Sunday, 08 December 2019

Garam Pani Aur Motapa

انسان کو جو چیز انسان بناتی ہے، وہ دوسروں کے لیے اس کی دردمندی ہے۔ دردِ دل رکھنے والے جب کسی مفید چیز سے آگاہ ہوتے ہیں تو وہ دوسروں کو بھی اس کے بارے میں بتاتے ہیں۔ گرم پانی سے علاج کے متعلق میں یہ تحریر پڑھیے، جو سوشل میڈیا پر کافی عرصے سے زیر گردش ہے: "خالی پیٹ گرم پانی پینے سے موذی بیماریوں کا بڑا ہی آسان علاج۔ صدقہ جاریہ سمجھ کر آگے شیئر کیجئے۔ گرم پانی سے علاج ؛دل کے مشہور سپیشلسٹ کا فرمانا ہے جس تک یہ تحریر پہنچ جائے، اگر وہ آگے پہنچائے گا تو کافی لوگوں کی نجات اورزندگی بچانے کا سبب بنے گا۔ آپ کو یقین نہیںآئے گا، جاپان میںڈاکٹرو ں کی ایک بڑی جماعت نے یہ اعلان کیا کہ گرم پانی سے علاج کے سو فیصد نتایج حاصل ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند ایک یہ ہیں ؛شدید سر درد، مائیگرین، ہائی بلڈ پریشر، خون کی کمی، جوڑوں کا درد، دل کی دھڑکن کا ایک دم تیز یا آہستہ ہوجانا، مرگی، کولیسٹرول، شدید کھانسی، بے چینی، گلا درد، دمہ، کالی کھانسی، رگوں کا بند ہونا، مثانہ، پیشاب اور اس سے مربوط ساری بیماریاں، معدے کا ترش ہوجانا، زخمِ معدہ، بھوک کم لگنااور ہر بیماری جو آنکھ کان گلے سے مربوط ہے۔

طریقہ علاج :ہر روز صبح جلدی اٹھیں اور نہار منہ 160 سی سی کے تقریباً 4 گلاس پئیں۔ پانی گرم ہو، لیکن اتنا نہیں کہ زبان جلادے۔ گرم کے نزدیک ہو۔ ایک احتیاط پانی پینے کے بعد 45 منٹ تک کچھ بھی کھانا پینا نہیں۔ اور، پھر ہر کھانے کے دو گھنٹے بعد تک پانی بالکل نہیں پینا۔ بعض لوگ ابتداء میں 4 گلاس نہیں پی سکتے تو وہ آہستہ آہستہ اس کو 4 گلاس تک پہنچائیں۔ پانی سے مختلف بیماریوں کا علاج معین مدت میں ثابت ہوچکا ہے اور وہ کچھ یوں ہیں:

شوگر 30 دن، بلڈ پریشر30 دن، معدے کے تمام مسائل 10 دن، ہر قسم کا کینسر 9 مہینے، رگوں کی بندش 6 مہینے، کم بھوک لگنا 10 دن، مثانہ اور اس سے متعلقہ بیماریاں 10 دن، ناک کان گلا 20 دن، خواتین کی بیماریاں 15 دن، دل اور اس سے متعلق بیماریاں 30 دن، شدید سر درد مائیگرین 3 دن، خون کی کمی 30 دن، کولیسٹرول 4 مہینے، مرگی اور فالج، ضمانت کے ساتھ9 ماہ، سانس دمہ کی مشکلات 4 مہینے۔ طب قدیم میں بھی ناشتے سے پہلے گرم پانی بہت فوائد کا حامل بتایا گیا ہے۔ بوعلی سینا کا کہنا ہے :ٹھنڈا پانی آپ کو اگر جوانی میں بیمار نہ کرے توجوانی کے بعد ضرور سخت ترین بیمار کردے گا۔ ٹھنڈا پانی دل کی 4 رگوں کو جوڑدیتا ہے۔ ہارٹ اٹیک کا سبب بنتا ہے۔ ٹھنڈا پانی جگر کی نابودی کا سبب بنتا ہے۔ جو لوگ جو جگر ٹرانسپلانٹ کے منتظر ہیں، اس کا اصلی سبب یہی ٹھنڈا پانی ہے۔ در اصل ٹھنڈا پانی معدے کے اندرونی پردوں کو متاثر کرتا ہے اور شوگر کا سبب بنتا ہے۔ ٹھنڈا پانی معدے اور بڑی آنت کو نقصان پہنچا کر کینسر کا سبب بنتا ہے"۔ آخر میں وہ کہتاہے کہ اس پیغام کو صدقہ جاریہ سمجھ کر آگے شیئر کرتے جائیں۔

پندرہ سال پہلے مجھے ایک دوست نے کہا تھا کہ وہ نہار منہ پانی کے چار گلاس پی رہا ہے اور اسے محسوس ہورہا ہے کہ اس کے موٹاپے میں کمی آرہی ہے۔  

میں اس تحریر میں سے چند سوالات اور تبصرے کر رہا ہوں۔ اس تحریر کو آگے شیئر کرنے سے پہلے انہیں لازما پڑھ لیجیے:۔

1۔ دل کا وہ مشہور سپیشلسٹ کون سا ہے؟ اس کا نام کیا ہے؟ وہ کس ہسپتال میں مریض دیکھتا ہے۔ جاپان میں ڈاکٹروں کی وہ بڑی جماعت کون ہے ؛اگر، کسی تحقیق میں گرم پانی سے مائیگرین، ہائی بلڈ پریشر، خون کی کمی، جوڑوں کے درد، دل کے امراض، مرگی اوردوسری بیماریوں کا علاج دریافت ہوا ہے تو یہ تحقیق کس جریدے میں شائع ہوئی؟ 

