Sunday, 22 September 2019

Cheeni Karobar Barh Raha Hai?

واشنگٹن کی طرف سے ٹیرف میں اضافے، نیز چین اورامریکہ کے درمیان تجارتی جنگ کے بارے میں کافی حد تک عوام واقف ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں اچانک اعلان کیاکہ یکم ستمبر تک چین سے درآمدی سامان کا 300 بلین ڈالر10 فیصد ٹیرف سے مشروط ہوگا۔ امریکی صدر کے اعلان کے بعد چھوٹی مصنوعات کی ایک وسیع فہرست موجود ہے، جس پرٹیرف کا لاگو ہوناتاخیر کا شکار ہے۔

بڑھتی ہوئی اس ٹیرف جنگ میں، جہاں امریکہ کی توجہ مبذول رہی، جبکہ چین تجارتی طور پر زیادہ مستحکم رہا، لیکن دریں اثناء امریکہ میں چینی سرمایہ کاری میں اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا۔ ڈالر کی مقدار میں فرق آتا رہتا ہے، لیکن گمشدہ بیعانہ اس سے زیادہ اہم ہے، جو اس سرمایہ کاری میں شامل ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی یکطرفہ، پیشہ ورانہ تجارت نے یقینی طور پر بازاروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، لیکن ابتدائی نشانیاںبتاتی ہیں کہ امریکی اقدامات سے گھریلو امریکی معیشت بھی سب سے پہلے متاثر ہوئی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے جلد ہی فیصلہ کیا کہ چین کو دانشورانہ املاک کے حقوق کے تحفظ اور امریکی مصنوعات کی مزید خریداری سمیت ہر چیز پر مراعات دینے پر مجبور کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ نرخوںکا ازسر نو جائزہ لیا جائے اور انہیں خریداری بڑھانے کے ہتھیارکے طور پر استعمال کیا جائے، لیکن یہ صرف نیزہ کی نوک ہے۔ گھریلو امریکی معیشت میں چینی سرمایہ کاری کاا ہم کردارہے، کیونکہ تجارت کے حوالے سے امریکہ معتدل آب و ہوا رکھتا ہے؛ اگرچہ محصولات کی توجہ حاصل کرنے کے باوجود، چینی سرمایہ کاری کو منجمد کرنا، امریکہ کے لیے اس سے بھی زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ محصولات کی اطلاق کے ساتھ ہی اسے آسانی سے تبدیل کیاجاسکتا ہے، لیکن سرمایہ کاری کے بہاؤ کو تبدیل کرنا ایک خراب شدہ ساکھ کی اصلاح کے مترادف ہے، جس چیز کو ختم کرنے میں بہت کم کام کرنا پڑتا ہے، اسے دوبارہ بنانے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

ماحولیاتی آب و ہوا کے معاملات اہم ہیں، کیونکہ امریکی معیشت میں چینیوں کی زیادہ سرمایہ کاری اس سلسلے میں کی گئی، جس پر امریکہ کا قبضہ ہے اور ٹرمپ انتظامیہ اسے پھینک رہی ہے۔ چین مکمل منصوبہ بندی سے اس پر حاوی ہو رہا ہے۔ چین زیادہ مساوی اور کھلی معیشت کی طرف آگے بڑھ رہا ہے۔

