Sunday, 22 September 2019

Khalistan Nahi Rajasthan

بھارت کا یوم آزادی پاکستانیوں اور کشمیریوں کے علاوہ خالصتان کے حامیوں نے یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے جو کچھ کیا ہے، اس اعتبار سے تو بھارت کا ہر دن ہی یوم سیاہ ہونا چاہیے لیکن بہرحال علامتی طور پر ایک یوم سیاہ ہی کافی ہے۔ اس روز خالصتان کی حامی ایک تنظیم نے خالصتان کا نقشہ جاری کیا جسے دیکھ کر حیرت ناک قسم کا لطف آیا۔ یا تو یہ نقشہ جاری کرنے والی تنظیم فیک ہے اور اگر فیک ہے تو ضرور یہ نقشہ جاری کرنے کا آئیڈیا ان حضرات کو روایتی بارہ بجے آیا ہو گا۔ دوسری صورت میں سرداروں کی کوئی بھی قسم، لسی نما مشروب جتنا چاہے پی لے، اس طرح کا نقشہ جاری نہیں کر سکتی تھی۔ ملاحظہ فرمائیے۔ سکھوں کے دنیا میں واحد صوبے مشرقی پنجاب کو اس نقشے میں شامل ہی نہیں کیا گیا ہے۔ اسے پنجاب کا نام دے کر بدستور بھارت کے نقشے میں دکھایا گیا ہے اور اس کے بجائے اس کے پڑوسی صوبہ راجستھان کا نام کاٹ کر وہاں خالصتان لکھ دیا گیا ہے۔ ٭٭٭٭٭مشرقی پنجاب وہ جغرافیاتی اکائی ہے جہاں دنیا بھر کے 80فیصد سکھ آباد ہیں۔ باقی کے 20فیصد پڑوسی صوبوں ہریانہ، ہما چل، کشمیر دوسرے بھارتی علاقوںاور دنیا بھر میں آباد ہیں۔ یہی سکھوں کی تاریخ ہے اور یہیں ان کے سب سے زیادہ مقدس مقام جن میں سنہری گوردوارہ بھی شامل ہے اور اسی کو خارج از خالصتان کر دیا۔ اس کی جگہ ایسے صوبے کو خالصتان کا نام دے دیا جس کی تاریخ اور جغرافیے سے سکھوں کا کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔ یہاں محض اسی نوے ہزار سکھ آباد ہیں۔ آٹھ کروڑ آبادی کا راجستھان رقبہ کے لحاظ سے بھارت کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہاں سکھوں کا کوئی مقدس مقام بھی نہیں۔ سکھوں کے لئے اس صوبے کی واحد افادیت یہ ہے کہ ان کے تجارتی ٹرکوں کے قافلے دلی اور پنجاب سے مال لے کر گجرات اور مہاراشٹر جاتے ہیں تو راجستھان سے گزر کر جاتے ہیں۔ اسی ناطے بہرحال یہاں بعض مقامات پر ان کی آباد کاری بھی ہو گئی ہے۔ جیسلمیر اور بیکانیر سمیت کئی شہروں میں ان کے محلے ہیں اور سرحدی علاقے میں تو کئی دیہات بھی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سکھوں نے یہ نقشہ جاری کر کے بھارت سرکار کو چتائونی دی ہو کہ اگر تم ہمارے پنجاب کو خالصتان نہیں بننے دو گے تو ہم راجستھان کو ہی خالصتان بنا دیں گے۔ تان اور ستھان کا تال میل تو بنتا ہی ہے۔ ٭٭٭٭٭راجستھان مسلمانوں کے لئے سکھوں کی نسبت کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں اجمیر شریف ہے، بیس بائیس لاکھ آبادی کے شہر میں یوں تو مسلمانوں کی آبادی بارہ پندرہ فیصد ہی ہے لیکن درگاہ شریف کے اردگرد کے علاقے کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ہم کسی مسلمان شہر میں آ گئے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ یہاں تاریخ مغل اور سلاطین دور کے عہد میں کھڑی ملتی ہے۔ ہندوستان کی سرزمین پر خدا کے بندوں سے پیار کرنے والے بہت سے عظیم المرتبت خدا کے بندے آئے۔ اپنی جگہ سب کی عظمت ہے لیکن اجمیر کے خواجہ کو سب پر بالاتری حاصل ہے کہ انہیں ہندمیں جانے کا حکم خود رسالت مآبؐ نے دیا (عالم رویا میں) فرمایا! جائو ہند میں اسلام پھیلائو۔ چنانچہ ایرانی بلوچستان(سیستان) سے چلے اور اجمیر آ کے ٹھہرے اور اس مقام کو عالمگیر اور ابدی شہرت دیدی۔ اجمیر کے علاوہ بھی راجستھان کے کئی شہر مسلمانوں کے تہذیب مراکز ہیں۔ سب سے قابل ذکر جے پور ہے، جو صوبے کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ 1947ء میں یہاں سے بڑی تعداد میں مسلمان ہجرت کر کے پاکستان آ گئے، پھر بھی یہاں کی 20فیصد آبادی مسلمان ہے اور قدم قدم پر مسلمانوں کے تہذیبی جزیرے نظر آتے ہیں۔ صوبہ بھر میں لگ بھگ ایک کروڑ مسلمان ہیں۔ راجستھان جغرافیائی اور نسلی تنوع اور رنگا رنگی کے لحاظ سے بھارت بھر کا منفرد صوبہ ہے۔ یہاں وسیع صحرا ہیں(صحرائے تھر کا ساٹھ فیصد رقبہ راجستھان، باقی پاکستان میں ہے) صحرائوں میں جنگلوں کے نخلستان ہیں۔ جنگل پہاڑوں سے، پہاڑ وادیوں سے ملتے ہیں۔ اجمیر مسلمان صوفیوں کا قلعہ ہے اورہندو سادھوئوں اور سنتوں کا ڈیرہ۔ یہاں سرائیکی، ہریانوی، پنجابی، سندھی، گجراتی قوموں کا خلا ملا اتنا زیادہ ہے کہ کبھی تو فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وسط اور مغرب کے ہندی بولنے والے راجستھانی لباس اور وضع قطع سے سندھی لگتے ہیں۔ آپ سمجھیں گے کہ ابھی یہ ملائم اور شیریں سندھی زبان بولے گا لیکن اس کے منہ سے لٹھ مار راجستھان ہندی برآمد ہونے پر ایک بار تو آپ بوکھلا جائیں گے۔ لیکن جلد ہی اس لہجے میں چھپی مٹھاس بھی آشکار ہو جائے گی۔ شمال مشرقی راجستھان یوپی کا حصہ لگتا ہے یہاں کی ہندی اور اس کی متوازی اردو دہلی، میرٹھ، علی گڑھ، متھرا اور آگرہ کی بول چال لگے گی اور رہن سہن بھی وہی جوں جوں مغرب کو جائیں گے، سندھی کا رنگ نمایاں ہوتا جائے گا۔ سندھ کی لازوال گلوکارہ بھاگ بھری مرحومہ(عرف مائی بھاگی) نے راجستھانی گانا "کھڑی نیم کے نیچے" ایسے گایا کہ اسے زندہ جاوید کر دیا۔ (بھاگ بھری تھر کے علاقے مٹھی سے تعلق رکھتی تھیں)راجستھان رواداری کے لئے مشہور تھا۔ یہاں کے لوگ ہندو مسلم فسادات کے کلچر سے دور تھے لیکن اب بی جے پی کا زہر یہاں بھی دھیرے دھیرے سرایت کر رہا ہے۔ مسلمانوں کیخلاف تشدد کے واقعات ہوئے ہیں جن کی ویڈیوز نے لرزا کر رکھ دیا۔ خدا خواجہ اجمیرؒ کی اس پسندیدہ سرزمین کو گجرات اور مہاراشٹر بننے سے بچائے۔