Sunday, 22 September 2019

Hukumat Ka Pehla Saal

نئے پاکستان کا ایک سال مکمل ہو گیا، حکومتی ترجمان محترمہ فردوس عاشق اعوان جو اپنے منصب کے تقاضوں کے مطابق ہر وقت میڈیا پر رطب اللسان رہتی ہیں، کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے ایک سال میں استحکام کی بنیا د رکھ دی گئی ہے اور اگلا برس تعمیر کا ہے جبکہ ان کی رقیب مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق گزرا سال ایک بھیانک خواب ہے۔ یقینا تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سال میں کامیابی کے کوئی زیادہ جھنڈے نہیں گاڑے گئے لیکن یہ کہنا مبنی بر انصاف نہیں ہو گا کہ موجودہ حکومت نے اپنے ایک سالہ دور اقتدار میں کچھ نہیں کیا۔ یقینا تحریک انصاف کے نئے پاکستان میں تبدیلی آئی ہے لیکن کتنی مثبت اور کتنی منفی یہ الگ بات ہے۔ حکومت کا عوام کو ٹیکس نیٹ میں لانا ایک مثبت جہت ہے لیکن اس کے ثمرات فوری طور پر تو نظر نہیں آئیں گے، اگلے برس کے لیے ریونیو کا ٹارگٹ قریباً 5ہزار ارب روپے سے زیادہ رکھا گیا ہے۔ اگر پچھلے سال کے تاریخی خسارے کوملایا جائے تو اسے حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔ خان صاحب کی دوسری کامیابی سادگی کا درس دینا اور اس پرکسی حد تک خود عمل کرنا بھی ہے۔ ایک برس بیت جانے کے باوجود ان کے یہ بلند بانگ دعوے کہ وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنا دیں گے، وزیراعظم ہاؤس یونیورسٹی تو نہ بن سکا لیکن ایک شادی گھر ضرور بن گیا۔ اسی طرح گورنر ہاؤس لاہور میں چودھری سرور دھڑلے سے براجمان ہیں اور باقی گورنر ہاؤسز کی بھی یہی صورتحال ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات جو گزشتہ مالی سال میں 1092 ملین روپے تھے نئے بجٹ میں 1171 ملین روپے کر دئیے گئے ہیں۔ ویسے سادگی کے اس قسم کے دعوے روزاول سے ہی قابل عمل نہیں تھے لہٰذا اس ضمن میں وزیر اعظم کو مطعون کرنا مبنی بر انصاف نہیں ہو گا۔

اصل بات تو یہ ہے کہ اگر باقی اعداد وشمار کا جائزہ لیا جائے تو حکومتی اخراجات میں کوئی قابل ذکر کمی نہیں ہو ئی۔ اس کے باوجود کہ موجودہ حکومتی ٹیم میں بعض ایسے وزراء بھی شامل ہیں جن کاماضی بے داغ نہیں ہے اوران کی ماضی کی کرپشن سے مسلسل صرف نظر برتا جا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان خود ایک ایماندار لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں، اسی لیے ایک برس میں حکومت یا حکومتی ٹیم کا کوئی بڑا سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ حکومت کی اصل کا میابی خارجہ محاذ پر ہے، امریکہ کے سا تھ تعلقات کا پانچ سال کا جمود ٹوٹ چکا ہے اور یہ اس لیے ہے کہ پاکستان افغانستان سے امر یکی فوجیوں کے عنقریب انخلا کے لیے امریکہ، طالبان اور افغان حکومت سے بات چیت کروانے کے لیے کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی ظالمانہ پالیسیوں کے نتیجے میں حکومت سنٹرل سٹیج پرآ گئی ہے اور اس حوالے سے پاکستان اور چین کی کوششوں سے بندکمرے میں سہی پچاس برس بعد سکیورٹی کونسل کا اجلاس ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ امریکہ اور روس نے معاملات کی نزاکت کا بہانہ بنا کر اس اجلاس کے بعد کوئی اعلامیہ نہیں جاری ہونے دیا اور اس پر مستزاد یہ جواز دہرایاکہ دونوں ملک آپس میں بات چیت کریں۔ کشمیر میں مظالم کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر جو ہا ہا کار مچی ہوئی ہے اسے پاکستان کے حق میں استعمال کرنے کے لیے کافی کاوشیں کی جا رہی ہیں جو قابل قدر ہیں لیکن سب سے بڑھ کر سابق حکومتوں کے برعکس خان صاحب کی سب سے بڑی کامیابی ان کا فوجی قیادت کے ساتھ بہتر تال میل اورایک ہی صفحے پرہونا ہے۔ اسی بنا پر وزیر اعظم نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین برس کی توسیع کر دی ہے۔ ملک میں اور اردگرد سکیورٹی کی صورتحال کا بھی یہی تقاضا تھا۔ خان صاحب اپنے پیشرو میاں نوازشریف کے برعکس ہر معاملے پر فوجی قیادت کو آن بورڈ رکھتے ہیں۔ اسی لیے کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوتا بلکہ ناقدین کے مطابق اتنی قربت سے کچھ پیچیدگیاں بھی پیدا ہوئی ہیں۔

