Sunday, 22 September 2019

Surkhiyan, Matan, Aamad Aamad Aur Hussain Majrooh

میرے جرائم زیادہ، لفظوں میں بیان نہیں کیے جا سکتے: مریم نواز

مستقل نا اہل اور سزا یافتہ سابق وزیراعظم کی سزایافتہ صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ ''میرے جرائم بہت زیادہ، لفظوں میں بیان نہیں کیے جا سکتے" کیونکہ بیشک دستاویزات پر میرے دستخط ہی اتنے ہیں کہ کسی شمار و قطار میں ہی نہیں آتے، پتا نہیں میں نے اتنے ڈھیر سارے دستخط کر کیسے لیے، یقینا یہ دستخط مجھے بہلا پھسلا کر ہی کرائے گئے ہوں گے، اس لیے اگر ایک دستخط کا ایک جرم بنتا ہو تو آپ ٹوٹل کر کے حساب لگا سکتے ہیں کہ ان کی تعداد کتنی ہے۔ جبکہ یہ دستخط بھی پوری تسلی سے کیے گئے لگتے ہیں۔ جس پر مجھے خوش خطی کے نمبر بھی ملنے چاہئیں۔ لیکن آرٹ کی ہمارے ہاں قدر ہی کتنی ہے؟ ورنہ جس طرح اور جن طریقوں سے والد صاحب نے پیسے باہر بھجوائے تھے اس پر انہیں بھی کوئی ٹھیک ٹھاک ایوارڈ ملنا چاہئے جو کم از کم پرائیڈ آف پرفارمنس تو ہونا ہی چاہئے۔ لیکن یہ زمانہ ہی بے قدری کا ہے۔ آپ اگلے روزایک تحریری بیان دے رہی تھیں۔

ڈیل چاہئے نہ ڈھیل، انصاف دیا جائے: اعتزاز احسن

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ''ڈیل چاہئے نہ ڈھیل، انصاف دیا جائے" کیونکہ جب ہمارے قائدین ایک پیسہ بھی واپس کرنے کو تیار نہیں ہیں تو کسی ڈیل یا ڈھیل کا سوال ہی کیسے پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ پیسہ بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے، پتّہ پانی ہو جاتا ہے، اس لیے اپنے خون پسینے کی کمائی سے جدا ہونا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے۔ اس لیے احتساب اداروں کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے، جبکہ زرداری صاحب کو وہ پہلے بھی آزماچکے ہیں اور دس گیارہ سال جیل میں رکھ کر بھی انہیں کچھ نہیں ملا، کیونکہ ان کے خلاف ثبوت کی ساری فائلیں ہی اتفاق سے جل کر راکھ ہو گئی تھیں، جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ واقعی اللہ والے ہیں، اور وہ اس دفعہ بھی کوئی کرامت دکھا سکتے ہیں۔ ع ''پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی" آپ اگلے روز لاہور میں ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔

