Sunday, 22 September 2019

Kashmir Ki Kahani Aur Pani (2)

ابھی ڈی وی آئر کے مشکوک کردار کا ہی سوچا جا رہا تھا کہ کانگریس کیلئے خوشیوں کا اس طرح ڈھیر لگ گیا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن نے کانگریس سے اپنے رابطے اور تعلقات بہتر رکھنے کیلئے ریفارمز کمشنر وی پی مینن کو اپنا پرسنل سیکرٹری مقرر کر دیا۔ یہ بالکل ایسے تھا، جیسے سردار پٹیل وائسرائے ہند کے سیکرٹری کے طور پر کام کر رہا ہو، کیونکہ مینن اور پٹیل کی گاڑھی چھنتی تھی، جب مینن کے متعلق مائونٹ بیٹن نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری سر جارج ایبل سے معلومات لیں، تو انہوں نے بتایا کہ مینن ایک کٹر ہندو ا ور کانگریسی ہے، اس وقت بھی وہ سردار پٹیل کو حد بندی کی بریفنگ دیتا ہے۔ وی پی مینن کی تقرری کے بعدآل انڈیامسلم لیگ کو یقین ہوجانا چاہیے تھا کہ مائونٹ بیٹن '' کانگریسی" ہو چکا ہے، کیونکہ مینن کو وہ اپنی سٹڈی سے بیڈ روم تک بریفنگ کیلئے لے جانا شروع ہو گئے تھے اور اس میں بے شک لیڈی مائونٹ بیٹن کا ہاتھ بھی تھا۔

مائونٹ بیٹن نے برطانیہ سے فائنل بائونڈری لائن کی منظوری کیلئے لارڈ اسمے کو لندن بھیجا اور ان کی مدد کیلئے وی پی مینن کی خدمات فراہم کی گئیں۔ ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے لندن سے آنے والی اور یہاں سے جانے والی ہر رپورٹ، ہر فائل اور کاغذ ڈی وی آئر اور وی پی مینن سے ہو کر نہرو اور پٹیل کے پاس جا رہا تھا اور یہ شب خون اس وقت مارے جا رہے تھے، جب سر ریڈ کلف نے پنجاب کی حد بندی مکمل کرتے ہوئے اس کی تمام بائونڈری لائن مکمل کر لی تھی اور اس حد بندی میں فیروز پور کا علا قہ پاکستان کے حصے میں آ رہا تھا۔ گورنر پنجاب سر ایون جنکنز نے سر جارج ایبل کو خط لکھتے ہوئے درخواست کی کہ مجھے پاکستان اور ہندوستان کی حد بندی لائن کے بارے میں تفصیل سے بتایا جائے، تاکہ میں اس کے مطابق، ان علا قوں میں فوج کو تعینات کر سکوں، جہاں فسادات اور قتل و غارت کا امکان ہو سکتا ہے۔ اس خط پر سر جارج نے مجھے حدبندی کی تفصیلات دینے کو کہا، جس پر میں نے تقسیم پنجاب کی حد بندی کا نقشہ سر جارج ایبل کو دے دیا، جسے انہوں نے گورنر پنجاب سر ایون جنکنز کو بھجوا دیا، لیکن اس سے پہلے چٹاگانگ ہل کی طرح فیروز پور کے بارے میں بھی آئر نے وی پی مینن کو آگاہ کر دیا، جو بعد میں بھارت کے صدر بنے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ گیارہ اگست کی آدھی رات کے بعد وی پی مینن وائس ریگل ہائوس کے بیرونی دروازے پر پہنچے اور وہاں کھڑے گارڈ اور چپڑاسی نے انہیں اندر بھجوا دیا۔ اس وقت میں( کرسٹو فر) اور ریڈ کلف وائس ریگل ہائوس میں حد بندی کے کام میں مصروف تھے۔ ان کے آنے کی اطلاع پر میں باہر گیا تو وی پی مینن نے ریڈ کلف سے فوراً ملنے کی درخواست کی۔ میں نے نرمی سے انہیں سمجھا یا کہ وہ اس وقت آپ سے نہیں مل سکتے۔ وی پی مینن نے کہا کہ سر ریڈ کلف کو بتا دیں کہ مجھے لارڈ مائونٹ میٹن وائسرائے ہند نے بھیجا ہے، لیکن اس کے با وجود میں نے نہایت شائستگی سے انکار کر دیا، جس پر وہ خاموشی سے چلے گئے۔ اگلی صبح ناشتے پر میں نے سر ریڈ کلف کو وی پی مینن کی رات گئے آمد سے آگاہ کر دیا، جس پر وہ خاموش رہے۔ دن چڑھے سر ریڈ کلف نے مجھے بتایا کہ شام کو وہ لارڈ مائونٹ بیٹن کے پرائیویٹ سیکرٹری لارڈ اسمے کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ پر جا رہے ہیں، جو برطانیہ سے خصوصی ہدایات پر لارڈ مائونٹ بیٹن کی معاونت کیلئے ہندوستان پہنچے ہیں، لیکن ریڈ کلف نے یہ کہہ کر مجھے حیران کر دیا کہ انہیں وائسرائے ہائوس سے پیغام دیا گیا ہے کہ آپ اکیلے آئیں اوراپنے پرائیویٹ سیکرٹری کرسٹو فرکو ساتھ لانے کی زحمت نہ کی جائے، جس کی وجہ یہ بتائی گئی کھانے کی میز چھوٹی ہونے کی وجہ سے زیا دہ آدمیوں کا وہاں آنا مناسب نہیں ہو گا، لیکن یہ عذر غلط تھا اور میں جانتا تھا کہ اس کی وجہ رات وی پی مینن کی سر ریڈ کلف سے ملاقات نہ کروانا ہے۔