جن تحریروں میں اس طرح کے دعوے کیے جاتے ہیں، ان میں کبھی بھی کسی کا حوالہ موجود نہیں ہوتا۔ ہسپتال، ڈاکٹر کا نام اور یہ کہ تحقیق کس جریدے میں شائع ہوئی۔

2۔ میرے ناقص علم کے مطابق، گرم پانی پینے سے مرگی کے علاج میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی مدد نہیں مل سکتی۔ اس لیے کہ مرگی دماغ میں ہوتی ہے اوروہاں گرم پانی تو کیا خون بھی بلڈ برین بیرئیرسے اچھی طرح چھان کر بھیجا جاتا ہے۔ یہ بلڈ برین بیرئیر کیا ہے۔ یہ ایک چھاننی ہے۔ دماغ بہت نازک چیز ہے، جس کی حفاظت کے خصوصی بندوبست کیے گئے ہیں۔ یہی صورتِ حال مائیگرین کی ہے۔ مائیگرین کی ایک ہزار قسم کی وجوہات اور triggersہوتے ہیں، جن میں پریشانی سے لے کر گرم موسم تک شامل ہیں۔  

3۔ ہائی بلڈ پریشر اور خون کی کمی میں زیادہ پانی پینا کچھ افاقہ کر سکتا ہے، لیکن اس میں گرم اور ٹھنڈے پانی کی تخصیص نہیں ہے۔  

4۔ ٹھنڈا یا گرم پانی پینے سے بے چینی کم نہیں ہوتی، بلکہ یہ صبر سے، علم سے اور ضرورت پڑنے پر ادویات سے کم ہوتی ہے، جب کہ دلوں کا حقیقی سکون توصرف خدا کی یاد میں ہے۔  

5۔ زیادہ ٹھنڈا پانی گلے کی خرابی کا باعث بن سکتاہے۔

6۔ بند رگیں صرف گرم پانی سے نہیں کھل سکتیں، بلکہ ان کے لیے چربی کم کرنے والی ادویات درکار ہیں؛اگر، یہ رگیں بالکل ہی بند ہو جائیں تو پھر سٹنٹ ڈال کر ہی انہیں کھولا جا سکتاہے۔  

7۔ اگر دل کمزور ہو چکا یا پھیل چکا ہے تو گرم پانی پینے سے وہ ٹھیک نہیں ہو سکتا، خواہ انسان پانی پی پی کر ڈرم بن جائے۔  

8۔ گرم پانی پیتے رہنے سے شوگر ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ شوگر کے لیے آپ کو جسمانی سرگرمی، ادویات اور خوراک میں احتیاط کرنی پڑے گی ؛ البتہ مستقبل میں شوگر اور موٹاپے کا ایک cureآنے والا ہے۔

9۔ اگر، معدے میں، بلکہ درست الفاظ میں نظامِ انہضام میں کہیں السر ہے، زخم ہیں تو وہ صرف گرم پانی سے مندمل نہیں ہو سکتے۔ یا توآپ کا جسم خود ان کی مرمت کرنے کی کوشش کرے گا یا پھر آپ دوا لے کر اپنے جسم کی مدد کریں گے۔  

10۔ گرم پانی پینے سے کینسر کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتا؛البتہ یہ ممکن ہے کہ آپ گرم پانی سے علاج کرنے کے چکر میں، جو 9ماہ ضائع کریں، اس میں وہ اگلی سٹیج میں داخل ہو جائے۔ کینسر کا علاج بر وقت ناگزیر ہے۔  

11۔ جگر ٹھنڈے پانی سے خراب نہیں ہوتا، بلکہ گندے پانی میں ہیپاٹائٹس کے جرثومے سے خراب ہوتاہے۔  

12۔ فالج سے جب سینٹرل نروس سسٹم تباہ ہو جائے، تو اسے کوئی بھی ٹھیک نہیں کر سکتا ہے۔ دنیا میں اس کا کوئی علاج موجود نہیں ہے۔

پانی زندگی ہے، چاہے وہ گرم ہو یا ٹھنڈا۔ وہ ہاضمے میں مدد کرتا ہے، خون کی صفائی میں گردوں کی مدد کرتا ہے۔ ہمارے جسم میں اللہ نے ایک ایسا نظام بنایا ہے کہ آپ ٹھنڈا کھائیں یا گرم، جسم اپنا درجہ ٔ حرارت 98.6ڈگری سینٹی گریڈ پر برقرار رکھنا جانتاہے۔ آپ اسے انڈر ایسٹی میٹ نہ کریں؛ اگر، کسی خون آشام بیماری سے آپ کو واسطہ پڑتا ہے تو میڈیکل سائنس کی مدد سے اس کے علاج کی کوشش کریں۔ اس طرح اگر گرم پانی سے موذی بیماریوں کا علاج ممکن ہوتا تو دنیا میں ہسپتالوں کا کوئی وجود ہی نہ ہوتا، بلکہ سب گرم پانی پی کر صحت یاب ہو رہے ہوتے۔  

میرے جس دوست کا خیال یہ تھا کہ نہار منہ چار گلاس گرم پانی پینے سے اس کا موٹاپا کم ہو رہا ہے، وہ صرف خوش فہمی تھی۔ آج بھی وہ اتنا ہی موٹا ہے، جتنا پندرہ سال پہلے تھا۔