں، بلکہ205 ممالک کے نمائندگان کی مو جودگی میں دیا تھا، کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جاتا، کیونکہ سشما سوراج نے دنیا بھر کے سامنے اعتراف کیا کہ بھارت اپنے مقابل ہمسایہ ممالک میں مبینہ دہشت گردی کروانے جا رہا ہے۔  

کیا دنیا کا کوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں، جو بھارت کے اس سرکاری بیان کے حوالے سے مبینہ دہشت گردی کے فیصلے کو فنا نشل ایکشن ٹاسک فورس میں پیش کرتا۔ یہ دہشت گردی ختم کرنے کی بات نہیں، بلکہ دہشت گردی کی حمایت تھی، جس پر بھارت اب تک سری لنکا، بنگلہ دیش سمیت نیپال اور پاکستان میں کارفرما ہے۔ ایجنڈے تو اور بھی بہت ہیں، لیکن سب سے ہاٹ موضوع پاکستان کا گرے لسٹ سے نکلنے کا ہے، جس پر بھارتی سرکار کافی پریشان ہے۔ پاکستان پرپابندیاں لگوانے کیلئے وہ ہر اس حد تک جا چکا، جو کسی بھی ملک پر ایٹمی حملے سے کم نہیں۔ اس لئے بھارت کیلئے نرم گوشہ یا اس کے ایجنڈے کو سپورٹ کرنے والے کسی بھی شخص یا ادارے سے ہر پاکستانی دلی طور پر نفرت کرے گا۔ پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا13 اکتوبر تا 18 اکتوبر، مسلسل چھ دن کیلئے اجلاس جاری ہے اور اس اجلاس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ 16 اکتوبر سے عوامی جمہوریہ چین کے Xiangmin Liu اجلاس میں Presidencyکے مختار کل اختیارات کے ساتھ شریک ہیں۔ چھ دن تک مسلسل جاری رہنے والے اس اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کا باقاعدہ اعلان 18 اکتوبر یعنی آج کیا جائے گا، لیکن دنیا بھر کو حیران کرنے کیلئے چونکا دینے والی رپورٹس برصغیر پاک وہند کے دو اخبارات نے FATF کے حالیہ اجلاس کے پہلے دن سے ہی دینا شروع کر دی ہیں، بلکہ یہ کہنا بہتر ہو گا کہ پہلے دن کے اجلاس میں ہونے والے وقفے کے بعد ہی بریکنگ نیوز کے طو رپر اپنی اپنی جگہ پر ایک ہی قسم کی سٹوریز، سپیشل کہتے ہوئے فائل کرنا شروع کر دیں، جس نے فنانشل ٹاسک فورس کی اہلیت اور جانبداری پر کئی سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ ان انگریزی اخبارات میں سے ایک کا تعلق بھارت، جبکہ دوسرے کا پاکستان سے ہے۔ بھارت کی ملٹری انٹیلی جنس اور راء کی دی گئی کہانیاں شائع کرنے والا بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے نام سے شائع ہوتا ہے، جبکہ پاکستان کے انگریزی اخبار کا نام خفیہ ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے متعلق یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ وہ اپنے ملک کی خفیہ ایجنسیوں اور پردھان منتری کے دفتر سے جاری کیے جانے والے ڈائریکٹو زکو اپنے صفحات پر شائع کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ اس لئے اس کی فائل کی گئی سٹوری دیکھ کر سمجھ آجاتی ہے کہ یہ کن کے کہنے پر شائع گئی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا نے اپنی 14 اکتوبر کی اشاعت میں لکھا کہ " فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اس اجلاس میں شامل رکن ممالک میں سے کسی نے بھی پاکستان کیلئے نرمی اور ہمدردی کاا ظہار نہیں کیا اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے کہے گئے وہ الفاظ سچ ثابت ہو رہے ہیں کہ وہ پاکستان کو دنیا بھر میں تنہا کر دیں گے"۔ کیا بھارتی میڈیا اور ہمارے کچھ نادان دوست یہ بتانے کی سازشیں کر رہے ہیں کہ چین، ترکی ا ور سعودی عرب، نیوزی لینڈ اور برطانیہ جیسے ممالک بھی پاکستان سے کنارہ کشی کر گئے ہیں؟کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ امریکہ ایسے موقع پر پاکستان کیخلاف اس حد تک جا سکتا ہے؟ہاں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے جال میں لانے والا امریکہ ہی ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں امریکہ، پاکستان کو وہاں تک لے جانے کی کوشش نہیں کرے گا، جس سے مشرق ِوسطیٰ سمیت ایشیا میں اس کی اپنی تمام پالیسیاں چوپٹ ہو کر رہ جائیں۔  

پاکستان کے انگریزی اخبار نے بھی اسی دن کی اشاعت میں بالکل یہی الفاظ شائع کیے۔ ان دونوں اخبارات نے ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ 14اکتوبر کو سناتے ہوئے لکھا ہے کہ " پاکستان کو گرے لسٹ سے ڈارک گرے لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے اور ڈارک گرے لسٹ، وہ آخری وارننگ ہوتی ہے، جس میں پاکستان کو کہا جائے گا کہ دہشت گردی اور منی لانڈرنگ سمیت تمام معاملات کو درست کرلے، ورنہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا جائے گا، کیونکہ اس نے فورس کی جانب سے دی گئی 27 ہدایات میں سے صرف 6پر عمل کیا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور اقوام متحدہ سمیت ہیومن رائٹس اور دنیا بھر کی تمام یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینک جیسے اداروں کے کان، آنکھیں اور زبانیں کیا اس قدر بند ہو چکی ہیں کہ انہیں اپنے ارد گرد ہونے والی کوئی بات نہ تو سنائی دیتی ہے اور نہ ہی وہ کچھ دیکھنے، سوچنے اور بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان سب کے سامنے بھارتی وزیر اعظم کے مشیر اجیت ڈوول کے کالجز اور یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کے سیمینار سے کئے جانے والے خطاب کی ایک نہیں، درجنوں تقاریر ایسی ہیں، جن میں وہ کھلم کھلا کہہ رہا ہے کہ وہ پاکستان کوکسی جنگ سے نہیں، بلکہ اس کے اندر دہشت گردی کروا کر ختم کریں گے، کیونکہ اس کیلئے ان کے پاس پاکستان کے اندر سے لوگ بھی موجو دہیں اور سہولت کار بھی۔ بھارت اپنے دشمن ملک کے اندر دہشت گردی اور انارکی پھیلا کر اسے پہلے کمزور اور پھر ختم کرے گا۔ بھارت کو کیا پڑی ہے کہ وہ جنگ کی تباہ کاریوں کا سامنا کرے، کیونکہ اس وقت جنگ کا مطلب ہو گاکہ بھارت کی مکمل تباہی جو نریندر مودی اور میرے مشن کا حصہ نہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اراکین کی کل تعداد39 ہے اور ان میں دو ارکان کا تعلق (دی گلف کوآپریشن کونسل اینڈ یورپین کمیشن) سے ہے اور سعودی عرب وہ واحد عرب ملک ہے، جسےFATF کی رکنیت دی گئی ہے، اس کے علا وہ آسٹریلیا، ارجنٹائن، آسٹریا، بیلجئیم، برازیل، کینیڈا، چین، ڈنمارک، نیدر لینڈ، برطانیہ، فن لینڈ، فرانس، جاپان، روس، سنگا پور، جنوبی کوریا، سپین، سویڈن، سوئٹزر لینڈ، ترکی، امریکہ، بھارت، آئر لینڈ، پرتگال، ناروے، نیوزی لینڈ، ملائیشیا، میکسیکو، جرمنی، یونان، آئس لینڈ، اٹلی، اسرائیل شامل ہیں۔ ان ممالک کے علا وہ آئی ایم ایف، اقوام متحدہ، عالمی بینک اور دوسرے مالیاتی اداروں کے نمائندے شریک ہیں، جو متعلقہ ممالک کے بارے میں رپورٹس سننے اور پڑھنے کے علا وہ متعلقہ ممالک سے اپنے حاصل کئے گئے نتائج بھی فورم کے سامنے پیش کریں گے۔