اس حکومت کی ناکامیاں گنوائی جائیں تو سب سے بڑی ناکامی ایک برس میں مہنگائی، بے روزگاری اور کساد بازاری کے سوا عوام کو کچھ نہیں ملا، نہ ہی صنعت کار کا ہواپہیہ چل سکا۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ تقریباً چالیس فیصد اضافے کے باوجود برآمدات میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوسکا۔ خان صاحب نے اپنے پیشرو میاں نواز شریف کی طرح دعویٰ کیا تھا کہ وہ کشکول توڑ دینگے بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بجائے خود کشی کرلوں گا۔ لیکن گزشتہ ایک برس میں ریکارڈ 12۔ ارب ڈالر کے قرضے لئے گئے۔ اسی حوالے سے بہت بڑی تشنگی ابھی تک ایک فعال ٹیم کا فقدان ہے۔ اقتصادی شعبے کو لیں تو ابتدائی طور پر اسد عمر بطور وزیرخزانہ خان صاحب کی آنکھ کا تارا تھے۔ اکثر اقتصادی مشیروں کا اصرار تھا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں جانے کی فوری ضرورت ہے لیکن اسد عمر مصر تھے کہ آئی ایم ایف کے بغیر گزارا ہو جائے گا۔ اس طرح حکومت نے8ماہ اسی بحث میں ضائع کر دیئے اور اس کے بعد صورتحال اتنی بدتر ہو گئی کہ نئی اقتصادی ٹیم جو ڈاکٹر حفیظ شیخ بطور مشیر خزانہ، شبر زیدی چیئرمین ایف بی آر اور ڈاکٹر رضا باقر بطور گورنر سٹیٹ بینک پر مشتمل تھی، بالکل ہی آئی ایم ایف کے سامنے لیٹ گئی۔ اب ہم آ ئی ایم ایف کے ہاتھوں 6ارب ڈالر کے لئے پیشگی شرائط میں بری طرح جکڑ کر رہ گئے ہیں۔ امریکہ میں صدارتی نظام ہے، جب ایک نئی پارٹی کا صدر منتخب ہوتا ہے تواس کی ٹرم کے پہلے دوسال میں حکومت یہی کہتی رہتی ہے کہ پچھلی حکومت بیڑہ غرق کر گئی پھراگلے دوسال اسے اپنی کارکردگی پرچلنا پڑتا ہے۔ ہماری موجودہ حکومت جو ایک پارلیمانی نظام کے تحت ہے طوطے کی طرح مسلسل یہ رٹ لگائے رکھتی ہے کہ پاکستان کی جملہ خرابیوں کی ذمہ دار گزشتہ سیاسی حکومتیں ہیں حالانکہ ایک سال بعد انہیں اپنی کارکردگی کے بل بوتے پر بات کرنی چاہئے۔ حکومت کی ایک اور بڑی خامی جس کا جمہوریت سے گہرا تعلق ہے وہ ملک میں اپوزیشن کے ساتھ تال میل نہ ہوناہے جس کے نتیجے میں ملک میں سخت قسم کی محاذ آرائی ہے، بالکل اپنے پیشرو کی طرح وزیر اعظم اجلاس کے دوران پارلیمنٹ میں آنے سے مسلسل اجتناب برت رہے ہیں حتیٰ کہ کشمیر جیسے اہم معاملے پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وہ اپنی سنا کر اور اپوزیشن لیڈر کی تقریر سن کر چلے گئے تھے۔ شریف فیملی سمیت مسلم لیگ(ن) کی صف اول کی قیادت قریباً سبھی جیل میں ہیں۔ آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ سمیت پیپلزپارٹی کی لیڈ رشپ کا بھی یہی حال ہے۔ جب دیکھا گیا کہ محترمہ مریم نواز بڑے بڑے جلسے کررہی ہیں توان کو بھی ایک نئے کیس میں اندر کر دیا گیا۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر ہر وقت اپوزیشن کا میڈیا ٹرائل کرتے رہتے ہیں اورساتھ ہی یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نیب تو بالکل آزاد ہے۔ ہمارا اس سے کیا تعلق لیکن دوسری طرف شامل اقتدار بعض حضرات جن کی کرپشن کے بارے میں نیب نشاندہی بھی کرچکا ہے دندناتے پھر رہے ہیں۔

حکومت کی سب سے بڑی خامی ملک کے اندر اس احساس کا جاگزین کرجانا ہے کہ آزادی اظہار تقریر و تحریر پرناروا پابندیاں عائد ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ معاون خصوصی اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتیں کہ پاکستان میں تومیڈیا آزاد ہے۔ ایسا تو آمریتوں کے دور میں بھی ہوتا تھا لیکن معلوم تھا کہ حکمرانوں کو آزادی اظہار سے الرجی ہے۔ اسی بنا پر صاف گوئی اور بے باکی برداشت نہیں کی جاتی۔ لیکن اب تو جمہوریت ہے اس ضمن میں بین الاقوامی اور پاکستانی صحافتی تنظیمیں دہائی دیتی رہتی ہیں لیکن کسی کے کان پرجوں تک نہیں رینگتی۔