آمد آمد

ع صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے کہ میں فارم ہائوس سے 80 ایچ بلاک ماڈل ٹائون میں شفٹ ہو چکا ہوں اور اب تک برادرانِ اسلام بالترتیب حسین احمد شیرازی، حسین مجروح، عطا الحق قاسمی اور اقتدار جاوید تشریف لا چکے ہیں جبکہ ڈاکٹر تحسین فراقی، ڈاکٹر ابرار احمد، ڈاکٹر ضیا الحسن، میاں جاوید اقبال ارائیں، میاں محمد جہانگیر ایڈووکیٹ تشریف آوری کی دھمکی دے چکے ہیں۔ اقتدار جاوید صاحب نے بتایا کہ پچھلے دنوں سیّد افسر ساجد سے فون پر بات ہوئی تو وہ آپ کو یاد کر رہے تھے اور آپ کو سلام بھیجا ہے۔ عطا الحق قاسمی بتا رہے تھے کہ ایک بار سید ضمیر جعفری اور میں ایک پہاڑی مقام پر کسی تقریب میں شرکت کی دعوت ملنے پر گئے تو میں نے جعفری صاحب کو بتایا کہ اس پہاڑ پر چڑھ جائیں تو دوسری طرف کشمیر نظر آتا ہے، وہ بولے، چلو چلتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کے لیے یہ ممکن نہیں ہے، ایک تو چڑھائی ہے اور راستہ بھی دشوار گزار، پھر آپ اپنا ماشاء اللہ تن و توش دیکھیں اور پھر بیمار شمار بھی رہتے ہیں، آپ رہنے دیں، لیکن انہوں نے ا صرار کیا کہ ضرور وہاں جانا ہے۔ ابھی ہم نے نصف سے بھی کم فاصلہ طے کیا تھا کہ تھوڑے فاصلے پر ایک پہاڑی وہاں سے گزرا جس نے جاتے جاتے ہمیں اسلام علیکم کہا، میں نے و علیکم سلام کہا تو جعفری صاحب جن کی سانس تقریباً اکھڑ چکی تھی، دو تین لمبے سانس لے کر ہانپتے ہوئے بولے، میری طرف سے بھی اسے وعلیکم اسلام کہہ دیجئے!جس وقت اقتدار جاوید کا فون آیا اور انہوں نے مجھے ساجد صاحب کا سلام پہنچایا تو اس وقت میں کھانا کھا رہا تھا اور ہری مرچ نے میرے منہ میں اُدھم مچا رکھا تھا، تاہم میں نے سی سی کرتے ہوئے انہیں کہا کہ ساجد صاحب کو میرا بھی و علیکم سلام پہنچا دیں اور کہیں کہ کبھی لاہور آنا ہو تو ملاقات کا موقعہ بھی دیں ع

لذیز بُود حکایت دراز تر گُفتم

حسین مجروح آسٹریلیا میں سیر سپاٹا کرتے ہوئے چند ماہ پہلے واپس آئے ہیں۔ تازہ ''مجموعۂ اشعار" کے نام سے حال ہی میں شائع ہوا ہے جس میں صرف شعر ہی شعر ہیں۔ اسے ''کتاب ورثہ" نے چھاپا ہے اور انتساب اپنی اہلیہ مرحومہ کے نام ہے۔ خلجان کے عنوان سے پیش لفظ شاعر کا بقلم خود ہے۔ پسِ سرورق شاعر کی تصویر ہے اور مختصر تعارف۔ کچھ اشعار دیکھئے۔

مُشکلیں سب ہیں شناسائی کے دم سے ورنہ

اجنبیت میں تو آسانی ہی آسانی ہے

پہچان ہی نہ پائے ہیں دل کے یہ بام و در

تیری گلی سے ہو کے جو ہم اپنے گھر گئے

لازم ہے نیا رنگ سخن میں کہ روایت 

تبدیل ہوا کرتی ہے، منزل نہیں ہوتی

مالک ہیں ایسے باغ کے ہم جس کی دُھوپ تک

گروی پڑی ہوئی ہے درختوں، پھلوں کے ساتھ

جانے کدھر گئی وہ آنکھ، جانے وہ خواب کیا ہوا

جن کے لیے خزاں میں بھی باغ ہی سب ہرا ہوا

گزر نہ دل سے میرے موجۂ ہوا کی طرح

کہ یہ دیا تو کسی عذرکی تلاش میں ہے

صدائے درد لگاتا ہوں اس گلی میں جہاں

شگفت ِگل بھی سماعت پہ بار ہوتی ہے

لذّت ِوصل کہ انعام نکل آیا ہے

اُس ٹکٹ پر جو کبھی میں نے خریدا ہی نہیں

وہی مہک تھی ہوا میں سو ہم نے پُوچھے بغیر

پرائے شہر میں اُس کا مکان ڈھونڈ لیا

کانٹوں کو چُومتی ہے خجالت بھری ہوا

اے راہِ شوق! تیرے مسافر کدھر گئے

بھرا ہوا ہے مئے شوق سے پیالۂ جاں

کچھ اس طرح کہ چھلکنے پہ اور بھر جائے

آج کا مطلع:

جو تھے غریب اب اُن کو امیر تو دیکھو

رہا کئے ہوئے اپنے اسیر تو دیکھو