اور یہی وہ رات کا کھانا تھا، جس کی بعد میں ملنے والی تفصیلات سے معلوم ہوا کہ مائونٹ بیٹن کی ہدایات پر لارڈ اسمے کو لندن بھیج کر گورداسپور کا علا قہ بھارت میں شامل کرانے کی منظوری کی خوشی میں عشائیہ دیا گیاتھا۔ کرسٹو بیومونٹ کے مطا بق، تقسیم ہند کے عمل کے ساتھ ہی ان کا کام مکمل ہوجانے پر اٹھارہ اگست کو وہ واپس برطانیہ جا رہے تھے، اس لیے ان کے اعزاز میں دی جانے والی الوداعی دعوتوں میں ان کی موجودگی ضروری تھی۔ ۔ ۔ ۔ اُس رات جب ریڈ کلف واپس آئے، تو وہ خاموش تھے، ان سے معلوم ہوا کہ پنجاب کی حد بندی میں آنے والے وقت کی جغرافیائی سٹرٹیجی کے پیش نظر پاکستان سے '' زیا دتی" کی جا رہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گورداسپور کے بعد فیرو زپور کا ہیڈ ورکس کانگریسی ہندوئوں کے گلے کی ہڈی بنا ہوا تھا اور آدھی رات کے وقت وی پی مینن مشن کی ناکامی کے بعد پنڈت نہرو لارڈ مائونٹ بیٹن سے ملے اور اسے مجبور کیا کہ وہ ذاتی طور پر ریڈ کلف ایوارڈ کی حد بندی تبدیل کرواتے ہوئے فیروز پور کو ہندوستان میں شامل کریں، کیونکہ اگر فیروز پور ہیڈ ورکس پاکستان کو مل جاتا ہے، تو پوری ریا ست بیکانیر جس کا راجہ مائونٹ بیٹن کا ذاتی دوست ہے، پانی کی بوند کو ترس جائے گی۔

نہرو نے لارڈ اسمے کے کھانے میں ریڈکلف کو پیغام بھیجا '' اگر آپ نے ہماری درخوا ست مسترد کرتے ہوئے، فیروز پور پاکستان کے حصے میں جانے دیا تو بیکانیر کے پانی کیلئے ہم بزور طاقت پاکستان سے فیروز پور ہیڈ ورکس چھین لیں گے اور پھر یہ جنگ بہت دور تک جا سکتی ہے۔ دوسری طرف پنڈت نہرو، مہاراجہ بیکانیر اور تخت برطانیہ کی ہدایت پر لارڈ اسمے کے ذریعے لارڈ ریڈ کلف سے پنجاب کی حد بندی میں آخری وقت میں تبدیلی کرواتے ہوئے فیروز پور ہیڈ ورکس بھارت کے حوالے کر دیا۔ یہ ہوتی ہے قیا دت، اسے کہتے ہیں اپنی قوم سے محبت، ایک طرف بھارتی سیا ستدان ہیں، جنہوں نے اکٹھے ہو کر ایک زبان ہو کر گورداسپور کے ذریعے کشمیر کے تین دریائوں کا پانی اور ریا ست بیکانیر کی ہریالی کیلئے فیروز پور ہیڈ ورکس واپس لینے کیلئے نہ جانے کون کون سے جتن کئے، جبکہ دوسری طرف ہمارے موجودہ سیا ستدان ہیں، جن کے سامنے بھارت 90 سے زائد ڈیم تعمیر کر تارہا، اور اب چناب، جہلم اور انڈس کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔

ان تینوں دریائوں کو بہتا دیکھ کر سب کو اندازہ ہو رہا ہو گا کہ ابھی بھارت نے اپنے تمام بیراج، ڈیم اور پاور ہائوس مکمل نہیں کیے، لیکن جب کھربوں ڈالر کے اس کے نئے ڈیمز کے پراجیکٹس مکمل ہو جائیںگئے تو پورا پاکستان پانی کیلئے ترسے گا۔ ایک طرف جہاں ہمارے کھیت پانی نہ ہونے سے ویران ہوں گے، وہیں پانی کا لیول اس حد تک کم ہو جائے گا کہ پینے کیلئے بھی نہیںملے گا۔ یہ کوئی لفا ظی نہیں، حقیقت ہے۔ یہ وہ کڑوا سچ ہے، جس سے پنجاب کے سابقہ حکمرانوں کے بعد موجودہ حکمران بھی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔

نہرو نے لارڈ اسمے کے کھانے میں ریڈکلف کو پیغام بھیجا ''اگر آپ نے ہماری درخوا ست مسترد کر کے، فیروز پور پاکستان کے حصے میں جانے دیا تو بیکانیر کے پانی کیلئے ہم بزور طاقت پاکستان سے فیروز پور ہیڈ ورکس چھین لیں گے اور پھر یہ جنگ بہت دور تک جا سکتی ہے۔ "