Friday, 18 October 2019

Sabab Kuch Aur Hai Jis Ko To Khud Samjhta Hai

کراچی، کچرا کنڈی کیسے بنا؟ لیاقت قائم خوانی کی گرفتاری نے سب کچھ طشت ازبام کر دیا۔ مالی کے طور پر بھرتی ہونے والے شخص کے بطور ڈائریکٹر پارکس تقرر پر کم از کم مجھے اعتراض نہیں، یہ کہیں نہیں لکھا کہ کوئی کلرک ترقی نہیں کر سکتا یا مالی محنت، ریاضت، اثرورسوخ اور تعلقات کی بنا پر آگے نہیں بڑھ سکتا، غریب گھرانے کے لوگ بھی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر زندگی کی دوڑ میں دوسروں سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ غلام اسحق خان، جنرل موسیٰ خان اور بابائے سوشلزم شیخ رشید احمد کلاسیکل مثال ہیں۔ مگر تحت الثریٰ سے اوج ثریا تک پہنچنے والے ان تینوں افراد نے ترقی کے سفر میں نہ تو محلات کھڑے کئے نہ گھر کی تجوریوں سے اربوں روپے مالیت کے ہیرے جواہرات اور درہم، دینار برآمد ہوئے اور نہ دنیا جہاں کی مہنگی گاڑیوں سے اپنے پورچ کی شان بڑھائی۔ غلام اسحق خان تو صدر پاکستان کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچنے کے بعد بھی ان آلائشات سے محفوظ رہے جو ہماری سیاسی اور حکومتی اشرافیہ کا طرہ امتیاز ہے، اقربا پروری، دوست نوازی، شاہ خرچی اور نمودونمائش۔ صدر کا منصب سنبھالا تو ایوان صدر میں منوں کے حساب سے روزانہ گوشت کی خریداری کا پتہ چلا۔ ایوان صدر کے مہمان صبح، دوپہر، شام شکم سیری کرتے اور صدر مملکت کی فیاضی و مہمان نوازی کے گن گاتے۔ غلام اسحق خان نے یہ فضول خرچی بند کرنے کا حکم دیا اور کفائت شعاری کی ہدایت کی۔ لیاقت قائم خانی مگر سولہواں گریڈ ملنے سے پہلے ہی بے قابو ہو گیا، ایک سرکاری اہلکار جس نے آخری تنخواہ صرف ایک لاکھ پچیس ہزار روپے وصول کی چند سالہ ملازمت میں کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیوں، اس سے کہیں زیادہ مالیت کے بنگلوں، سونے، جواہرات اور دیگر لگژری اشیاکا مالک کیسے بنا؟ یہ کوئی سربستہ راز نہیں۔

پرانی کہاوت ہے کہ بادشاہ اگر کسی کے باغ سے ایک سیب بھی بلا اجازت توڑے تو لشکری پورا باغ اجاڑ دیتے ہیں کہ اب ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ جس صوبے میں وزیر، مشیر اور میئر بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور بلدیہ ٹائون جیسے سنگین جرائم میں ملوث اور شریف شہریوں، کاروباری برادری اور سرکاری خزانے سے لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک مافیا چیف کی خدمت میں پیش کرنے کے عادی ہوں، صدر، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز سیاستدان کروڑوں روپے روزانہ کی دہاڑیاں لگا رہے ہوں وہاں لیاقت قائم خوانی جیسے کئی ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں گے کہ ع

رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کسی متشرع، دیندار، بااصول اور بظاہر دیانتدار کارکن سے بھی پوچھیں تو جواب یہی ملے گا کہ آصف علی زرداری، میاں نواز شریف، خورشید شاہ، فواد حسن فواد اور احد چیمہ میں سے کسی نے کبھی قومی خزانے میں ایک پائی کی خیانت کی نہ اپنے کسی دوست، رشتے دار اور کارکن کو ناجائز طور پر نوازا اور نہ اپنے اندرون و بیرون ملک اثاثوں میں اضافہ کیا۔ لوگ مگر حیران ہیں کہ ہمارے سول اور فوجی حکمران، ان کے بستہ بردار اور قصیدہ گو سارے کے سارے امانت و دیانت کے پتلے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ قومی خزانے پر پہرا دیا تو پچھلے پچیس تیس برسوں میں ملک و قوم کنگال کیوں ہوئے اور سارے حکمران خاندانوں کی دولت و امارت میں دن دوگنی، رات چوگنی ترقی کیسے ہوتی رہی۔ سٹیل کے کاروبار سے وابستہ حکمرانوں کے دور میں پاکستان سٹیل مل بند ہو گئی۔ ذاتی ایئر لائن کی مثالی ترقی کو اپنی کاروباری و انتظامی اہلیت و صلاحیت کے طور پر پیش کرنے والے وزیر اورپھر وزیر اعظم کی نگرانی میں پی آئی اے دیوالیہ پن تک کیسے پہنچی اور برس ہا برس تک فل ٹائم سیاست کرنے یا کرپشن کے الزام میں جیلیں بھگتنے والے حکمران کی شوگر ملوں کی تعداد جدی پشتی شوگر مل مالکان سے چار پانچ گنا کیسے بڑھ گئی، ع

