Sunday, 22 September 2019

Das Litter Pani Rozana?

مجھے میڈیکل سائنس میں انتہائی دلچسپی ہے اور میں اکثربڑے نامی گرامی ڈاکٹر حضرات سے مل کر سوالات کرتا رہتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیکل سائنس کی کئی بنیادی باتوں کو میں سمجھتا ہوں۔ میں ایسے لوگوں پر بھی ریسرچ کر چکا ہوں جو لاعلاج بیماریوں کو ٹھیک کرنے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ چند روز قبل میں نے ایک کالم لکھا تھا، جس کا عنوان تھا ''گرم پانی سے علاج "۔ ایک تحریر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی، جس کے مطابق سب بیماریوں کا علاج نہار منہ چار گلاس گرم پانی پینے سے ہو سکتا ہے۔ میں نے دلائل سے ثابت کیا کہ اگر کینسر، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، مرگی اور گردوں کا علاج صرف گرم پانی پینے سے ممکن ہوتا توترقی یافتہ ممالک میں ہسپتال ختم ہو چکے ہوتے اورمریضوں کو حکومت کی طرف سے ہدایات دی جاتیں کہ گھر بیٹھ کر گرم پانی پیتے رہیے، جلد ہی آپ صحت یاب ہو جائیں گے۔ جبکہ ایک پیغام میں الائچی سے ساری بیماریاں دور ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔

میں نے موٹاپے پر بھی کافی کام کیا ہے۔ دو سال پہلے میں نے گیارہ کلو گرام وزن کم کیا۔ عالمی معیار کے مطابق وزن کم کرنے میں ورزش کا کردار دس سے بیس فیصد تک ہوتاہے، جبکہ اسّی سے نوّے فیصد جو چیز اہم ہوتی ہے، وہ خوراک (Diet) ہے۔ جب تک آپ کھانا کم نہیں کریں گے، آپ وزن گھٹا نہیں سکتے۔ ورزش سے وزن وہی لوگ کم کرتے ہیں، جو پروفیشنل ایتھلیٹ ہوتے ہیں۔ ویسے کم از کم چند منٹ ایسی ورزش، جس میں دل کی دھڑکن تیز ہو، جسمانی و ذہنی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے، جبکہ قد بڑھنے کی عمر کے بعد اپنا وزن قابو میں رکھنے کے لیے انتہائی احتیاط سے ڈائیٹ پلان ترتیب دینا چاہیے۔ اگر آپ کا وزن بڑھ چکا ہے تو Nutritionistکے مشورے سے اگر آپ 1200 کیلوریز والی خوراک کھانا شروع کر دیں، تو کیا ہی بات ہے۔ میرے چچا زاد عزیر امین نے چھ ماہ اس پر عمل کر کے اپنا سارا اضافی وزن ختم کر ڈالا۔ زیادہ تر لوگ جلد ہی تھک کر ہار مان لیتے ہیں اور پھر پہلے سے بھی زیادہ کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ میں جس ڈائیٹ پلان پر عمل کرتا ہوں، وہ بہت سادہ اور آسان ہے۔ صبح ناشتے میں ایک چپاتی سے کچھ کم، رات کو بھی ایک چپاتی سے کچھ کم۔ درمیان میں دو پھل۔ دو کپ شکر والی چائے۔

ایک مشہور شخصیت نے یوٹیوب پر ایک وڈیو اپ لوڈ کی۔ ان کے مطابق ان کا ایک دوست انتہائی موٹا تھا۔ اس نے ہر قسم کا علاج کرایا، کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ دونوں دوست برطانیہ گئے۔ وہاں ایک جوگی نما سنیاسی بابا نما ٹرینر تھا، جس کا تعلق جرمنی سے تھا۔ اس پراسرار شخصیت کی عمر 96سال جبکہ دیکھنے میں وہ 40کا دکھائی دیتا تھا۔ یہ 96سالہ بابا روز بیس کلومیٹر بھاگتا تھا اور بھاگتے بھاگتے پہاڑ پہ چڑھ جاتا تھا۔ اس بابے نے کہا کہ آپ کو ایک مہینہ میرے ساتھ سخت ورزش کرنا ہوگی۔ اگر نہیں کر سکتے تو 1500پائونڈ کے عوض ایک راز بتائوں گا، جس سے وزن کم ہو سکتاہے۔ 1500پائونڈلے کر اس نے بتایا: نہار منہ ایک گھنٹہ آہستہ آہستہ پیدل چلو۔ دوسری بات یہ کہ روزانہ کم از کم دس لیٹر پانی پینا شروع کر دو۔ یہ صاحب فرماتے ہیں کہ ان دو ٹپس پر عمل کر کے بیس جمع بیس (چالیس دن ) میں میرے دوست کا وزن 85کلو کم ہو گیا۔

