Friday, 15 November 2019

Terror Tequila Aur Chichen Itza Ka Azeem Ihram (2)

میرے تصور میں اک تصویر تھی کہ بہت گھنے جنگل دکھائی دیں گے اور ان کی ہر بادل میں سے سر بلند ہوتا مایا تہذیب کا عظیم اہرام چچن اتزا دور سے نظر آنے لگے گا پر ایسا نہ ہوا۔ حسب معمول ہم ایک ایسی پارکنگ لاٹ میں داخل ہو گئے جہاں درجنوں کوچیں اپنے اپنے مسافر اگل کر استراحت فرما رہی تھیں۔ مقامی مصنوعات کی ایک جدید مارکیٹ اور ریستورانوں سے پرے ایک ناہموار راستہ تھا جس کے دونوں جانب سوونیئرز کے کھوکھے سجے تھے اور قریب سے گزرتے سیاحوں کو ورغلایا جا رہا تھا۔ یہ مایا بازار ختم ہوا تو اس کے آس پاس جو گھنے شجر تھے وہ بھی پیچھے رہ گئے اور آسمان نزدیک آنے لگا۔ منظر پھیل گیا اور اس منظر کے عین درمیان میں چچن اتزا کا بلند اہرام اور دیو ہیکل دیوتا کی مانند جیسے ہماری نظروں کے سامنے تعمیر ہوتا گیا، یہاں تک کہ مکمل شکل میں ایستا وہ دکھائی د ینے لگا۔ یقینا یہ ایک عجب ساخت کی بھید بھری قدیم عمارت تھی، اہرام مصر کی مانند محض پتھروں کا ڈھیر نہ تھی بلکہ ایک خصوصی نقشے کے مطابق بادشاہ کے متمکن ہونے کے لیے، دیوتائوں کی قربت کے لیے، موسموں اور ستاروں کی جانچ کے لیے اور انسانی قربانی کے لیے خصوصی طور پر تعمیر کی گئی تھی۔ میں اس کی تکونی ساخت سے اس لیے بھی متاثر ہوا کہ آج جتنی بھی تہذیبیں میرے مشاہدے میں آئی تھیں یہ ان سب سے سراسر مختلف تہذیب کی نمائندہ عمارت تھی جس میں ایک انوکھا عجب پن اور اجنبیت تھی جو کشش تو رکھتی تھی لیکن اس میں ایک ہول بھی تھا۔ وسوسے تھے کہ کیا مایا تہذیب کی مانند اس کے خدا بھی متروک ہو گئے کہ نہیں۔ میں کسی حد تک اپنے خطوں کے خدائوں سے تو کچھ واقفیت رکھتا تھا لیکن امریکی براعظم کا یہ حصہ اور اس کے خدا میرے لیے یکسر اجنبی تھے.ویسے خدا یکسر متروک نہیں ہو جاتے، کسی ایک خطے میں ان کے پجاری نابود ہوتے ہیں یا ان سے برگشتہ ہو جاتے ہیں تو وہ اپنا بوریا بستر سمیٹ کر وہاں سے رخصت ہو کر کہیں اور ظاہر ہو جاتے ہیں۔ روایت ہے کہ لات و منات میں سے کسی ایک نے خانہ کعبہ سے نکالے جانے کے بعد سومنات میں جا پناہ لی۔ اپالو یونان سے نکلا تو گندھارا تہذیب کے بدھ کی صورت اختیار کر لی۔ ادھر شومہاراج نکلے اور تبت میں جابسرام کیا۔ دراصل انسانی نفسیات میں جب کوئی ایک خدا یا دیوتا ثبت ہوتا ہے تو وہ آسانی سے رخصت نہیں ہوتا۔ اس کے آثار کسی نہ کسی صورت باقی رہ جاتے ہیں اور اس کی مثالیں دینا میرے لیے مشکلیں پیدا کر سکتا ہے۔ جیسے ایک بڈھا ہندو مسلمان ہو گیا۔ اگلی سویر حسب عادت گڈوی بجاتے ہوئے رام رام کرنے لگا اور جب کسی نے سرزنش کی کہ اللہ اللہ کرو تو وہ کہنے لگا۔ اب صرف ایک شب میں اسی برس سے جس رام کی پوجا کی ہے وہ کیسے میرے بدن سے نکل جائے۔ کبھی مزاروں اور درگاہوں پر جا کر دیکھئے۔ پوجا اور پرستش کے وہی انداز چلے آتے ہیں جو کہ تھے تو پھر مایا دیوتا کہاں چلے گئے، کونسا روپ دھار چکے ہیں؟ میں نے اہرام کے گرد ایک چکر لگا کر اس کی بلندی اور عجب تعمیر کو اپنے ذہن میں اتارا اور جب انسانی قربانی کے بعد پروہت اس انسان کا سر سیڑھیوںپر یوں پھینکتے تھے کہ وہ لڑھکتا ہوا زمین پر جا گرتا تھا تو کہاں جا گرتا تھا، جہاں میں کھڑا تھا وہاں آ گرتا ہو گا۔ مجھے جھرجھری سی آ گئی اور میں پیچھے ہٹ گیا۔ یونہی جوگرز کو دیکھا کہ کہیں ان پر تازہ خون تو نہیں لگ گیا.چچن اتزا اہرام کے نواح میں مایا تہذیب کے دیگر کھنڈروں کا بھی ایک سلسلہ تھا اور ان میں کھیلوں کے لیے مخصوص ایک اکھاڑا بھی تھا جہاں آج کے باسکٹ بال سے مشابہ ایک کھیل بادشاہ اور عوام کا پسندیدہ تھا اور ہاں اس کھیل میں جیت جانے والے کھلاڑی کے گلے میں ہار نہیں ڈالتے تھے بلکہ تلوار سے اس کا گلا کاٹ دیا جاتا تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ہر کھلاڑی کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ جیت جائے اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا جائے۔ مایا لوگ بے حد پستہ قد تھے اور وہ ابھی دھات سے آشنا نہ ہوئے تھے۔ انہوں نے صرف ایک سخت پتھر سے تراشیدہ خنجروں سے زمینیں کھودیں اور اتنی شاندار عمارتیں تعمیر کیں۔ چچن اتزا سے واپسی پر ہم کچھ دیر کے لیے میکسیکو کے ایک قدیم قصبے کی خوشنمائی میں ٹھہرے۔ جس کا نام ولاڈولڈ تھا۔ ہمیں شاید پہلی بار محسوس ہوا کہ ہم اس میکسیکو میں ہیں جو ہمارے تصور میں تھا۔ سان جرواسیو کا پرشکوہ کلیسا، گٹاریں بجاتے ہوئے لوگ، خواتین بالوں میں سرخ پھول لگائے ہوئے اور ہسپانیہ کی ہوائوں کی خوشبو. ہم گئی رات واپس کین کون پہنچے۔ ریزارٹ کے فرانسیسی ریستوران میں ایک پرتکلف کھانا موم بتیوں کی روشنی میں کھایا اور اگلی سویر اپنے بیس کیمپ آرلینڈو کی جانب پرواز کر گئے۔

"تمہارے بال جنگل میں گم ہو گئے ہیں

تمہارے پائوں، میرے پائوں کو چھوتے ہیں

دریا جو ہمیشہ بہتا ہے، واپس لینے لگا ہے

کیا کل ایک اور دن ہوگا؟

(ختم شد)

About Mustansar Hussain Tarar

Mustansar Hussain Tarar is a Pakistani author, actor, former radio show host, and compere.

He was born at Lahore in 1939. As a young boy he witnessed the independence of Pakistan in 1947 and the events that took place at Lahore. His father, Rehmat Khan Tarar, operated a small seed store by the name of "Kisan & co" that developed to become a major business in that sphere.

Tarar was educated at Rang Mehal Mission High School and Muslim Model High School, both in Lahore. He did further studies at the Government College, Lahore and in London.