آج تک امریکی محصولات بیجنگ کومراعات پر مجبور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، جیسا کہ امریکہ پریشان کن حالت میں ہے، موجودہ ٹیرف کی شرح سپلائی چین یا کھپت کے نمونے میں اچانک تبدیلی چین کو مجبور کرنے کے لیے نہ کافی ہے۔ چین، امریکی زرعی برآمدات میں کمی کے علاوہ، ہر چیز میں، تجارتی جنگ میں، بھاری وزن رکھتا ہے، تاہم جو منجمد نہ رہی، وہ امریکہ میں چینی سرمایہ کاری کی سطح ہے۔ ایک امریکی کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق، 2000ء سے 2018ء کے درمیان، چینی کمپنیوں اور افراد نے تقریباً 140 ارب ڈالرامریکہ میں ڈالے، اس میں زیادہ تر حصہ 2011ء سے 2018 ء کے درمیان کا ہے۔ 2016ء سے رواںسال تک تقریباً 45ارب ڈالر ہے۔ اس میں امریکی رئیل اسٹیٹ کی چینی خریداری شامل نہیں ہے۔ نیشنل ایسوسی ایشن آف ریٹیلرز کے مطابق، چینی افراد، امریکی رہائشی املاک کے سب سے بڑے غیر ملکی خریدار رہے ہیں، جنہوں نے 2015 ء سے 2018ء تک سالانہ اوسطاً 30 ارب ڈالر کا نقصان اٹھایا۔ اس نقصان میںزیادہ تر فلوریڈا، ٹیکساس، کیلیفورنیا اور نیویارک کے علاقے شامل ہیں، جہاں چینی سرمایہ کاروں نے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی ہے۔ اس میںکوئی دو رائے نہیں کہ چین بھی امریکی حکومت کے قرضوں کا سب سے بڑا حامل رہا ہے۔ اس نے جاپان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اس وقت ایک ٹریلین ڈالر کے سرکاری بانڈز رکھے ہوئے ہیں، تاہم پچھلے سال کے دوران، جب سے ٹیرف کی جنگ کا آغاز ہوا، اس کا رخ الٹ رہا ہے۔ چین کی طرف سے امریکی قرضوں میں کمی دیکھی گئی۔ امریکہ میں چین سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری گزشتہ سال کے مقابلے میں 2016ء سے 88 فیصد کم ہوئی ہے۔ رواں سال اس میں مزید بڑھوتری کی کوئی علامت دکھائی نہیںدیتی ہے۔

امریکی یونیورسٹیوں میں 300000 سے زیادہ چینی طلباء اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جن کو ایک تخمینے کے مطابق، امریکی معیشت میں ہر سال 13 بلین ڈالر کا تعاون درکارہوتا ہے، جس بارے2019ء میں بیجنگ نے متنبہ کیا ہے کہ آیا ویزے کے حصول میں بڑھتی مشکلات کی روشنی میں امریکہ ایک مہمان نواز ماحول دے گایا نہیں؟فی الوقت کچھ کہا نہیں جا سکتا اور گزشتہ پندرہ برسوں میں پہلی بار، امریکہ کے لیے چینی سیاحوں سے حاصل ہونے والی رقم میں کئی ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔

یعنی حالت دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں۔ گھریلو امریکی معیشت کو براہ راست نقصان کا سامنا ہے۔ چینی سرمایہ کاری اورامریکہ کے ساتھ باہمی مداخلت کے متعدد دھاروں نے فائدہ اٹھانے اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے اپنی تگ و دو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں سیکڑوں اربوں ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری، چین کے اس طرز عمل کو جاری رکھنا۔ امریکہ کے لیے زیادہ تکلیف دہ بنا رہی ہے۔ امریکی غیر منصفانہ یا نقصان دہ سمجھتے ہیں، جس طرح چین میں امریکی سرمایہ کاری اچھے وقت میں ہوئی، اسی طرح امریکہ میں چینی سرمایہ کاری کا بھی موزوں وقت گردانہ جاتا ہے۔

الغرض گھریلو امریکی معیشت میں سحر طاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ چین اپنے کاروبار سے فائدہ اٹھا رہا ہے، تاہم تنازعات کے دوران انتقامی کارروائیوں کا خطرہ ہونے کے باوجود چینی کاروباربڑھ رہا ہے۔

About Nazir Naji

Nazeer Naji, is a senior news columnist in Pakistan's Urdu press. He frequently writes in the Daily Dunya. Naji has a reputation for his in-depth political analysis and strong criticism of the Pakistani Establishment.

Nazir Naji is also a former chairman of the Pakistan Academy of Letters. He is also famous for his anti mulaism and anti Jamaat-e-Islami Pakistan. He is the only writer who speaks frequently about Pakistan Army historical blunders and Jamaat-e-Islami role in those blunders. He is also the first one who pointed towards Red Mosque (fitna) secession.

He is considered as a true journalist in Pakistan and one of few who are not on military establishment payroll. Many of Nazir Naji's predictions have turned out to be true including India and Us nuclear deal.