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

خورشید شاہ اور لیاقت قائم خانی کے اثاثوں کی تفصیل پڑھ کر کراچی اور سندھ کی تباہی و بربادی کے اسباب کا پتہ چلتا ہے، اگر پارکوں کی دیکھ بھال پرمامور سولہویں گریڈ کا افسر اربوں روپے کے اثاثے بنا سکتا ہے تو جن کے پاس فنڈز اور اختیارات زیادہ ہیں انہوں نے کس قدر دریا دلی سے بلدیہ کراچی کے وسائل کو لوٹا ہو گا اور مذہبی اُمور کا وزیر اگر چند برسوں میں دولت مند بن سکتا ہے تو دیگر وزراء کرام، مشیران عظام وزیر اعلیٰ وغیرہ نے سندھ کے صوبائی خزانے پر کیوں ہاتھ صاف نہیں کئے ہوں گے۔ پچھلے سال انتخابی مہم کے دوران 92نیوز کی ٹیم نے سید خورشید شاہ کے حلقے کا دورہ کیا تو ہوشربا انکشافات ہوئے۔ ہسپتال ہے مگر دوائیاں نہ کوئی دوسری سہولت، ایک کھٹارہ سی ناقابل استعمال ایمبولینس موجود مگر کاغذات میں پانچ ایمبولینسز کا اندراج، سکول رشتہ داروں کے ڈیرے میں تبدیل اور سرکاری ملازمین، ذاتی و سیاسی خدمت پر مامور۔ محتاط ترین اندازے کے مطابق حلقے میں پچاس ارب روپے سے زائد مالیت کے منصوبے مکمل ہوئے مگر صرف کاغذوں میں، حلقے کے عوام شاکی مگر کیمرے کے سامنے آنے سے معذور کہ شاہ صاحب کے کارندے زندہ درگور کر دیں گے یا بیوی بیٹی اٹھوا کر انتقام لیں گے۔ دعویٰ مگر شاہ صاحب کا یہی ہے کہ انہوں نے کبھی امانت میں خیانت نہیں کی، صرف دس سال میں مکمل ہونے والے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں نیب سوال کرے گی تو جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی اور ساری حلیف سیاسی و مذہبی جماعتیں شاہ صاحب کو معصوم عن الخطا ثابت کرنے پر تل جائیں گی۔

اسی لوٹ مار اور سنگدلی کا نتیجہ ہے کہ لاڑکانہ کے ہسپتال میں کتے کے کاٹے کا انجکشن دستیاب نہ ہونے پر غریب کا بچہ میر حسن ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ماں کی گود میں جان دے دیتا ہے۔ قصور اس کا صرف یہ تھا کہ وہ بھٹو تھا نہ زرداری اور نہ میر و مخدوم، چانڈ کا میڈیکل کالج میں نمرتا کی موت واقع ہوتی ہے مگر قاتلوں کا پتہ نہیں چل پاتا کہ یہ عام آدمی کا کارنامہ نہیں کسی نہ کسی جاگیردار، وڈیرے اورمنتخب عوامی نمائندے کا بیٹا، بھانجہ، بھتیجا، یا چہیتا ملوث ہو گا جس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی پولیس افسروں کے بس میں نہیں۔ جمہوریت کا حسن یہ ہے کہ لیاقت قائم خانی ہو، خورشید شاہ، سراج درانی، شرجیل میمن یاکوئی اور، اس کی بے نامی جائیدادیں نکلیں، گھروں سے ہیرے جواہرات، قیمتی گاڑیاں اور اربوں روپے کی نقدی برآمد ہوں، انہیں قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ کسی نہ کسی سیاسی قبیلے کا حصہ بن چکے ہیں اور یوں ان کے سات کیا سات سو خون معاف ہیں۔ رہے مظلوم اور ستم رسیدہ عوام تو وہ بھی شریک جرم ہیں کہ ان کے بچے ان پڑھ جاہل رہیں، بھوکے مریں یا کینسر، تپ دق، یرقان اور پاگل کتے کے کاٹے سے لقمہ اجل بنیں ان کی بلا سے۔ ووٹ وہ ہمیشہ ان ظالموں اور لٹیروں کو دیں گے، نعرے صدا انہی کے لگائیں گے، اپنے حق کے لئے کبھی سڑکوں پرنہیں نکلیں گے، حکمران اشرافیہ اور ظالم وڈیروں پر بُرا وقت آئے تو باشعور عوام سینہ کوبی بلکہ خود سوزی کے لئے تیار ملیں گے۔ الطاف حسین نے عروس البلاد کراچی کو کھنڈر بنا دیا، بھٹو کے نام لیوائوں نے سندھ کو ایتھوپیا میں تبدیل کر دیا مگر کراچی اور سندھ کے عوام اب بھی مالا انہی کی جپتے ہیں، صرف ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نہیںدیگر سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ کا کمال یہ ہے کہ سارے وسائل لوٹ کر اپنی تجوریوں میں بھر لئے، اندرون و بیرون ملک جائیدادوں کی خریداری پر خرچ کر دیے مگر رونا ہمیشہ یہی رویا، گلہ یہی کیا کہ پاکستان نے انہیں کچھ نہیںدیا۔ سندھ کو کھنڈر اور کراچی کو کچرا کنڈی بنانے کے لئے معلوم نہیں کتنے کھرب روپے مزید درکار ہیں اور لیاقت قائم خانیوں کا پیٹ کتنے کلو ہیرے جواہرات، کس برینڈ کی گاڑیوں اور کتنے ارب ڈالروں، روپوں اور درہم و دینار سے بھر سکتا ہے اللہ جانے۔