یہ وڈیو دیکھتے ہوئے میں حیرت کی شدت سے مرنے والا ہو گیا۔ میرے ناقص علم کے مطابق روزانہ کم از کم دس لیٹر پانی پینے والا شخص اپنی صحت کے ساتھ ایک ایسا کھلواڑ کرنے جا رہا ہے، جس میں اس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ پھر میں نے بڑے بڑے ڈاکٹر ز سے رابطہ کیا، جن سے میرے ذاتی تعلقات ہیں۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ آپ کے جسم کے سیلز اور اعضا کو اپنا کام کرنے کے لیے پانی درکار ہوتاہے۔ لیکن اگر آپ بہت زیادہ پانی پئیں گے تو Water intoxication کا شکار ہو جائیں گے۔ خون میں پانی کی مقدار حد سے زیادہ ہو جائے گی۔ آپ کے خون میں موجودالیکٹرو لائٹس dilute ہوجائیں گے بالخصوص سوڈیم۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اگر سوڈیم کی مقدار 135/mmol/L سے کم ہو گئی تو اس کے بعد آپ کے خلیات پانی کی زیادتی کی وجہ سے سوج جائیں گے۔ اس سے آپ بہت سی بیماریوں، حتیٰ کہ موت کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ سوڈیم ہے، جو کہ جسم میں خلیات کے اندر اور باہر مائع کی مقدار متعین کرتی ہے۔ اگر سوڈیم کم ہو گیا تو حد سے زیادہ پانی خلیات کے اندر داخل ہو کر انہیں سوجنے پر مجبورکر دے گا۔ اگر دماغ کے خلیات سوج گئے تو آپ مر بھی سکتے ہیں۔ البتہ زیادہ تر لوگ مریں گے نہیں بلکہ شدید تکلیف اور اذیت سے گزر کر، لوٹ پوٹ کر آخر کار ٹھیک ہو جائیں گے۔ جبکہ آپ کے وزن میں کسی قسم کی کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔ دماغ کے خلیات جب سوجنا شروع کریں گے تو پہلے توآپ کو متلی اور سر درد ہوگا۔ اس کے بعد یہ علامات ہو سکتی ہیں :ہائی بلڈ پریشر، ایک کے دو نظر آنا، انتہائی سستی، سانس لینے میں دقت، مسلز میں cramps، شدید تکلیف میں ہو سکتا ہے کہ آپ کا سینٹرل نروس سسٹم ہی کام کرنا چھوڑ جائے۔ Water intoxication کے severeکیسز میں آپ کو دورے پڑ سکتے ہیں، آپ کا دماغ مفلوج ہو سکتا ہے۔ آپ کومہ میں جا سکتے ہیں اور آپ کی موت واقع ہوسکتی ہے۔ گردے کے مریضوں کا محاورتاً نہیں، حقیقتاً دنوں میں جنازہ اٹھ سکتا ہے۔

وہ فرماتے ہیں کہ ان دو ٹپس پر عمل کر کے انہوں نے 85کلو وزن کم کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ایلوپیتھی، جس نے ٹی بی سے لے کر کینسر تک کا علاج ڈھونڈا، وہ اس نتیجے تک کیوں نہ پہنچ سکی کہ لوگوں کو انتہائی زیادہ پانی پلا کر ان کا وزن کم کیا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں موٹاپے کا کوئی بھی علاج نہیں ہے۔ اس لیے کہ موٹاپا بیماری ہے ہی نہیں۔ یہ جسم کی ضرورت سے زیادہ کھائی گئی خوراک ہے۔ جس کا واحد حل کم کھانا یا بہت زیادہ جسمانی سرگرمیاں کرنا ہے، جبکہ جو حکیم حضرات لوگوں کا وزن کم کرتے ہیں، وہ ان کو ایسے کیمیکل دیتے ہیں، جو کہ صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہوتے ہیں، لیکن اپنے دوست ڈاکٹر عمران کے مشورے پر میں یہاں ان کا نام نہیں لکھ رہا۔ ان کا فرمانا ہے ''کم از کم دس لیٹر" مطلب یہ کہ زیادہ سے زیادہ پچاس لیٹر؟ خدارا لوگوں پر رحم کیجیے۔ اللہ نے جسم میں پیاس پیدا کی ہے، بھوک پیدا کی ہے، جس سے انسان کو پتہ چل جاتاہے کہ اسے کتنے پانی اور کتنی خوراک کی ضرورت ہے۔ اپنی اور دوسروں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ مت کیجیے۔ ایک طوطا، مینا کی کہانی۔ کون ہے وہ بابا جو دس لیٹر پانی پلا کر لوگوں کو پتلا کر رہا ہے؟ جبکہ میں پورے دعوے سے کہتا ہوں کہ جب تک خوراک کم نہیں ہوگی، آپ دس کیا، سو لیٹر پانی بھی پیتے رہیں، اگر آپ زندہ بچ گئے تو آپ کے وزن میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہوگا، جس طرح کہ پانی میں ڈوبی ہوئی لاش کا ہوتا ہے۔